مولانا کا دھرنہ اپنے لیے ہے یا قوم کیلئے؟

لیکن دھرنے کے اعلان سے ہی عمران خان کی نیندیں اڑ گئی ھیں

عبدالکریم کنڈی

اردو کا ایک مشہور مقولہ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ یہ محاورہ آجکل خان صاحب پر پوری طرح لاگو ہوتا ہے۔ جن برائیوں کا الزام وہ اپنے سیاسی مخالفیں پر لگایا کرتے تھے آجکل وہی ساری برائیاں ان کی اپنی حکومت میں نظر آ رہی ہیں۔ کرپشن ایسی کے جو پکڑی نہ جائے۔ اقربا پروری کا دور دورہ ہے۔ قابلیت اور صلاحیت ناپید ہے اور خوشامدی ہر سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ قانون، آئین اور قوائد و ضوابط ایسا لگتا ہے معطل ہیں اور ہر کام صدارتی دستخطوں سے ہو رہا ہے۔

مگر سب سے اہم پیشرفت یہ ہے کہ مولانا نے خان صاحب کا چیلنج قبول کرتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنہ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ خان صاحب کی پریشانی کا یہ حال ہے کہ انہیں کنٹینر دینے کے بجائے کشمیر کی دھائی دے رہے ہیں۔ مگر مولانا بضد ہیں کہ وہ اکتوبر میں دھرنہ دے کے رہیں گے۔ آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے میں نے حزب اختلاف کی پارٹیوں کو اپنی تجاویز بھیجیں۔ میرا انہیں مشورہ یہ تھا اور ہے کہ یہ وقت سڑکوں پر احتجاج کرنے کا نہیں ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ یقیناً اہم ہے مگر میرا احتجاج نہ کرنے کا مشورہ اس کی وجہ سے نہیں ہے بلکے سیاسی وجوہات کی بناء پر ہے۔ پہلی بات یہ کہ مولانا دھرنہ حکومت ہٹانے کیلئے دے رہے ہیں۔ اگر حکومت گر بھی جاتی ہے تو عوام کی صحت پر کیا فرق پڑے گا؟ پھر الیکشن ہوں گے اور وہی لوگ واپس پارلیمان میں آ جائیں گے جو پچھلی کئی دھائیوں سے آ رہے ہیں۔

دوسرا یہ کہ عام آدمی کا خیال یہ ہے کہ مولانا الیکشن ہارنے کا غصہ اتارنا چاہتے ہیں اسلئے کہ مہنگائی اور غربت کے خلاف انہوں نے ایک بھی دھرنہ نہیں دیا۔ تیسرا یہ کہ اگر حکومت دھرنے سے نہیں گرتی تو پھر مولانا کا پلان کیا ہے۔ اس کی کسی نے وضاحت نہیں کی۔ چوتھا یہ کہ سینٹ چئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں کس نے کمر میں چھرا گھونپا اس کے بارے میں پوری حزب اختلاف خاموش ہے۔ کیوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ کا معاملہ ہے۔

پچھلے گیارہ سال کی جمہوریت میں کچھ نئی روایتوں نے جنم لیا ہے جس میں سے ایک یہ ہے کہ پارلیمان اپنا آئینی پانچ سالہ دور مکمل کرتی ہے مگر ایوان کے اندر وزیراعظم بدلے ہیں تاکہ پہیہ چلتا رہے اور سویلین سیاست کی گاڑی پڑی سے نہ اترے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ پچھلے دس سالوں میں وزیراعظم کی تبدیلی کورٹ کے زور پر عمل میں آئی نہ کہ سیاسی عمل سے۔

یوسف رضا گیلانی کو خط نہ لکھنے کے صلے میں کورٹ نے نااہل قرار دیا اور انہیں وزارت عظمی سے ۂاتھ دھونا پڑا جبکہ بقایا ٹرم راجہ پرویز اشرف نے پوری کی۔ نواز شریف کو بھی کورٹ نے ناہل قرار دیا اور باقی ٹرم شاہد خاقان عباسی نے پوری کی۔ یعنی پارلیمان کے اندر تبدیلی عوام کے زور سے نہیں بلکے سیاسی انجینرنگ کے نتیجے میں رونما ہوئی اسلئے کہ کورٹ ان مقدموں سے جڑے کچھ معاملات کو ابھی تک انصاف کے تقاضوں کے بغیر نمٹا نہ سکی۔

عمران خان کو فوج کی ہی نہیں بلکے عدلیہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے اسلئے شاید کسی مقدمے کی وجہ سی پارلیمان کے اندر تبدیلی نہ آ سکے۔ شاید یہی موقع ہے کہ جمہوریت میں ایک نئی روایت قائم ہو اور حکومت کے پارلیمانی ممبر اس بات کو قبول کریں کے ان کا وزیراعظم اس عہدے کا اہل نہیں ہے۔ اگر وہ مزید اس عہدے پر رہا تو اس ملک کو زیادہ نقصان پہنچے گا اور عوام کا غم و غصہ بڑھتا جائے گا۔

حکومتی پارٹی کے لوگوں کو چاہیے کہ قومی مفاد میں پارلیمان کے اندر تبدیلی لائیں اور کسی اہل آدمی کو وزیراعظم بنائیں تاکہ حکومت چل سکے۔ تیسرے امپائیر کو بھی چاہیے کہ اپنے بھیجے ہوے لوٹوں کو تبدیلی کیلئے متحرک کریں کیونکہ حکومت کی ناقص کارکردگی پر عوام کی انگلیاں ان ہی کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ اور اب تو ایکسٹنشن بھی لے چکے ہیں اب فکر کس بات کی ہے۔

آخر میں مولانا کی خدمت میں عاجزی سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ جمہوریہ میں انہوں نے طاقت کے بہت مزے لیے ہیں مگر لوگوں کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ڈی آئی خان اور ٹانک انہیں کئی دھائیوں سے ایوان میں بھیج رہا ہے مگر یہ دونوں علاقے اب بھی ملک کے پسماندہ ترین ضلعے ہیں۔ مولانا کا دھرنہ اپنے لیے ہے قوم کیلئے نہیں اسلئے قوم کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ایک نئی جمہوریہ ہماری ضرورت ہے ایک نیا الیکشن نہیں جس کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب ہم سب کو مل کر نئی  جمہوریہ کی تعمیر کرنی چاہیے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.