عوامی جمہوریہ چین کے 70سال

70سالوں میں چین ایک کمزور و غریب ملک سے ترقی یافتہ اور عظیم اقتصادی قوت کے طور پر ابھرا۔

تحریر: سیدعلی نواز گیلانی

دنیا کے خوشحال ممالک کی تاریخ کامطالعہ کرنے سے یہ حقیقت آشکارہ ہوتی ہے کہ ان اقوام کی کامیابی کے پیچھے ان کی انتھک اور طویل محنت، جدوجہد اور فعال و مخلص قیادت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے سیاسی منظر نامے، طرز زندگی اور خصوصی طور پر معیشت کے شعبے میں اس کی حیرت انگیز کامیابی کا سہرا پوری چینی قوم کے سر ہے۔ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز ایک غریب قوم کی حیثیت سے کیا تھا۔مگر انہوں نے اپنی منزل آسمان کی وسعتوں سے بھی اونچی متعین کی تھی

70سال پہلے چین کو اپنی بقاء کے تحفظ کے لئے دو جنگیں لڑنی پڑیں ان طویل جنگوں نے چین کو بہت کمزور کردیا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک عظیم اقتصادی قوت کے طور پر ابھرا۔ اور عالمی منظر نامے میں اپنے لئے اعلیٰ مقام بنالیا۔ زراعت پر انحصار کرنے والے ایک غریب ملک سے دنیا کی عظیم اقتصادی طاقت بننے کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں،چینی قیادت نے اپنے معاشی، سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے میں جو اہم اصلاحات کیں،اس نے ملک کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا،ستر سالوں میں چینی عوام کے معیار زندگی میں جو تبدیلی آئی ہے وہ حیران کن اور ناقابل یقین ہے۔

آج دور جدید کا عوامی جمہوریہ چین اپنا 70ویں یوم آزادی منارہا ہے۔ گذشتہ ستر سالوں میں چینی قوم کس نشیب و فراز سے گذری اور موجودہ مقام پر پہنچی اس پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔سات عشروں کی جدوجہد کے بعد چین آج دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت بن گیا ہے اور تقریبا دو ارب کی آبادی والے اس ملک کے باسیوں کے معیار زندگی میں بھی حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔ آج چین کے عالمی برادری کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور وہ ہر لحاظ سے ایک عظیم اور جدید سوشلسٹ ملک کے طور پر قوموں کی برادری میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ان کامیابیوں کا سہرا بلاشبہ جامع اصلاحات اور کمیونسٹ پارٹی کی مخلص اور نہایت فعال قیادت کے سر ہے۔جدید چین کے دوسرے انقلاب کے تحت ایسی قابل عمل اصلاحات متعارف کرائی گئیں جن کی بدولت نہ صرف چینی عوام کا اپنا معیار زندگی بلند ہوا بلکہ چین دنیا کے دیگر اقوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی گرانقدر خدمات انجام دے رہا ہے۔

صدر ژی جین پنگ کی ولولہ انگیز قیادت میں چین نے نہ صرف جدید معاشی نظام اپنایا بلکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور جدیدیت پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی بھی تیار کی۔ جن پر کامیابی سے عمل درآمد نے اسے دنیا میں اہم مقام دلایا ہے۔آج جدید چین نے عالمی مارکیٹ تک نہ صرف رسائی حاصل کی ہے بلکہ عالمی معیشت پر چھا گیا ہے، سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار بنایا۔ اپنی برآمدات بڑھا کر پوری دنیا کی مارکیٹ کو اپنے قبضے میں لے چکا ہے۔

چین کی طرف سے ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون اور قریبی تعلق قائم کرنے کا اہم ترین منصوبہ ہے۔ بی آر آئی نامی اس منصوبے کے خدوخال واضح ہورہے ہیں اس منصوبے کی بدولت چین کی معیشت کو باقی دنیا سے منسلک کیا جائے گا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کامنصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس منصوبے کی بدولت نہ صرف پاکستان کو معاشی استحکام حاصل ہوسکتا ہے بلکہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور ہنرمند نوجوانوں کے لئے پرکشش مواقع ملنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب نے بھی سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کے معاشی طور پر پسماندہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ 

پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات مثالی رہے ہیں اس لئے پاک چین دوستی کو پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری قرار دیا جاتا ہے سی پیک منصوبے کی بدولت پاک چین تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ اسے دونوں ملکوں کے لئے فلیگ شپ پراجیکٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جدید اور ترقی یافتہ چین اپنے سیاسی، سماجی،معاشی اور معاشرتی نظام کی ترقی کا آئینہ دار ہے۔اکیسویں صدی کا عظیم چائنا صرف اپنے جامع معاشی نظام کی مرہون منت ہی نہیں، بلکہ وہ دنیا کی عظیم تہذیبی ورثے کا بھی امین ہے۔

چین نے موروثی بادشاہت سے عوامی حکومت کا طویل سفر طے کیا۔ اس نے صدیوں سے رائج سرمایہ دارانہ نظام کا بہتر متبادل نظام متعارف کرایا۔ جو چینی قوم کی ولولہ انگیز قیادت کی ترقی پسندانہ سوچ کا عکاس ہے۔ کنفیوشس کوجدید چین کابانی قراردیا جاتا ہے انہوں نے ڈھائی ہزار سال قبل جو فلسفہ اپنی قوم کو دیا۔ اسے قوم نے مقدس امانت جانا۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کنفیوشس کا فلسفہ پڑھایا جاتا رہا۔ آج بھی چینی قوم اس عظیم مفکرکا 2558 واں یوم پیدائش قومی دن کے طور پرمناتی ہے اور ان کے لئے اپنی عقیدت کا اظہار کر تی ہے۔

کنفیوشس کا فلسفہ نہ صرف چینی قوم کے لئے رہنما اصول متعین کرتا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک نے بھی ان کے فلسفے پر عمل کیا جن میں جاپان، کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔ان ممالک میں بھی چینی ثقافت، ادب اور فن کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ 2002کے بعد چین نے کنفیوشس کے فلسفے کی تعلیم عام کرنے کے لئے 60مختلف ممالک میں 200سے زیادہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس قائم کئے ہیں جہاں کنفیوشس کا فلسفہ اور تعلیمات پڑھائی جاتی ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ چین نے کھیلوں کے زریعے دنیا میں اپنی اچھی ساکھ قائم کی ہے۔ بیجنگ اولمپکس کے کامیاب اور بہترین انعقاد کی بدولت دنیا پر چین کے حوالے سے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔مغربی ممالک خصوصا امریکہ کی طرف سے چین کے بارے میں منفی تاثر بھی اقوام عالم میں چین کی اچھی ساکھ کو متاثرنہیں کرسکے۔اگرچہ مغرب میں چین کے حوالے سے بدگمانیاں پائی جاتی ہیں لیکن ایشیا میں اس امر پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ چین کا اقتصادی روڈمیپ پورے خطے کے لئے ایک قابل عمل اور قابل تقلیدمثال ہے۔

کنفیوشس نے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ ”طاقت کے بجائے اخلاقی اتھارٹی کے ذریعے دنیا کی قیادت کرو، اپنے گھر کے معاملات کو درست رکھو دوسرے لوگ خود بخود آپ کی تقلید کریں گے“چینی قوم نے اپنے قائد کے اس فلسفے پر پوری طرح عمل کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ چین کی معیشت، سفارت کاری اور ثقافتی تعلقات ساری دنیا کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات 68 سال پرانے ہیں۔ ہر سال اور دن گذرنے کے ساتھ پاک چین تعلقات مضبوط اور مستحکم ہوتے جارہے ہیں۔ دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے شعبے میں پاک چین تعلقات کی مثالیں دی جاتی ہیں۔

اپنی مربوط اور جامع اقتصادی ترقی کی بدولت آج عوامی جمہوریہ چین دنیا کی عظیم اقتصادی قوت بن گیا ہے۔ ایک معروف امریکی مصنف نے اپنی کتاب”دنیا کا حکمران کون“ میں لکھتے ہیں کہ گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد ملاکو کے ساحل سے خلیج ایڈن تک کے پانیوں پر چین کی تجارت پھیل جائے گی اور سمندر چینی تجارت کی گذرگاہیں بن جائیں گے جو اب تک امریکہ ذاتی جھیل کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ دنیا کے سیاسی و معاشی منظرنامے کامشاہدہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے رکن ممالک روس کو نظر انداز کرتے ہوئے مشرقی یورپ پر اپنااثر و نفوذ بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب وہ چین کو بھارت کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اب صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ چین نے  بینک آف انٹرنیشنل انفراسٹرکچر اینڈ ڈویلپمنٹ قائم کیا ہے۔ اور عالمی معیشت کو فروغ دے رہا ہے۔ اس بینک نے آئی ایم ایف کی اہمیت کم کردی ہے آسٹریلیا اور انگلینڈ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے معاملات میں امریکہ کے ویٹو پاور سے نالاں تھے.انہوں نے چین کے قائم کردہ نئے بینک میں شمولیت اختیارکی ہے۔

چین نے افریقہ کے پسماندہ ممالک کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لئے ایک نظام وضع کیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ چین کا ایک نیا اور انقلابی منصوبہ ہے۔ جس سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو معاشی طور پربااختیار بنا دیا ہے۔ اس تاثر کو بہت تقویت حاصل ہوئی ہے کہ اس نئے منصوبے نے چین کو معاشی لحاظ سے سپر پاور بنا دیا ہے۔ چین کے صدر نے گذشتہ سال پاکستان کے دورے کے موقع پر سی پیک میں 46ارب ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ خیبر پختونخوا اور سنکیانگ کو 2008میں دوست صوبوں کا درجہ دیا گیا تھا۔

پشاور اور ارومچی کے علاوہ کاشغر اور ایبٹ آباد کو دوست شہروں کا درجہ دیا گیا ہے۔ ملاکنڈپاور ہاوس خیبر پختونخوا کے لئے پورٹ چین کا اہم تحفہ ہے۔ اب سی پیک کے ذریعے اس خطے کو اہم تجارتی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ لڑاکا بمبار جے ایف تھنڈر جنگی طیارے کی مشترکہ طور پر تیاری پاک چین دوستی اور دفاعی تعاون کی ایک زندہ مثال ہے۔ پاکستان اور چین میں حالیہ برسوں میں بہت سی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود پاک چین دوستی کمزورہونے کے بجائے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔

35سال بعد پاکستان اور چین ایک صدی پر محیط اپنی دوستی کا جشن منائیں گے اور اس وقت تک چین دنیا کا عظیم سپرپاور بن جائے گا۔ اسلامی دنیا میں بھی چین کو اعتماد اور بھروسے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چاہے مشرق وسطیٰ اور فلسطین کا تنازعہ ہو۔ افغانستان یا کشمیر کا مسئلہ ہو۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی بھر پور تائید و حمایت کی ہے۔ گذشتہ 68سالوں میں پاک چین دوستی میں کبھی سردمہری دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں بھی پاک چین تعلقات کو نئی جہت مل رہی ہے۔ چین کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبا کے لئے بے شمار وظائف دیئے جارہے ہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں آنے والے سالوں میں چین کی یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کئے جائیں گے۔

چین کے ثقافتی اور لسانی مراکز بھی پاکستان میں قائم ہونے چاہییں۔آج گاڑیوں کے ٹائر سمیت گھریلو استعمال کی اکثر چینی مصنوعات پاکستان کے ہر گھر میں استعمال ہورہی ہیں۔ 2016میں چین نے نیپال میں مال بردار ٹرینوں کی سروس شروع کی۔ اور جنوبی ایشیاء کے پورے علاقے کو مواصلاتی طور پر مربوط کیا۔ اب چین نے یورپی یونین کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ یہ بھارت کے لئے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ اسے محاذ آرائی کی اپنی دیرینہ پالیسی ختم کرکے خطے کے عوام کی فلاح و بہبودکے لئے کام شروع کرنا چاہئے۔

ملائیشیا بھی چین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے جس سے ملائشیا کی معیشت پر غیر معمولی مثبت اثرات رونماہوں گے۔ پشاور یونیورسٹی اور ملک کی دیگر جامعات میں چائناسٹیڈی سینٹرکا قیام پاک چین تعلقات کے فروغ میں ایک اہم قدم ہے۔چین نے پاکستان کو 8جدید ترین آبدوزیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کیا گیا سب سے بڑا دفاعی منصوبہ ہے۔

پاک چائنافرینڈ شپ ایسوسی ایشن بھی گذشتہ چار سالوں سے ثقافت،تعلیم اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطوں کی شکل میں پاک چین دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام دونوں ممالک کے درمیان وفود کے تبادلے ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔
(کالم نگار پاکستان چائنا فرینڈ شپ ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا چیپٹر کا سیکرٹری جنرل اور پشاور میں ریڈیو چائنا لیسنرز کلب کا صدر ہے syeed.gilani@gmail.com)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.