سیاسی امت کا احیاء: حقیقت یا خواب؟

سیاسی امت کا احیا ایک حسین خواب ھے،دیکھتے رھنے میں ہی مزا ھے۔ اس کے شرمندۂ تعبیر ھونے کی توقع رکھنا عبث ھے

محمد اخونزادہ

جب سے خلیجی ممالک نے مودی کو اپنے اعلی سرکاری اعزازات سے نوازا ہے، اس وقت سے سوشل میڈیا پر امت کے تصور پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ میں بھی کسی حد تک ان مباحثوں سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ البتہ اس بحث میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض حضرات بڑی ادعا وتحکم سے یہ ورد کرنے لگے ہیں کہ عن قریب قومی ریاستوں کا زوال ہونے والا ہے، اور اس سے امت کے سیاسی تصور کا احیا ہوگا۔

میرے لیے اپنی ذات کی حد تک قومی ریاستوں کا زوال کوئی ناممکن الحصول امر نہیں کہ عروج وزوال اقوامِ عالم کی تاریخ میں ایک معمول کی بات ہے، البتہ امت کے سیاسی تصور کے احیا نے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میری ذاتی خواہش یہی ہے کہ مسلمان سیاسی طور پر یک جاں ہوں، اور وہ ایک امت کی صورت میں متحد ومتفق ہوں لیکن:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
جو لوگ یہ راگ الاپ رہے ہیں، وہ اسلام کی علمی وتاریخی روایت سے یا تو بے بہرہ ہیں، یا تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم سب کا عقیدہ ہے کہ اس امت کے سب سے بہترین لوگ وہ ہیں، جن کا تعلق اسلام کی ابتدائی تاریخ سے ہے یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین، اور یہ عقیدہ بہت فطری ہے کہ کسی بھی نظام فکر کے سب سے بہترین لوگ وہ ہوں گے، جنھوں نے براہ راست اس فکر کے بانی سے استفادہ کیا، اور پھر وہی لوگ سب سے زیادہ بہتر ہوں گے، جو براہ راست استفادہ کرنے والوں سے زمانی ومکانی اعتبار سے قریب ہوں گے کہ ان کے پاس اس فکر کے مرادات تک پہنچنے کے لیے درکار فضا وماحول اور افہام وتفہیم کے آلات واَدَوات وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ امت بحیثیت ایک سیاسی تصور کے اسلامی تاریخ کے بالکل ابتدائی دور میں قائم نہ رہی کہ خلافت عباسیہ کے قیام کے بعد عبد الرحمان الداخل نے اندلس میں پناہ لی اور وہاں پر ایک الگ سیاسی نظم قائم کی، جو ہر اعتبار سے خلافتِ عباسیہ سے ایک جداگانہ سیاسی نظم تھی۔ یہ خیرالقرون تھا، سیاسی اقتدار وطاقت مسلمانوں کے پاس تھی، پوری دنیا پر ان کی علمیت کا غلبہ تھا، ہر طرف عظیم الشان علما وفقہا کی مجلسیں تھیں، لیکن پھر بھی امت سیاسی طور پر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، اور حیرت اس بات پر ہے کہ کبار تابعین وتبع تابعین کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا، لیکن انھوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی قابلِ ذکر مزاحمت نہیں کی۔

تو جب خیرالقرون میں امت کی سیاسی وحدت قائم نہ رہ سکی، جب اسلامی علمیت غالب تھی، اور امت کی غالب اکثریت صلاح وتقوی اور دینی غیرت وحمیت سے مالا مال تھی، تو موجودہ دور میں اس وحدت کا احیا کیسے ہوگا کہ اس وقت مغربی علمیت کا عالمگیر غلبہ ہے، اور اس کے نتیجے میں دینی عقائد واعمال میں ضعف واضمحلال عروج پر ہے؟!
خلافتِ عباسیہ کے زوال پر جب طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا، اور امت چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہونے لگی، تو فقہاے کرام نے جنم لینے والی نئی سیاسی نظموں کی مخالفت نہیں کی، بلکہ انھیں شریعت کی رو سے جواز فراہم کیا۔

اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں امت کا سیاسی تصور نظری طور پر کبھی اس حد تک رومانوی نہیں رہا، جتنا آج ہے۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ مسلم سپین کے زوال کے وقت جب اس کے مختلف علاقے یکے بعد دیگرے چھینے جا رہے تھے، تو اس وقت عالم اسلام طاقت واقتدار کا مرکز تھا۔ سلطنتِ تیموریہ، سلطنتِ عثمانیہ اور برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کی مضبوط، بااثر اور طاقتور حکومتیں وجود میں آئی تھیں، لیکن امت کا سیاسی تصور ان سلطنتوں میں سے کسی ایک سلطنت کو اس امر پر آمادہ نہ کر سکی کہ وہ امت کا حصہ ہونے کی بنیاد پر مسلم سپین کو غیرمسلموں کے خلاف مؤثر مدد فراہم کرے، اور ان کے علاقوں کو غیرمسلموں سے آزاد کرائے۔

یہاں ایک اور دلچسپ بات یاد آئی۔ امام ابوحنیفہؒ کی راے ہے کہ دارالاسلام دارالحرب میں تب تبدیل ہوگا، جب تین شرائط پائی جائیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ علاقہ، جو غیرمسلم مسلمانوں سے چھین لیں، کسی بھی طرف سے دارالاسلام سے متصل نہ رہے۔ امام ابوبکر جَصَّاص الرازیؒ، جو چوتھی صدی ہجری کے ایک عظیم حنفی فقیہ ہیں، اپنی کتاب شرح مختصر الطحاوی میں لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کی عائد کردہ شرط کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس علاقے کا کچھ حصہ بھی دارالاسلام کے ساتھ لگا ہوا ہے، تو یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ مسلمان جاکر اس علاقے کو غیرمسلموں کے تسلط سے چھڑا لیں گے، لیکن جب ہر طرف سے غیرمسلموں کا قبضہ ہو گیا، تو پھر کسی مدد کے پہنچنے کی امید نہیں رہی۔ اس لیے دیگر شرائط کے پورا ہونے پر اسے دارالحرب کا حصہ مان لیا جائے گا۔

آگے امام جَصّاص افسوس کے ساتھ لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے یہ شرط اپنے زمانے کے حساب سے لگائی تھی۔ اگر وہ ہمارے دور میں ہوتے، اور جہاد کے بارے میں موجودہ لوگوں کی غفلت اور تساہل کو دیکھتے، تو وہ اس شرط کو ساقط کر دیتے۔
ایک نامور فقیہ کی گفتگو سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ چوتھی صدی ہجری میں امت کا سیاسی تصور کتنا دھندلا گیا ہے، کہ اب وہ مسلمانوں کے کسی علاقے پر غیرمسلموں کے قبضے کے نتیجے میں مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ نہیں کر پا رہا۔
سیاسی امت کا احیا ایک حسین خواب ہے، جسے دیکھتے رہنے میں ہی مزا ہے۔ اس کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی توقع رکھنا عبث ہے۔
وما علینا الا البلاغ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.