بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم کا ہیوسٹن میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا (اسنا) کنوینشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسلام امن کا مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے، مسلمان ناصرف اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں بلکہ پہلے آئے تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہارکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کومجروح کیاجائے، 9/11 سے پہلے تامل ٹائیگرز خودکش دھماکوں میں ملوث تھے، 9/11 کے بعد دہشت گرد حملوں کو اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے، 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کانام دیدیا۔

عمران خان نے ہیوسٹن میں اسنا ISNA کنونشن سے وڈیو لنک پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگوں کو مسلمانوں کی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسےعقیدت کااندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺسے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، بھارتی تنظیم آر ایس ایس کا نظریہ ہٹلر اور موسولینی کی سوچ کاحامل ہے، پاکستان دنیا میں امن کے لیےکوششیں جاری رکھےگا، بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہوگیاہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے، بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی، مقبوضہ وادی میں26دن سے کرفیو نافذ ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کشمیریوں سے حق خودارادیت چھین رہی ہے، بھارت اب سیکولر ریاست نہیں رہا، آرایس ایس کا نظریہ ہندو برتری کا ہے، مودی کا بھارت گاندھی اور نہرو کے ہندوستان کے برعکس ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، نازیوں سے متاثر جماعت بھارت پر قابض ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے فروری کی طرح بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرے گا، خدشہ ہے بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی قدم اٹھاسکتا ہے، ہمیں خدشہ ہے بھارت آزاد کشمیرمیں کارروائی کرے گا، بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا، کشمیر کے باعث 2 نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوچکی ہیں۔

ہیوسٹن میں اسنا ISNA کنونشن سے وڈیو لنک پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے شرکا کو بتایا کہ مسلم ممالک کی قیادتوں سے بھی مسئلہ کشمیر پر بات کی ہے اور انہیں حقائق سے آگاہ کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.