پختونخوا حکومت کی عدم توجہ: پبلک سیفٹی کمیشن،ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی کاقیام تاحال نہیں لایا

پشاور سے لحاظ علی

پولیس کیخلاف عوامی شکایتیں فائلوں میں دب گئیں پولیس کیخلاف عوامی شکایات کے ازالے کیلئے صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن اورریجنل کمپلینٹ اتھارٹی کاقیام دوسالوں میں نہیں لایاجاسکا

صوبے کے 27اضلاع کی بجائے صرف 12اضلاع میں پولیس کیخلاف شکایات کیلئے ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن قائم کئے گئے ہیں15اضلاع تاحال منتظر ہیںرائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کردہ معلومات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے2017ء میں پولیس ایکٹ پاس کیاتھا جس کے سیکشن 48 کے تحت صوبائی سطح پر پراونشل پبلک سیفٹی کمیشن قائم کیاجائیگا اس کے علاوہ پشاورمیں کیپٹیل سٹی پبلک سیفٹی کمیشن اور باقی اضلاع میں ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن قائم کیاجائے گا دوسالوں کے دوران خیبرپختونخوا کے12اضلاع بنوں،کرک،لکی مروت،ہنگو،چارسدہ،مردان،صوابی،سوات،بونیر ،دیر لوئر اوربٹگرام میں ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن قائم کئے جاچکے ہیں جب کہ پندرہ اضلاع تاحال حکومت کی توجہ کے منتظرہیں

اسی طرح پولیس ایکٹ کے سیکشن66 کے تحت ریجنل پولیس کمپلینٹ اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی ،رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کردہ معلومات کے مطابق ڈویژنل لیول پرقائم اس اتھارٹی کا بنیادی مقصد پولیس کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پراحکامات جاری کرناہے تاہم حکومتی عدم توجہ اورپولیس کی سردمہری کے باعث سیفٹی کمیشن اور کمپلینٹ اتھارٹی کے قیام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ 2017ء میں پولیس ایکٹ کے مطابق صوبائی سطح پر عوامی شکایات کیلئے جوپراونشل پبلک سیفٹی کمیشن قائم کیاجائے گا اس کی سکروٹنی کمیٹی میں احتساب کمیشن کاڈی جی سمیت ہائیکورٹ کاجج بھی شامل ہے احتساب کمیشن کو پہلے ہی خیبرپختونخوااسمبلی نے تحلیل کیاہواہے اورماضی میں اس احتساب کمیشن کے متعلق پشاورہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ دیاتھا کہ عدلیہ کاانتظامی امور سے کوئی سروکارنہیں حکومت انتظامی فیصلے خودکرے عدلیہ کو اس میں نہ کھینچیں عدالت کے اسی فیصلے کے تناظرمیں مقامی وکیل نے پولیس کے پراونشل پبلک سیفٹی کمیشن کے سکروٹنی کمیٹی کے خلاف اپیل بھی دائر کی ہے کہ پشاورہائیکورٹ کا جج اس سکروٹنی کمیٹی کاممبرنہیں ہوسکتاصوبائی سطح پر قائم پبلک سیفٹی کمیشن کا مقصدپولیس کی کارکردگی کوجانچناانہیں اضافی اختیارات سے روکنا اسکے علاوہ پولیس کے خلاف عوامی شکایات ،غلط تحقیقات ،ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن کی جانب سے ارسال کردہ رپورٹ مرتب کرنااورپولیس کیلئے خصوصی گرانٹ کی منظوری ہے

محکمہ داخلہ کے ایک افسرنے بتایاکہ کئی اعلیٰ انتظامی افسران کے علاوہ پولیس افسران بھی صوبائی وضلعی سیفٹی کمیشن کیخلاف ہے ان کا موقف ہے کہ اس طرح کے کمیشن پولیس کے اختیارات کومزیدکم کرے گا اس لئے ماضی میں سابق آئی جی ناصردرانی اسکے بعدصلاح الدین اورموجودہ آئی جی ڈاکٹرنعیم خان بھی اس متعلق سنجیدگی نہیں دکھارہے ہیں پولیس کیخلاف دیگرشکایات کیلئے ڈویژنل لیول پر ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی بھی کسی ریجن میں قائم نہیں کی گئی ہے محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسرنے بتایاکہ محکمہ داخلہ کو پولیس سے متعلق سینکڑوں شکایات صرف2018میں موصول ہوئی ہیں لیکن پبلک سیفٹی کمیشن کے نہ ہونے کے باعث وہ تمام شکایات فائلوں میں دب گئی ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے متبادل کے طو رپر وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل کابھی استعمال کیاہے لیکن وہاں پر بھی عوامی شکایات کامداواہونے کے بجائے شکایت کنندہ کوہومیوپیتھک گولی دی جاتی ہے اوروہ محسوس کرتاہے کہ انہیں دوائی تو دی گئی لیکن اثرنہیں کررہی۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.