اسلام آباد کا ڈی چوک دوبارہ آباد ھوگا؟

تحریر :نادیہ بنگش

جعیت علماء اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کرنے کے اعلان کے بعد حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے رہنماوں کے بیانات سے لگ رہاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا سامنا کرنا حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

وفاقی وزراے سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزراء تک تمام نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف بیانات کی بارش شروع کردگئی ہے۔ کہتے ہیں مولانا فضل الرحمن مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اور اپوزیشن پارٹیاں انڈیا کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کےحالات کی وجہ سے یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ہے۔ اپوزیشن کو سڑکوں پر احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ حکومت کاساتھ دینا چاہیے۔ کبھی کہتے ہیں مولانا پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے کرپٹ رہنماوں کو بچانے کےلئے احتجاج کے لئے جاررہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں پی پی اورمسلم لیگ ن مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

زرداری اور شہبازشریف احتجاج کےخلاف ہیں ۔ کیونکہ اُن حکومت کے ساتھ ڈیل بات چیت چل رہی ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن مذہب کارڈ کے استعمال کے خلاف ہے۔ اب توجمعیت علماء اسلام ف کے جعلی لیٹرہیڈ پر دھرنے کے شرکاء کے لئے ”لواطت”کے حوالے سے ہدایات اور اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے ”لواطت”کو روکنے کےلئے جعلی حکم نامے کو پی ٹی آئی کے رہنماوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر شیئرکرنا تو حدہی ہوگئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ وفاقی حکومت سخت دباو میں ہے۔

ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کوآزادی مارچ کی نوبت کیوں آئی۔ کیا اپوزیشن کے پاس سڑکوں پرآنے کے علاوہ کوئی اور آپشن ہے کہ نہیں ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم سڑکوں پرنہ آئیں توکیا کریں۔ حکومت نے اِن کو سڑکوں آنے پر مجبور کردیاہے۔

تمام اپوزیشن جماعتوں حتَی کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں جولائی 2018 کے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہتے ہیں ۔اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی حکومت کو جعلی حکومت اور عمران خان کو سلیکٹیڈ اور جعلی وزیراعظم کہتے ہین ۔اپوزیشن کے مطالبے پر سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کےلئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی۔ لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کمیٹی نے کوئی تحقیقات نہیں کی۔ کیونکہ حکومت نے موقف اپنایا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو تحقیقات کا اختیار نہیں کمیٹی ابھی تک اسکے TORS پر متفق نہیں ہوئی کیونکہ حکومتی ممبران نے اپوزیشن کی TORS ماننے سے انکار کیا۔ اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ وعدے کے باوجود حکومت دھاندلی کی تحقیقات کے لئے تیارنہیں تو اپوزیشن سڑکوں پر نہ آئے تو کہاں جائے؟

اسی طرح اپوزیشن کہتی ہے کہ سینٹ میں انکا مینڈیٹ چوری کیاگیا۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے قرارداد کو ناکام بنانے کا الزام ملک کے انٹیلی جنس اداروں پر لگایاگیا۔ کیونکہ سینٹ میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن سنجرانی کو نکالنے میں ناکام رہی۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ ان کے ممبران کی وفادرایوں کو تبدیل کیا گیا۔ ان کے مینڈیٹ کو چرانے کے خلاف کہاں جائے۔ سڑکوں پر آنے کے علاوہ ان کے پاس اور کونسا راستہ بچاہے؟

اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کو چلانے میں سنجیدہ نہیں جب بھی اپوزیشن والے حکومت کی کارگردگی اور عوام کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو حکومتی وزراء خاص کر مراد سعید اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور پارلیمان کا ماحول خراب کرتے ہیں اور اکثر قومی اسمبلی کورم پورا نہیں ہوتا۔ ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں ہورہی ہے اور حکومت صرف آرڈیننس پر انحصار کررہی ہے۔ حکومت نے پارلیمان کو غیر فعال بنادیا ہے اپوزیشن کہتی ہے کہ ہر ممبر پارلیمنٹ کو اپنے علاقے کی نمائند گی کرنا اس کا حق ہے۔ لیکن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر وزیراعظم عمران خان کے حکم پر اپوزیشن کے قیدی ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرتا۔ اگر اپوزیشن کو پارلیمان میں احتجاج اور بات کرنے کی اجازت نہیں تو وہ سڑکوں پر نہ آئے تو کہاں جائے؟

نیب کی کاروائیوں سے تنگ اپوزیشن رہنماوں کہتے ہیں کہ نیب کو سیاسی انجنئیرنگ کے لئے حکومت کے مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ نیب تو اپوزیشن کے تمام بڑے بڑے رہنماوں کے خلاف کیسز بنارہی ہے۔ اور بہت سے قائدین جیلوں میں ہیں یا ضمانت پرہیں۔ لیکن حکومتی وزراء اور دوسری پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی جماعتوں کے قائدین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ نیب قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اور نیب قوانین میں تبدیلی صرف سیاسی اتفاق رائے سے مکمن ہے اورحکومت کسی سیاسی ڈائیلاک پر یقین نہیں رکھتی۔ جب اپوزیشن نیب کےچیئرمین کو شکایت کرتاہے ۔

توہ سیاسی انجنئیرنگ الزام مستردکرتے ہیں۔ اور پچھلے دس سالوں میں حکومت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کا پھر عزم کرتاہے ۔اپوزیشن رہنماکہتے ہیں کہ اگر چیئر مین نیب انکی شکایت کاازالہ کرنے کےلئے تیار نہیں توسیاسی قائدین، تاجروں کی طرح آرمی چیف سے نیب کے خلاف شکایت اور ان سے مدد توطلب نہیں کرسکتے۔ بلکہ عوام کےپاس ہی جائیںگے۔ اس لئے ان کےپاس سڑکوں پرآنے کے علاوہ اور کونساآپشن ہے۔

اپوزیشن کہتی ہے کہ حکومت نے پارلیمان کو غیر فعال بنا دیا ہے اور اپوزیشن نہ تو ان کے قائدین کے ساتھ زیادتی اور نہ عوامی مسائل پر پارلیمان میں بات کرتا ہے۔ میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ بہت سے قائدین کے جلسوں تقریروں اور بیانات پر غیر اعلامیہ طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اگر اپوزیشن پارلیمان میں اور میڈیا پراپنے اورعوامی مسائل پر بات نہ کرسکے تو عوام کوا پنی بات پہنچانے کے لئے سڑکوں پر نہ آئیں تو کیا کریں۔

پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کاجمہوری اورآئینی حق ہے عمران خان، طاہر القادری اور خادم حسین رضوی نے یہ جمہوری حق استعمال کیا تھا۔ انکے احتجاج پرامن نہیں تھے۔ اور ان کی جماعتوں کے لوگ تشدد میں ملوث تھے۔ آج بھی صدر عارف علوی اور دوسرے قائدین پر PTV پر حملہ اور دوسرے کیسزچل رہے ہیں۔
اگر جے یوآئی اوردوسری اپوزیشن جماعتیں پر امن احتجاج کرتے ہین تو حکومت کو ان کے خلاف کاروائیاں نہیں کرنے چاہیے۔ اور ان کو آزادی مارچ اور دھرنے کی اجازت دینی چاہیے۔

ملک کے مقتدر اداروں کوبھی اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ اپوزیشن الزام لگائے گی کی کہ آرمی حکومت کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ اور آرمی کو اس معاملے مین غیر جانبدار رہنا چاہیے۔ ورنہ ملک کے حالات اور بھی خراب ہوسکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.