اشرف المخلوقات کون اورکیسے؟۔۔۔۔۔

تحریر:شمس مومند
ایک مشہور انگریزی ضرب المثل ہے Human being is a social animal, those who are not social, remain only animal(یعنی انسان ایک سماجی جانور ہےجو انسان سماجی یا سوشل نہیں وہ صرف جانور رہ جاتا ہے)۔ انسان کو اللہ تعالی نے بحیثیت مجموعی اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اور ہمیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اشرف المخلوقات کی صفت سے متصف ہونے کے لئے نہ کسی مذہب کی شرط عائد کی ہے نہ کسی قوم قبیلے کی نہ کسی رنگ و نسل کی۔ قرآن پاک سمیت کسی بھی آسمانی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ اشرف المخلوقات صرف وہ لوگ ہونگے جو مسلمان ہو، عیسائی ہو یہودی ہو یا کسی اور مذہب کے پیرو کار۔ بلکہ اس شرافت کا معیار صرف یہ ہے کہ وہ نہ تو درندوں کی طرح ہر وقت آپس میں لڑینگے، نہ جانوروں کی طرح قوانین اور اصولوں سے مستثنی ہونگے نہ پرندوں کی طرح ایک دوسرے سے لاپرواہ اور انجانے منزلوں کی جانب محو پرواز ہونگے بلکہ وہ انسانی رشتوں میں ایک دوسسرے سے جڑے ہوئے ہونگے۔اور انہی رشتوں کی بدولت ایک دوسرے سے پیار کرینگے۔وہ قواعد و ضوابط کے ذریعے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھینگے۔ اپنے معلوم ٹھکانے کیوجہ سے اپنے پڑوسیوں اہل محلہ یا گاوں والوں کے مسائل و مشکلات میں ایک دوسرے کے کام آینگے۔ اور وہ صفت گویائی کے ذریعے ایک دوسرے کا دکھ درد
معلوم کرکے اسکو دور کرنے کی کوشش کرینگے۔مخلوق میں شرافت کی درجہ بالا صفات کو مدنظر رکھ کر ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم پوری طرح ان صفات سے متصف ہے؟حقیقت یہ ہے کہ جس بندے خاندان قوم اور معاشرے میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ کہ وہ مشکل میں ایک دوسرے کی مدد کرے،آئین و قانون کی پابندی کرے اورلڑنے مرنے کی بجائے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے۔ وہی مخلوقات میں اشرف کہلانے کی زیادہ مستحق ہوگی۔ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب رنگ نسل فرقے قوم اور قبیلے سے ہو۔
مہذب معاشروں میں انسان کو ان کے مذہبی عقائد و نظریات پر نہیں تولا جاتا ہے۔ ان کو رنگ نسل فرقے اور علاقے کیوجہ سے کمتر یا بہتر نہیں سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہر انسان کو اس کے معاشرتی کردار کیوجہ سے عزت و تکریم  دی جاتی ہے۔ مہذب دنیا،انسانوں کے حقوق تو اپنی جگہ پرند چرند اور دیگر جانوروں کے حقوق کا  بھی پورا پورا خیال رکھتی ہے۔ ان کی حفاظت کے لئے نہ صرف
باقاعدہ ادارے بنے ہیں بلکہ ان کے لئے مختلف قوانین بھی بنائے گئے ہیں، جس کی پابندی انہی قوانین کی طرح لازم ہیں، جو انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بنے ہوئے ہیں۔لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ترقیافتہ اور مہذب دنیا میں یہ سب کچھ بیسوی صدی کے دوران وقوع پزیر ہوا ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ اور اسی عقیدے کی بنیاد پر خود کو دنیا کے باقی انسانوں سے افضل و برتر سمجھتے ہیں۔ مگر
مسلمان ہونے کے بنیادی صفات و شرائط سے کوسوں دور ہیں۔فرماتے ہیں تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والے تم پر رحم کرینگے۔ یہ تو میرے آقائے نامدار کی ہدایت ہے جس کو ہم نے بھلایا غیر مسلموں نے اپنا یا اورامن و سلامتی پالی۔ پڑوسیوں یتیموں بیواوں کے حقوق کا خیال رکھنا، کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں۔ یہ تو میرے آقا کا آخری خطبہ حج اور انسانی حقوق کا چارٹر ہے۔ ہم نے بھلایا اقوام مغرب نے انیس سو اڑتالیس میں یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس  کے نام سے اپنایا۔ اور ایک انسانی فلاحی معاشرے کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ ہماری بد قسمتی تو یہ ہے کہ ہم مغرب کی جانب سے اسلام کے اپنائے گئے بلکہ چرائے گئے اصولوں کومغرب کے اصول کہہ کر رد کردیتے ہیں،ان کو اپنانے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ ہم خواتین کے حقوق کا خیال اس لئے نہیں رکھتے ہیں کہ یہ اہل مغرب کا کام ہے ہماقلیتوں سے راہ ورسم اس لئے نہیں بڑھاتے ہیں کیونکہ یہ عیسائیوں اور یہودیوں کا وطیرہ ہے۔ ہم پنجابیوں کو اس لئے پسند نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ غاصب ہیں۔ علی ھذالقیاس۔۔  ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں
ہونا۔۔۔
وہ مذہب وہ قوم جو دنیا کی امامت کے لئے منتخب کیا گیا تھا آج اپنی تنگ نظری سہل پسندی اور خو پسندی کیوجہ سے امامت تو درکنار مقتدی بننے کا بھی اہل نہیں۔ وہ مذہب جس نے چودہ سو سال پہلے جانوروں کے حقوق کا درس دیا اس کے پیروکار آج انسانوں کے حقوق کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ وہ تہذیب جس نے چودہ سو سال پہلے خواتین کیساتھ روا رکھے گئے ظلم و ستم کا
خاتمہ کیا۔ ان کی عزت و تکریم کو رواج دیا آج رواج و روایات کے نام پر انہی  خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ اورہم خاموش تماشائی بنے بنیاد پرستوں کے نرغے میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک پر امن ترقیافتہ اسلامی معاشرے کا قیام چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام آفاقی اصولوں کو اپنانا ہوگا ہمیں فرقہ پرستی نسل پرستی قوم پرستی سے نکلنا ہوگا۔ تاکہ ہم اشرفالمخلوقات کہلانے کے اہل ہو سکے۔ اما علینا الابلغ۔۔
شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.