شانگلہ کی یونین کونسل "سرکول” کی پکار !

اٹھائیس ہزار آبادی والی یوسی ہائی سکول سے بھی محروم ہیں، نزدیک ترین ہائی سکول سولہ کلو میٹر فاصلے پر واقع ہے

تحریر:سید عاقب شاہ ہاشمی

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیم و تربیت میں پوشیدہ ہے ، وہ قوم جو تعلیم و تربیت کے میدان میں سب سے آگے ہوتی ہے وہ ترقی کے میدان میں آسمان کی چھوٹیوں کو چھوتی ہے-
میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے, حسرتیں ماتم کناں ہیں کہ میں اس بد قسمت معاشرے کا باسی ہوں جہاں قوم کے ننھے منھے بچے اپنی تعلیم و تربیت کے زمانے میں سسک سسک کر فیکٹریوں،دکانوں،مارکیٹوں، ہوٹلوں میں اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں۔
اگر چہ پورا شانگلہ تعلیم و تربیت کے اعتبار سے پسماندہ ہے تاہم کچھ علاقے ایسے ہیں جن کی تعلیم و تربیت کا راز سن کر آدمی انگشت بدنداں ہوکر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، یوسی سرکول ضلع شانگلہ کے تحصیل چکیسر کے جغرافیائی نقشے کا حصہ ہے یہ ضلع کے سب سے بڑے یوسی ہے جہاں تحصیل بشام ختم ہوتی ہے وہاں سے اس کی حدود شروع ہوکر تحصیل مارتونگ پہ جا پہنچتی ہے ، ایک طرف سے مکمل تحصیل چکیسر کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے جس کی آبادی اٹھائیس ہزار کے لگ بھگ ہے ، لیکن اس کے باوجود اتنے بڑے یوسی کے باسی ابھی تک اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ڈگری کالج تو درکنار ہائی سکول سے بھی محروم ہیں ، یہاں سے ہائی سکول اور ڈگری کالج سولہ کلو میٹر فاصلے پر واقع ہے, جس کی بناء پر یہاں کے طلبہ پرائمری،مڈل تک پڑھ کر تعلیم ہی کو الوداع کہتے نظر آتے ہیں کیوں کہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں ہر شخص غربت کا ستایا ہوا ہے مالی مسائل کے شکار ہے سماجی،معاشی معاشرتی،تعلیمی پسماندگی عروج پر ہے۔

مہنگی کرایہ اور موسم سرما اور سردی کے ایام میں میلوں سفر کرنا ان کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں- چند ہی دنوں کی بات ہے ایک غریب والدہ نے اپنے یتیم بچے کو جو ساتویں کلاس میں تھا سکول سے نکالا تو جب میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ مڈل سکول بہت دوری پر ہے سفر تو یہ پیدل کرسکتا تھا لیکن روزانہ اسے بیس یا تیس روپے دینے ہوتے ہیں جن سے یہ دوپہر کے وقت اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں وہ میرے پاس کہاں ہوتے ہیں کتنا افسوس کا مقام ہے۔

"سترگی بہ دی ڈکی شی دہ غٹو غٹو اوخکو نہ ما کہ درتہ اوکڑی پہ سرکول (یوسی سرکول) کی دہ غربت قیصے ”

مالی مسائل کے شکار،غربت کی وجہ سے یوسی سرکول کے چھیانوے فیصد لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے تعلیم اس قدر مہنگا کردیا ہے کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں اس مہنگائی کے دور میں ایسا علاقہ جہاں غربت اور بے روزگاری عروج پر ہو مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھر کم اخراجات برداشت کریں غربت مہنگائی اور بے روزگاری نے غریب بچوں کو سکولوں سے دور کردیا ہے اور تعلیم انکے لیے خواب بن کر رہ گئی ہے۔جس سے فائدہ اٹھاتے ہویے دوسرے علاقوں کے لوگ جعلی ڈومیسائل بناکر یہاں کے کوٹے پر نوکریاں کر رہے ہیں۔

حکومت زور و شور سے دعوے کر رہی ہے کہ وہ اپنے عوام کی خدمت بہتر طریقے سے کر رہی ہیں پھر انہیں یہ تعلیمی پسماندگی کیوں نظر نہیں آرہی ہے ؟ کیا یہ تعلیم و ترقی کے دعویداروں کے چہروں پر بدنما داغ نہیں؟ یہاں پرائمری اور مڈل سکولوں کی حالت بھی قابل رحم ہے کیوں کہ یہاں ریشنلزیشن پالیسی پر عملدر آمد کھبی ہوا ہی نہیں جس کے مطابق چالیس طلبہ کی تعداد پر ایک استاد ہوتا ہے لیکن یہاں ایک پرائمری سکول میں تعداد ایک سو چالیس ہے.اساتذہ کی تعداد دو ہیں ایک دوسرے سکول میں طلبہ کی تعداد دو سو بیس ہے اور اساتذہ کی تعداد تین پورے یوسی میں یہی صورت حال کا سامنا ہے-

جب طلبہ کی تعداد زیادہ ہو اور اساتذہ کی کمی ہو تو خاک تربیت و تعلیم کا خیال رکھا جاسکے گا یہ الٹا ہی انکے ٹائم ضائع کرنا ہے- کب تک یہاں کے غریب بچے محرومی،کمتری اور تحقیر کے کربناک احساسات میں ڈوب کر سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے۔ صوبائی مشیر تعلیم کی بھاگ دوڑ صرف کوہاٹ اور پشاور تک نہیں ہونی چاہیے یہاں کے عوام اور بچوں کا بھی حکومت پر اتنے حقوق ہیں جتنے کوہاٹ اور پشاور کے عوام اور بچوں کے ہیں.

اگر حکومت یہاں کے ننھے منھے بچے جنکی آنکھیں تعلیم و تربیت کے لیے ترستی ہیں کہ معجزہ رونماء ہوجایے یا ایسا مسیحا مل جایے جو حالات کا رخ بدل ڈالے کے لیے جینے کے لیے اسباب پیدا کریں اور انہیں تعلیم مفت فراہم کریں جو انکا بنیادی حو ہے تو کیا بعید ہے کہ یہاں کے بچے وطن عزیز کے معمار بن کر ملک و ملت کا نام روشن کریں۔ آج کے بچے ہی پاکستان کا مستقبل ہے خدارا مستقبل کو بچا لیجیے۔ صاحب اقتدار انہی بھی اپنے بچوں کی طرح محبت اور اہمیت دیں انہیں کسی فیکٹری کا ملازم اور کسی ہوٹل،ریسٹورنٹ کے ٹیبل مین بنانے کی بجایے معاشرے کا باعزت شہریں بنائیں یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری اور نجی سطح پر فلاح و بہبود کی تنظیمیں میدان میں آئیں ذرائع ابلاغ بھی انکے مسائل اجاگر کریں اپنی ذمہ داری پوری کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.