کچھ باتیں "راز” اور "نیاز” کی

پروفیسر جہانزیب نیاز کی چوتھی برسی پر ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں پر وقار ادبی تقریب

تحریر شمس مومند
پشتو ترقی پسند ادب، قوم پرست سیاست اور متوازن صحافت کے کہکشاں کا درخشندہ ستار ہ سلیم راز کو صدر مجلس کی حیثیت سے خطاب کی دعوت دی گئی ۔ انھوں نے حسب معمول لگے لپٹے بغیر بات شروع کی ۔ فرمایا ہمارے ہاں یہ عجیب طریقہ راءج ہے کہ صدر مجلس تو اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ سب کی تقاریرسنے ۔ خواہ اس کے لئے انہیں میری طرح ضعیف العمری کے باوجودتین چار گھنٹے انتظار کیوں نہ کرنا پڑے ۔ لیکن باقی شعرا مقررین اور سامعین ایسی کسی بھی پابندی سے مستثنی ہوتے ہیں۔

ان میں زیادہ تر اپنی سنا کر چلے جاتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ صدرمجلس کی بات جلدی ختم ہو، تاکہ وہ کھانے پینے سے لطف اندوز ہو سکے ۔ بعض اوقات تو صدر مجلس کی تقریر شروع ہوتے ہی لوگ کھانے کی طرف کسکنا شروع ہوجاتے ہیں ۔

سامعین کی بھر پور کلاس لینے کے بعد وہ دور حاضر کے پروفیسرز اور پی ایچ ڈی سکالرز کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا ۔ آج کل استاد و شاگرد کی محبت اور تعلق کا یہ حال ہے کہ ایک ہی تحقیقی مقالے میں معمولی ردوبدل کرکے اس پر دو دو تین تین ڈگریا دی جاتی ہے ۔ استاد شاگرد کو مقالے کا موضوع دیتا ہے ساتھ ہی اپنا مقالہ بھی تھما دیتا ہے اور اس میں ترمیم و تحریف کے مقامات بھی بتادئے جاتے ہیں۔

پھر جب سکالر اپنے مقالے کا دفاع کرتا ہے تو وہ پشتو محاورے ( ڈولہ وہم دی چرتہ او غگیگے چرتہ) کے مصداق سوال گندم جواب چنا دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عالم فاضل خواتین و حضرات بھی اپنی تحریر یا تقریرکے آخر میں لکھتے اور فرماتے ہیں میں آپ کا مشکور ہوں ۔ حالانکہ مشکور وہ بندہ ہوتا ہے جس کا شکریہ ادا کیا جائے ۔ جو بندہ شکریہ ادا کرتا ہے وہ تو شکرگزار ہوتا ہے ۔ لیکن ہماری علمی سمجھ بوجھ کا یہ حال ہے کہ اعلی ترین علمی و ادبی محافل میں بھی اس غلط العام لفظ کو غلط نہیں سمجھا جاتا ہے ۔

مزید فرمایا ، ساٹھ سال سے پاکستان کی سیاست اور ادب سے وابستہ ہونے کے باوجود اگر میں سیاست پر بات نہ کروں تو پھر کون کرے گا ۔ لیکن میں سیاست پر طویل طبع آزمائی کی بجائے اس ایک شعر پر اکتفا کرتا ہوں ۔ حالانکہ آج کل صورتحال اس شعر میں پیش کردہ صورتحال سے بھی دس گنا زیادہ بد تر ہے شاعر فرماتے ہیں ۔

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھری ہوئی ہے طواءف تماش بینوں میں

سلیم راز نے کہا کہ جب بھی میں اور پروفیسر جہانزیب نیاز مرحوم کسی تقریب میں ملتے تو اکثر وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر ایک طرف لے جاتے اور فرماتے ۔ رہنے دو شعر وادب کو ، چلو ہم ذرا راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں ۔ لیکن یاد رہے کہ یہ وہ عاشق و معشوق والا راز و نیاز اور پیار و محبت نہیں ہے بلکہ یہ سلیم راز اور جہانزیب نیاز کی باتیں ہیں ، عقل فہم دانش تجربے اوراخلاص کا نچوڑ ۔  

یہ کالم راز و نیاز کی باتیں بھی اس ادبی تقریب کی روداد سمجھ لیجئے جوپروفیسر جہانزیب نیاز کے فرزند ارجمند مایہ ناز بیوروکریٹ ڈاکٹر کا ظم نیاز نے اپنے والد مرحوم کے ادبی خدمات کے اعتراف میں مرحوم کی چوتھی برسی پر چارسدہ میں منعقد کی تھی ۔ جس میں سینکڑوں کی تعداد میں اہل علاقہ کے علاوہ پختونخوا بھر سے علمی و ادبی افراد نے شرکت کی ۔

پروفیسر جہانزیب نیاز کے برخورداران کاظم نیاز اور میر ویس نیاز کی کاوشین اپنی جگہ مگر بقول کاظم نیاز کے ان کے ادبی وارثان حمیدالرحمن نادان،نورالبشر نوید، امجد علی خادم، ڈاکٹر عالم،فریدون خان سمیت متعدد ادبی شخصیات نے دن رات محنت کرکے اس تقریب کو کامیاب بنایا ہے ۔ سٹیج پر ڈاکٹر کاظم نیاز کیساتھ دوسروں کے علاوہ بشر نوید ، سلیم راز، ڈاکٹر فصیح الدین، پروفیسر اسیر منگل،لائق زادہ لائق ، اظہار اللہ اظہار اور مغموم صاحب تشریف فرما تھے ۔

درجن بھر شعرا نے مرحوم ڈاکٹرجہانزیب نیاز کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا جبکہ متعدد اہل قلم نے تاثرات کا اظہار کیا ۔ مگر سب سے جامع خوبصورت اور مبنی برحقیقت تاثرات بائیں بازو کے ترقی پسند مصنف کالم نگار شاعر و ادیب نورالبشر نوید نے پیش کئے ۔ انھوں نے رحمان بابا کے اس مصرعہ کے مصداق ( دہ آئین غوندے بے رویہ بے ریا یم) وہی کچھ لکھا تھا اور اسی طرح بے نیاز ہوکربیان کیا جس طرح مرحوم جہانزیب نیاز نے بے نیاز ہوکر زندگی گزاری تھی ۔

مرحوم کے کئی ایک دوستوں اور ادبی ساتھیوں نے جہانزیب نیاز کی یادیں بیان کی۔ معروف اور بزرگ شاعر ودود ہشتنغری نے کہا ۔ ایک مرتبہ مرحوم نے اسی حجرے میں ضلع چارسدہ کے تمام اہل قلم کا اجلاس بلایا اور تجویز پیش کی ، کہ غنی خان مرحوم کی یاد میں ایک تنظیم بناتے ہیں جس کانام ہوگا غنی خان ادبی سیاسی سماجی فلاحی اور صحافتی کاروان ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا نیاز صاحب یہ نام کچھ زیادہ بڑا نہیں ہوا، انھوں نے سادگی سے جواب دیا، ہم جس شخصیت کے نام سے اسے بناتے ہیں یعنی غنی خان وہ تو اس سے بھی بڑا آدمی تھا۔

بابائے امن باچا خان کے نواسے خان عبدالولی خان کے بھانجے اور اسفندیار ولی خان کے ماموزاد بھائی پروفیسر جہانزیب نیاز پشاور یونیورسٹی میں پڑھائی کیساتھ ساتھ متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے مگر اپنے نانا سے وراثت میں ملنے والی خاکسار ی اور اپنے مامو ں مایہ ناز فلسفی شاعر غنی خان کے فلسفہ پشتون و پشتون ولی پر حرف نہیں آنے دی ۔ وہ گریڈ بیس اور اکیس میں رہتے ہوئے بھی ، جناب اور سر جیسے القابات و خطابات کی بجائے لالا پکارنے پر خوش ہوتے تھے ۔

انھوں نے زیادہ تر زندگی پشاور میں گزاری مگر اپنے اہل علاقہ اور رشتہ دار تو درکنار اپنے نوکروں اور کسانوں سے بھی اپنا رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا ۔ پشتو شعر و ادب میں مایہ ناز کی چھ کتابیں (غنی غنی دے، سوغات،بورجل، زما دنیا، دہ جیندی چپے اور گبین) آج بھی پڑھنے والوں کو ان کی علم و دانش کا پتہ دیتی ہے ۔

ڈاکٹر کاظم نیاز نے اپنے والد کے نام پر ادبی ایوارڈ کے اجرا ٗ کا بھی اعلان کیا ۔ اور امسال یہ ایوارڈز افراد کی بجائے پشتو کے لئے کام کرنے والے تین اداروں کو دیا گیا جس میں روزنامہ وحدت، ماہنامہ لیکوال اور پشتو اکیڈمی شامل تھے ۔ کالم کا اختتام اپنے قابل احترام دوست ڈاکٹر کاظم نیاز کی حوصلہ افزائی کے لئے اس شعر پر کرنا چاہتو ہوں کہ ۔ ۔

مڑہ ھغہ چی نہ ای نوم نہ ای نشان وی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تل تر تلہ پہ خہ نوم پائی ښاغلی ۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.