جنگ کی تباہ کاریوں کی کہانی

جنگ کی معاشرے پر معاشی، معاشرتی، اور سیاسی اثرات

تحریر شکیل وحیداللہ خان
جنگ بنیادی طور پر انسانیت کی تباہی اور بربادی کے اصولوں کی بنیاد پر لڑی جاتی ہے تاہم وقت اور حالات جگہ اور فریقین کا تعین کرتے ہیں ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کوشدت سے اس میں ہونے والی تباہی اور بربادی کا احساس ہوا کہ جنگیں انسانی بقاء کے لیئے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر رہی ہیں لہٰذ کچھ ابنیادی اور ضروری اقدامات کے زریعے اسکا تدارک کرکے چند اصول طے کیئے گئے تاکہ مزید نقصان سے انسانیت کو بچایا جاسکے

پاکستان اور ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کے محض ڈیڑھ مہینے بعد یعنی سال1947 میں ہوئی جسے کشمیر جنگ کا نام دیا گیا اور سیکیورٹی کونسل نے 22pril 1948مٰیں ایک قرار دادپاس کرکے دونوں ملکوں کے درمیان Line of control کے نام پر حد مقرر کی جسکے نتیجے میں کشمیر کا ایک حصہ پاکستان میں آیا جبکہ تین حصے بھارت کو ملے اور یوں ایک مستقل جنگ ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے دونوں ملکو ں پر غیراعلانیہ مسلط کی گئی ۔

دوسری جنگ 1965 تیسری جنگ 1971 چوتھی جنگ کارگل میں سال 1999 میں اور اب 2019 میں اور اس سلسلے کو اب ہر صورت رکنا اور روکنا ہوگا ۔ ان حالات کے انتہائی برے اور خطرناک اثرات براہ راست دونوں ملکوں کی معیشت،سیاست اور معاشرے کوزہنی،جسمانی اور نفسیاتی طور پر دیمک کی طرح چاٹ کرختم کر رہاہے ۔ اسکا اندازہ عوام کو نہیں لیکن دونوں ریاستوں کو ضرور ہے ۔

جنگی کھیل ہمیشہ انسانی خون کے عوض جیتی اور ہاری جاتی ہیں ۔ اس خون خرابے میں نقصان ہر صورت ہی غریب اور متوسط طبقہ کا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ یہ براہ راست اسکا ایندھن اور چارہ بننے کے لیئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ یہ طبقہ چاہے عوام سے ہوں یا سول وملٹری اشرافیہ سے لیکن نقصان اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔ جنگوں میں دونوں اطراف سے جاگیردار سرمایہ دار جرنیل اور سول بیروکریسی ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں انکی شہادت تو درکنار انکو خراش تک نہیں آتی شہادت کے درجات عموماًغریبوں لکھا جاتا ہے ۔

اس کشیدگی میں دونوں ملکو ں کی میڈیا کے جارحانہ رویے نے مایوس کن کردار ادا کیا اور تسلسل کیساتھ جنگی جنونیت کو اًبھار دیکر اس جنگ پر پیٹرول چھڑکنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ میڈیا کو احساس ہی نہیں ہوا کہ انکی اس بجگانہ حرکت سے عوام ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ ہار اور جیت کے بیچ جو تباہی اور بربادی انکے نصیب میں لکھی جاچکی ہے وہ ہے کیا ۔ کیوں ایسا کیا گیا اسکا فیصلہ وقت نے خود کرنا ہے ۔

آئیے انسانی زندگی پر اسکے اثرات کا جائیزا ملکر کرتے ہیں ماحولیاتی اثرات کا اگرتجزیہ کیاجائے تو گولہ بارودکا استعمال اورفوجیوں کی آمدورفت جن جن علاقوں میں ہوئی ہو وہاں پر سالہاسال کھیت کھلیان ویران قبرستان کی مانند ہوجاتے ہیں ۔ وہاں پر زراعت تودرکناربارودی سرنگوں اور زہریلی گیسز کی وجہ سے عام لوگوں کی آمدورفت بھی ممکن نہیں ہوتی ۔

معاشی صورتحال اس سے بھی زیادہ غیر یقینی حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ جنگوں کے لیٗے خطیر رقم چاہیئے ہوتی ہے اور یہ رقم نئے ٹیکسوں کی صورت میں ہی پورا کیا جاسکتا ہے ۔ مہنگائی بے لگام گھوڑے کی مانند عوامی خواہشات اور ضروریات کو کچلتے ہوئے عوام کا معاشی قتل عام بڑی بے دردی سے کر رہا ہوتا ہے ۔ GDP کا بڑاحصہ جنگی ضروریات پرخرچ ہوناشروع ہوجاتاہے جس سے کاروبارِ زندگی مکمل طورپرمفلوج ہوکر بنیادی ضروریات کے حصول میں رکاوٹیں اوردشواریوں کا سبب بن جاتے ہیں ۔ عوام کو سال کے 12 مہینے حالت جنگ میں رکھناپڑتاہے ۔

دفاعی بجٹ کو بڑھانے کی راہ ہموارہوجاتی ہے اورعوام کو ذہنی طورپرجنگ کیلئے اتناتیارکردیاجاتاہے کہ وہ اپنا نفع ونقصان سوچے بغیرجنگ لڑنے اور جیتنے کی جستجو میں مگن ہو کر تباہی اور بربادی سے دوچار ہو جاتا ہے آپس میں نفرت بڑھنے سے جنگی جنونیت کو دوام بخشاجاتاہے اورہمیشہ ایک دوسرے کو ظالم ومظلوم ، فاتح ومفتوح اورغالب ومغلوب کی سوچ سے نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں ۔ فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے بلندوبانگ دعوے اوروفاداریوں کیلئے ریلیوں پرریلیاں جلسے اورجلوسوں کا اہتمام کیاجاتاہے ایسے حالات میں انتہاء پسندذہنیت تنظیموں کی شکل میں متحدہوکر اپنے مذموم عزائم اورگندی جنگی سوچ کو پروان چڑھارہے ہوتے ہیں ۔

عوام گھروں سے اسلحہ لہراکر دوسرے ملک کودھمکارہے ہوتے ہیں اس بات سے بے خبرکہ جنگ کا انجام اُن کی تباہی اوربربادی کے سواکچھ نہیں ۔ عوام ان حالات میں شدیدنفسیاتی دباءوکا شکارہوتے ہیں اوراسی دباو کے نتیجے میں نہ صرف اس کے اثرات اُن کے نفسیات کو بے قابوبنادیتے ہیں بلکہ ان جنگوں کے نتیجے میں استعمال ہونے والے گولہ بارود ، بم اورگیسزکا بے دریغ استعمال انسان میں مختلف قسم کی جسمانی اورنفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جس سے وہ ہروقت مارکٹائی، لڑائی جھگڑے، مرنے اورمارنے کی کیفیت سے گزررہاہوتاہے ۔

ہندوستان اورپاکستان کے عوام ان حالات سے گزررہے ہیں اوراس کی تمام ترذمہ داری دونوں ریاستوں پربرابرعائدہوتی ہے ۔ دونوں ریاستوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں یہ جنگیں تباہی اوربربادی کے سواکچھ نہیں دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک ہونے کے باوجودبھی بلاخوف وخطر آپس میں تعلقات غیرضروری طورپرخراب کئے ہوئے ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ دونوں ممالک سنجیدگی سے مزاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہرممکن کوشش جاری رکھے ۔ ان کشیدہ حالات میں SAARC کی معنی خیزاور پراسرار خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے کیونکہ سارک کا کام ہی ایسے وقت میں فریقین کو آپس میں بٹھانا ہوتا ہے ۔

حالیہ کشیدگی میں دونوں طرف کے عوام میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جوچیخ چیخ کر امن کیلئے نکل پڑے تعداد میں نہ ہونے کے باوجودبھی اُنکی آواز میں امن کیلئے جومٹھاس جدوجہداورجستجوکے نتیجے میں دیکھنے کو ملی یقینا نوبل انعام کے حقداردونوں ملکوں کے یہی عوام ٹہرائے جاسکتے ہیں یہ لوگ سڑکوں اورچوک وچوراہوں پر اپنی اپنی ریاستوں سے جنگ نہ کرنے اورامن سے رہنے کی اپیلیں کررہے تھے ۔ دونوں ملکوں کے عوام بھوک اورافلاس سے مررہے ہیں انکی ترقی اورخوشحالی ان کی ریاستوں اورحکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔

پاکستان اورہندوستان کو شمالی کوریا اورجنوبی کوریاکے ساتھ ساتھ جرمنی اوریورپ سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنے اپنے اختلافات بھلاکر عوام کی ترقی اورخوشحالی پراپنی توجہ مرکوزکرکے اُنہیں دنیاکی عظیم ترقو میں اورمملکتیں بنانے میں کوئی کسرباقی رہنے نہیں دیا ۔ پاکستان کو سیکیورٹی ریاست کی بجائے فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کا وقت آپہنچا ہے ۔ موجودہ بیانیہ اب دنیا کو قبول نہیں ۔

جنگی جنونیت سے لیس انتہا پسند زہنیت اور تنظیوں سے جان چھڑاکر ہی ہم دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے کے قابل ہوسکتے ہیں ہندوستان کو بھی انتہا پسند تنظیموں کی نقل و حرکت پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی ۔ کشمیر کا مسلہ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کبھی بھی حل نہیں ہوسکتا انکی مرضی کو شامل کرکے سفارتی اور سیاسی طور پر اسکا حل ڈھونڈا جائے ۔

دونوں ممالک کو مل کرخطے میں مستقل قیام امن کیلئے اپنا اپناکرداربھرپورطریقے سے اداکرناہوگا دونوں ممالک سیاسی اور پارلیمانی وفود بھیجوانے کا سلسلہ شروع کریں اگر دونوں ممالک نے مل کر کام کیاتویقینا نہ تومیڈیاعوام کو گمراہ کرسکے گی اورنہ ہی انتہاء پسندتنظیموں کو اسلحہ لہراکر ایک دوسرے کو للکارکر فتح کرنے کی سوچ سوجے گی ۔

پاکستان کو OIC کے حالیہ کردارسے سبق حاصل کرکے مزیددوسروں پر غیرضروری انحصارسے پرہیزکرکے اپنے اندرکی کمزوریوں اورخامیوں کوختم کرکے اپنے پاءوں پر کھڑاہونے کی اشدضرورت ہے ۔ غلطی اورکمزوریاں چاہے جس طرف بھی ہوں اُس کا خاتمہ سنجیدہ اورحقیقت پسندانہ طریقوں سے کرناہوگا ۔ پاکستان اورہندوستان بشمول افغانستان مزیدجنگیں لڑکر تباہی اوربربادی کے متحمل نہیں ہوسکتے لہٰذا امن کاراستہ ہرصورت اپناناہوگاکیونکہ امن ہوگا توترقی اورخوشحالی کا راستہ کوئی روک نہ پاسکے گا ۔

پاکستان کو اب جنگی جنونیت اور سیکیورٹی سٹیٹ پر مبنی بیانیے کو بدلنا ہوگا اس پیراڈائم میں رہتے ہوئے پاکستان ترقی نہیں کرسکتا لہٰذہ اب ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے ۔ ایک ایسا آئیں جس میں بنیادی انسانی حقوق برابری کی بنیاد پر سب شہریوں کو میسر ہو ۔ جس میں آئیں کی حکمرانی بالا ہو ۔ جس میں ہر ادارے کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونا چاہئے ۔ جس میں ادارے اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں اور آئین کا احترام ہر ادارے اور ہر فرد پر لازم ہو ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.