ماھر نفسیات کی نظر میں استاد کی شخصیت

تعلیم اور نفسیات

ردہ شہباز

(ماہر نفسیات)

شعبہ نفسیات سے وابستہ ہونے کے بعد جب بھی تعلیم کی بات آئی میں نے ہمیشہ طالبعلموں کے رویے اور شخصیت پر زور ڈالا مگر جلد ہی میری توجہ اساتذہ کے رویے اور کردار کے طرف بھی بڑھ گئی کیونکہ کسی بھی قوم اور معاشرے کی تشکیل ایک استاد ہی کرتا ہے یہ ہم نے ہمیشہ سے سن رکھا ہے کہ استاد قوم کا محسن ہے جب بھی ہم اپنے ملک کے کسی نظام کی بات کرتے ہیں خواہ وہ نظام سیاسی ہو معاشی ہو قانونی ہو یا تعلیمی ہو تو اس کی خامیوں کو اچھالنا اور تنقید کرنا ہمارے لئے بہت آسان ہوچکا ہے مگر بطور ماہر نفسیات، میرا اساتذہ سے یا جو لوگ بھی کسی طرح سے شعبہ تدریس سے تعلق رکھتے ہیں ایک سوال ہے کہ کیا ہم بطور معلم اپنی وہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جن کا نظام یا سسٹم سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں؟
آج کے دور میں ہر انسان سسٹم کی بات کرتا ہے۔ سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے؟ ہم نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ ہم بھی تو سسٹم کی ہی کڑی ہیں؟ کیا ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ ہم کب تک سسٹم کا رونا روتے رہیں گے؟ کیا ہمیشہ ہم یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟ اور اپنی زندگی گنوا دیں گے۔ کیا روز قیامت ہم سے ہماری ذمہ داری کا سوال نہیں پوچھا جائے گا ؟

بطور ماہر نفسیات، میرا مشاہدہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں تعلیم، تعلیم نہیں بلکہ بوجھ بن چکی ہے۔طالبعلم مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلا جا چکا ہے۔ اس کا ذہن کتابوں کے بوجھ تلے اس قدر دب چکا ہے کہ وہ اپنے آپ کا جائزہ تک نہیں لے سکتا کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ دوسری جانب قابل رحم، جی ہاں! میں پھر سے دہراؤں گی بہت احترام اور معذرت کے ساتھ کہ ہمارے قابل رحم والدین اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنی تمام خواہشات اور یہاں تک کہ بعض اوقات ضرورتوں پر بھی قابو پاکر اپنے بچے کو مہنگے سکول یا کالج میں تعلیم دلوا رہے ہیں انکا بچہ مستقبل کا آئنسٹائن بننے جارہا ہے۔کہتے ہیں غلط فہمی سے بھی زیادہ خطرناک خوش فہمی ہوتی ہے جوانسانی ذہن کو کبھی حقیقت کی طرف نہیں آنے دیتی۔
بہرحال سسٹم کی بات تو پھر کبھی کریں گے۔ آج بطور ماہر نفسیات ،میری توجہ اساتذہ کے رویے، کردار اور شخصیت پر مرکوز ہے۔آج اپنی اس تحریر میں، میں ایسے نفسیاتی اصولوں پر روشنی ڈالنا چاہونگی جن پر عمل کرنے کے بعد ایک استاد، بہترین استاد بن سکتا ہے۔ان اصولوں کا نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔
پہلا اصول یہ ہے کہ بطور معلم اپنی توجہ اپنے کام پر مرکوز رکھیں۔مکمل فوکس (focus)کے بنا ہم کسی شعبے میں ترقی نہیں کرسکتے۔

انسان کی دنیا وہی چیز ہے جس کی طرف اس کا فوکس(focus) ہے۔ہم سب انسانوں میں قدرتی انفرادیت پائی جاتی ہے۔ ہم سب کی صلاحتیں اور رجحان ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کیوں ایک ہی طرح کے انسان مختلف شعبوں میں کامیاب ہوتے ہیں؟ کیونکہ سب کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔یہ فرق تو قدرتی ھے۔ہم بدل نہیں سکتے ۔مگر ہاں،اپنی صلاحیتوں اور رجحان کو استعمال کرکے ترقی ضرور کرسکتے ہیں اور اپنا نام، اپنی پہچان ضرور بنا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہر انسان کا رجحان مختلف ہے۔اسی لئیے لوگوں کا فوکس بھی مختلف ہوتا ہے۔ساری بات فو کس کی ہے۔ جس کسی نے طب پر فوکس کیا وہ اچھا ڈاکٹر بن گیا۔جس کسی نے قرآن کو سمجھنے پر فوکس کیا وہ ایک اچھا عالم بن گیا اور اسی طرح جس کسی نے تدریس پر فوکس کیا وہ اچھا معلم بن گیا۔

دوسرا اصول موٹیویشن(Motivation) یعنی محرک ہے۔محرک ایک ایسی اندرونی یا بیرونی نفسیاتی طاقت کا نام ہے جو انسان کے رویے کو اس کے مقصد کی جانب لے جاتی ہے۔جب بھی ہم کسی کام پر مکمل طور پر فوکس کرتے ہیں تو اس سے موٹیویشن پیدا ہوتی ہے یعنی کہ کسی کام کو کر گزرنے کی جستجو۔ تو اس طرح کوئی بھی شخص ایک اچھا معلم نہیں بن سکتا جب تک اس میں ایک اچھا معلم بننے کی اور تدریس کی خواہش نہ ہو۔ اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے جس طرح ایک پیاسے شخص کو پانی پینے کی چاہ ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اچھا معلم بننے کے لیے بھی وہ چاہ ضروری ہے۔

معلم کے لیے تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ اپنی وضع قطع پر دھیان دیا جائے۔جس طرح کسی چیز کی پہچان اس کے کور(cover) سے ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایک انسان کی پہچان اس کی وضع قطع سے ہوتی ہے۔ مناسب لباس کا انتخاب کریں۔اپنے آپ کو سنواریں۔ انسان فطرتًا صفائی اور خوبصورتی پسند ہے۔ کیونکہ انسان خود خوبصورت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہےکہ

”تحقیق ہم نے انسان کو خوبصورت پیدا کیا“
(سورۃ التین آیت نمبر 4)
ایک استاد کے لئے چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ وہ گفتگو میں مہارت رکھتا ہو۔ یعنی اس کے کمیونیکیشن سکلزCommunication) skills) بہت اچھے ہوں۔ اگر کوٸ شخص گفتگو میں ماہر نہیں ہے تو وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب نہیں ہوسکتا
خواہ وہ گھریلو معاملات ہوں یا باہر کے معاملات ہوں۔ سائیکو سوشل ریسرچ کے مطابق عمومًا اپنی زندگی میں زیادہ کامیاب لوگ وہ ھی ہوتے ہیں جن کے کمیونیکیشن سکلز بہترین ہوتے ہیں۔یعنی کہ وہ لوگ گفتگو میں ماہر ہوتے ہیں۔گفتگو میں مہارت سے مراد محض بولنا ہی نہیں ہے یا لفظوں کی ادائیگی ہی نہیں ہے۔بلکہ اچھا بولنا اور وقت پر بولنا اور موقع کے مطابق بولنا بھی شامل ہے۔جب تک استاد اس بات پر عمل نہیں کرے گا طالبعلم اس کی بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ پائیں گے۔

میرےمطابق پانچواں اصول مثبت باڈی لینگویج یعنی positive body language ہے۔عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو اس میں محض ہماری زبان کا ہی عمل دخل ہوتا ہے جبکہ نفسیات دانوں کے مطابق ہم جب گفتگو کرتے ہیں تو اس میں 55 فیصد حصہ باڈی لینگویج 38 فیصد حصہ ہمارے الفاظ جبکہ سات فیصد حصہ ہماری آواز اور اس کے اتار چڑھاؤ پر مشتمل ہوتا ہے۔

positive body language ایسی باڈی لینگویج ہے جس میں ذہن اور جسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ سننے والے کو لگے کہ ہم اس سے مکمل طور پر مطمئن اور پرسکون ہو کر بات کر رہے ہیں۔ ایک استاد کی باڈی لینگویج میں گھمنڈ ،سختی، بیزاری ،شدت یا بدتہذیبی نہیں ہونی چاہیے۔ تاکہ طالبعلم مطمئن اور پرسکون ہو کر اس سے علم حاصل کریں۔

اگلا اصول خوداعتمادی ہے۔یہ ایک ایسی طاقت ہے جو ایک انسان سے وہ سب کچھ کروا سکتی ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ایک معلم تب ہیں خود اعتماد ہو سکتا ہے جب اسے اپنے مضمون پر مکمل گرفت ہوتی ہے۔وہ اس میں ماہر ہوتا ہے۔مگر خیال رہے کہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی(over confidence) بھی بھیانک نتائج لاسکتی ہے۔ جب ایک استاد میں خود اعتمادی ہوگی تو اس کے اسٹوڈنٹ بھی خوداعتمادی کا مظاہرہ کریں گے۔

ساتواں اصول استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق کا ہے۔ یہ اس قدر وسیع موضوع ہے کہ اس پر جتنی بھی کتابیں لکھی جایں کم ہیں۔ استاد اور شاگرد کا تعلق مکمل طور پر پروفیشنل ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں اگر یہ تعلق پروفیشنل کی بجائے ذاتی بن جاتا ہے تو دونوں طرف تباہی کا باعث بنتا ہے اور تعلیم کا اصل مقصد زائل ہو جاتا ہے۔ جب بھی کبھی کسی طالب علم کی ذاتی پریشانی پر بات کی جائے تو استاد کو اس کے لئے کونسلر یا گائیڈ بننا ہوگا۔آج کل ماں باپ اور اساتذہ کا عمومًا یہ نئی نسل سے گلا ہے کہ نئی نسل مکمل طور پر بگڑ چکی ہے۔کسی کی بات نہیں سنتی۔ اپنی مرضی کرتی ہے۔بطور ماہر نفسیات میرا آپ سب سے ایک سوال ہے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟اس کی جڑ کیا ہے؟

اکیسویں صدی میں جس تیزی کے ساتھ ٹیکنالوجی میں اضافہ ہوا اسی تیزی کے ساتھ انسانی ذہن میں بھی بہت ساری تبدیلیاں آئیں اور نئی نسل کے رویوں میں بھی بگاڑ پیدا ہوا۔ نسل کے ذہن پر اس کی عمر سے بڑھ کر بوجھ پڑگیا۔ آج ایک چھوٹی سی ڈیجیٹل سکرین کی صورت میں موبائل ہر نوجوان اور ہر طالب علم کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے۔چھوٹی سی ڈبیہ میں پوری دنیا سما چکی ہے۔ جب پوری دنیا ایک طالب علم کی نظروں میں ہوگی تو اس کے ذہن میں بہت سارے سوال اٹھیں گے۔ان سوالوں کے لوجیکل logical جواب اساتذہ اور والدین کی طرف سے نہیں ملیں گے تو رویے میں بگاڑ ایک قدرتی بات ہے۔

آج کا نوجوان ڈانٹ یا مار برداشت نہیں کرتا۔ وہ زمانے چلے گئے جب بچے بزرگوں کی مار کھا کر سدھر جایا کرتے تھے۔ آج کا دور ڈسکشن اور کونسلنگ کا دور ہے۔ ذہانت کا دور ہے۔آج کا دور بچے کو ڈرانے کا دور نہیں بلکہ پہلے بچے کو سمجھنے اور پھر سمجھانے کا دور ہے۔ جب تک استاد طالب علم کے ذہن کو مکمل طور پر نہیں سمجھے گا وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے گا۔

آج کے دور میں بچے کو سننا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ سنانے کی بجائے سننے پر توجہ دی جائے تو مسائل کو بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔ نفسیات دان جسمانی سزا کے سخت خلاف ہیں۔ بلاوجہ تنقید اور ڈانٹ کسی بھی بچے کو سدھار نہیں سکتی بلکہ الٹا اس کی سوچ اور رویے میں بگاڑ پیدا کر سکتی ہے۔

اور پھر آٹھواں اور اہم اصول قول و فعل میں ہم آہنگی کے بارے میں ہے۔ جب تک استاد کے قول و فعل میں تضاد رہے گا بچے کا ذہن بھی الجھا رہے گا۔ معروف ماہر نفسیات البرٹ بنڈورا نے اس بات کو جاننے کے لیے کہ ایک بچہ کسی کے فعل کو دیکھ کر کس قدر سیکھتا ہے، ایک تجربہ کیا۔اس نے چند بچوں کو اکھٹا کیا اور ٹی وی سکرین پر ایک ایسی ویڈیو چلای جس میں چند افراد ایک گڑیا(Bobo doll) کو بری طرح مار رہے تھے
بچوں نے اس ویڈیو کو غور سے دیکھا۔ کچھ دیر بعد بالکل اسی طرح کی گڑیا بچوں کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔اور بچوں کے رویے کا غور سے مشاہدہ کیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچوں نے بھی اس گڑیا کو مارنا شروع کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسان کے ایک عمل کا دوسرے انسان کے ذہن اور رویے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اور وہ اس سے سیکھتا ہے۔ اس طرح ایک اچھے استاد کو بھی اپنے قول و فعل میں تضاد نہیں کرنا چاہیے۔تا کہ بچے اس کے عمل سے سچاٸ سیکھیں۔
یہ تھے وہ چند نفسیاتی اصول جن پر عمل کرنے کے بعد تدریس سے وابستہ لوگ اپنے شعبے میں کامیابی کے سفر پر گامزن ہو سکتے ہیں۔امید کرتی ہوں کہ میری اس تحریر سے آپ ضرور استفادہ کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.