آخر کار وہ چہ مگوئیاں /افواہیں سچ ثابت ہوگئے

تحریر:نادیہ بنگش

ٓآخر کار آرمی چیف کے حوالے سے افواہیں اور اوچہ مگو ئیاں سچ ثابت ہوئیں۔اور جانے کی باتیں جانے دو کہنے والوں میں وزیرا عظم  عمران خان بھی شامل ہوگئے اور مختصر نو ٹیفکیشن کے ذریعے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  کی مدت ملازمت میں تین سال  کی توسیع کردی۔جنرل قمر جاوید باجوہ اس سال یعنی 2019 کے نومبر مہینے میں ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔لیکن اب نومبر 2022تک اپنے خدمات سرانجام دیں گے۔

ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ پاکستان کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی ہو بلکہ اس سے پہلے تما م فوجی حکمرانوں نے خود کو توسیع دی۔ جب بھی کبھی آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا تو تین چار مہینے پہلے اسکی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے افواہیں شروع ہوجاتیں ہیں۔ہمیشہ فوجی حکمرانوں،امراؤں نے اپنے آپ کو آرمی چیف کی حیثیت سے توسیع دی اور وائس چیف آف آرمی سٹاف مقرر کئے۔

لیکن سید یوسف رضا گیلانی پاکستان کے وہ واحد یا پہلے وزیرا عظم تھے۔جنہوں نے نہ صرف ایک آرمی چیف جنرل پرویز کیانی کو پورے تین سا ل مدت ملازمت میں توسیع دی۔بلکہ ISIکے سربراہ جنرل پاشا کی مدت ملازمت میں بھی توسیع دی۔ بے نظیر بھٹو نے جنرل عبدالحق کاکڑ کو 1996میں اسکی مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی لیکن انہوں نے توسیع لینے سے انکار کرکے اپنے مقررہ وقت پر ریٹائرڈ ہوگئے۔

میاں نوازشریف کو ایسا وزیراعظم مانا جاتا ہے۔ جس کی کسی بھی آرمی چیف سے کبھی نہیں بنی اور ہمیشہ آرمی چیف سے اختلافات کی وجہ سے اپنی حکومت اور پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ قومی سلامتی کو نسل کے مسئلہ پر نوازشریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ اسی طرح جنرل پرویزمشرف پر اپنی حکومت گنواہ دی بلکہ 10سال کے لئے پورے خاندان سمیت جلاوطنی کا معاہدہ بھی کردیا۔

پیپلزپارٹی کی حکومت بننے سے پہلے جنرل پرویز مشرف نے جنرل کیا نی کوآرمی چیف بنادیا پیپلزپارٹی کے بھی جنرل کیانی کے پہلے دور میں تعلقات بہت اچھے تھے۔ کیونکہ جنرل کیانی ایک خاموش طبع اور پروفیشنل جنرل کے طور پر مشہور تھے۔ لیکن مدت ملازمت میں توسیع کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر زرداری کے تعلقات آرمی چیف اور DG/ISI کے ساتھ اتنے خراب ہوگئے۔ کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ اسکو (وزیراعظم) ریاست کے اندر ریاست قبول نہیں”

آرمی چیف اور DGISPR نے میمو گیٹ کیس میں اپنے جوابات سپریم کورٹ میں انفرادی طور پر جمع کرا دیں۔اور حکومت کو امریکہ میں بطور پاکستان سفیر حسین حقانی کو اپنے عہدے سے ہٹا نے پر مجبور کیا۔آرمی سے تعلقات خراب ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کوسوئس حکام کو زرداری کے اکاونٹس کے حوالے سے خط نہ لکھنے پر نااہل کردیا۔

سابقہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور عمران خان نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کی تھی۔ میاں نوازشریف نے جنرل کیانی کی جگہ جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف بنادیا تھا۔ شروع میں نوازشریف اور راحیل شریف کے درمیان تعلقات بہت مثالی تھے۔ اور ہر وزیر اور مسلم لیگی رہنما یہی کہتے تھے۔ کہ آرمی اور حکومت دونوں ایک ہی پیج پرہیں۔ جب عمرا ن خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014میں اسلام آباد میں دھرنا شروع کیا۔ تو راحیل شریف نے اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب راحیل شریف کی ریٹائر منٹ  کے دن قریب ہوتے گئے تو تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے۔ یہاں تک ڈان لیکس جیسے مسائل سامنے آئے۔ بعض اطلاعات اور اسحاق دار کے ایک بیان کے مطابق جنر ل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے تھے۔

مسلم لیگ کے بہت رہنما سمجھتے ہیں کہ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی آرمی کے حوالے سے خیالات اور فیصلے ان کے موجودہ مشکلات کی وجہ ہیں۔ جب جنر ل باجوہ آرمی چیف بن گئے تو اس نے نوازشریف کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے طارق فاطمی اور پرویز رشید کی قربانی قبول کرتے ہوئے ڈان لیکن کے مسئلے کو حل کیا اور آگے بڑھنے کی بات کی لیکن  کچھ عرصے کے بعد مسلم لیگ ن کے بعض رہنماوں نے پھر کچھ خفیہ اداروں پرالزمات لگانا شروع کردئیے۔ کہ وہ مذہبی جماعتون اور اپوزیشن تحریک انصاف کو انکے خلاف سپورٹ کررہے ہیں۔ تاکہ 2018 کے الیکشن میں ان کے ووٹ کم کرکے حکومت سے باہر رکھے۔ اپوزیشن جماعتوں پی پی پی،مسلم لیگ ن،جمعیت علما اسلام (ف) اے این پی اور دوسری جماعتیں خفیہ ایجنسیوں اور آرمی پر الیکشن پر اثر انداز ہونے کے الزامات لگارہے ہیں۔

اب تو ملک میں ایک مضبوط تاثر ہے۔ کہ عمران خان کی حکومت کی خارجہ اور اندرونی، سیکورٹی حتیٰ کہ معاشی فیصلوں کے پیچھے پاک آرمی ہی ہے۔ حکومتی وزراء اور PTI کے رہنما کہنے سے نہیں تھکتے کہ آرمی اور حکومت میں مثالی تعلقات ہیں۔

لیکن ملک میں ایک تاثر ہے کہ اس مثالی تعلقات کی وجہ سے سولین ادارے کمزور ہوتے جارہے ہیں اور تما م فیصلے مبینہ طور پر آرمی  کے کہنے پر کئے جارہے ہیں۔یہاں تک کہ اب معاشی پالیسوں کے لئے آرمی چیف کو قومی ترقیاتی کونسل میں بھی شامل کیاگیاہے۔ماضی میں آرمی کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسوں کے بنانے میں اہم کردار رہا ہے۔لیکن یہ پہلی دفعہ ہورہاہے کہ آرمی چیف کو معاشی پالیسوں میں اہم کردار دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے علاقائی صورتحال کو آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع  کی وجہ بیان کی ہے۔ لیکن بعض تجریہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے اپنی مدت حکومت کو سیکیور کر دیا ہے۔ اور اگلے انتخابات کے لئے بھی منصوبہ بندی کی ہے۔ کیونکہ 2022میں جنرل باجوہ ریٹائر منٹ کے وقت موجودہ ISIچیف لیفٹیننٹ جنرل فائز حمید ان چارسنیئر ترین جنرل  میں شامل ہونگے۔ جن میں سے وزاعظم عمران خان نئے آرمی چیف کی تعینانی کر نی ہوگی۔ حکومتی وزراء کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں موجودہ صورتحال اور افغان امن عمل کی وجہ سے کمانڈ میں تسلسل کے لئے آرمی چیف کو توسیع دی گئی ہے۔اگر ملک کی موجودہ معاشی صورتحال زیادہ عرصہ برقرار رہی اور افغانستان میں امریکہ کو اسکی خواہش کے مطابق امن معاہدہ نہیں ہوا تو حکومت اور آرمی اور امریکہ میں مثال تعلقات زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے۔

حکومتی پالیسوں کی ناکامی کی صورت میں آرمی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔کیونکہ حکومت پر اہم فیصلے میں آرمی کو شامل نہیں کررہی ہے۔ اس سال توآرمی نےاپنی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کی اور ملکی مفاد میں قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اکر کشمیر میں حالات مزید خراب ہوگئے۔ تو اگلے سال آرمی اپنے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کرے گی۔ جوکہ حکومت کے لئے موجودہ معاشی صورتحال میں بہت مشکل ہوگا۔

بہت سے معاشی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے۔ کہ آنے والے مہینوں میں معاشی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہیں۔ او رعوام مہنگائی کے خلاف سڑکوںپر آسکتی ہے۔ عوامی اور ادارتی پریشر کی وجہ سے آرمی چیف اور حکومت کے درمیان مثالی تعلقات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں مثالی موجود ہے۔کہ دوسری مدت کے دوران آرمی چیف اور حکومت کے درمیان تعلقات اکثر خراب ہوئے ہیں۔

آرمی پاکستان کا ایک پروفیشنل ادارہ ہے۔اس کی ساکھ اب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ہاتھ میں ہے۔ جنر ل مشرف کے دور میں عوام میں آرمی کی ساکھ بہت خراب ہوگئی تھی۔ جنرل کیانی نے اپنے پہلے سے مدت میں اس کی ساکھ بحال کی لیکن دوسری مدت میں آرمی کے بارے میں پھر سے عوام میں کچھ غلط تاثرات جنم لینے لگے۔ جنرل راحیل نے دوبارہ آرمی کی ساکھ بحال کی۔ لیکن اپنی آخری مہینوں میں سیاسی لوگوں نے آرمی کے سیاسی کردار کے حوالے سے کچھ تحفظات ظاہر کئے۔ اسی طرح جنرل باجوہ نے شروع کے دنوں میں آرمی کو سیاسی معاملات سے دور رکھا۔ لیکن 2018کے الیکشن میں پھر سے اپوزیشن جماعتوں نے آرمی کے کردار پر سوال اٹھانے شروع کئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ سے توسیع کے بعد 2023کے الیکشن بھی متنازع ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کو موجودہ ڈی جی آئی ایس ٓٓٓآئی جنر ل فائز حمید کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں۔
اور سینٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتما د پیش کرنے کی قرارداد کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے مد ت ملازمت میں توسیع کے خلاف ہونے کے باوجود ملازمت میں توسیع قبول کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر غفور نے کہا کہ آرمی چیف توسیع لینا نہیں چاہتے۔لیکن موجودہ صورتحال کی وجہ سے فیصلہ وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ ٓ

آرمی چیف بننے کے بعد اکثر صحافیوں اور آرمی افسران کو کہتے تھے”کہ وہ توسیع کے سخت خلاف ہیں ”وہ کہتے  تھے کہ کمانڈ کی تسلسل کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کے جونیئر افسران ان سے زیادہ سمارٹ اور ذہین ہیں۔ اور وہ اسی راستہ پر چلیں وہ کسی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

چونکہ اب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہوچکاہے۔ اس لئے آرمی کی عوام میں ساکھ بچانے کی ساری ذمہ داری جنرل قمر جاوید پر ہے۔ آرمی چیف کو چاہیے کہ آرمی کو سیاسی معاملات سے دور رکھیں اور آرمی کے ترجمان کو سیاست دانوں جیسے بیانات نہیں دینی چاہیے۔ جیسا کہ بدھ کے روز پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ 10,5سالوں میں خراب ہونے والے معیشت کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ یہ بیان حکومتی ترجمانوں کا ہے آرمی کے ترجمانوں کا نہیں۔ آرمی چیف اور اس کے ترجمان کو صرف سیکورٹی اور مغربی اور مشرقی بارڈر کے معاملات میں بیانات دینی چاہیے۔ اور سیاسی اور معاشی معاملات پر بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.