احتساب یا انتقام

تحریر:نادیہ بنگش

 

پاکستان میں احتساب ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔چاہیے وہ فوجی حکومتیں ہوں، یا جمہوری حکومتیں احتساب ہمیشہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہوا۔دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن ایک سنجیدہ اور اہم مسئلہ ہے۔ لیکن پاکستان میں احتساب کو ہمیشہ حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔پاکستان کا کوئی بھی ادارہ چاہیے۔وہ عدلیہ ہے یاسکیورٹی ادارے،کرپشن کی لعنت سے محفوظ نہیں ہے۔ لیکن ابھی تک کسی بھی حکومت نے اس فوری مرض کا صیح علاج کرنا کے لئے مخلصانہ اقدامات نہیں کئے۔

جنرل ضیا ء الحق نے بھی پہلے احتساب اور بھی انتخاب کا نعرہ لگا یا تھا۔لیکن اس نے احتساب کے بجائے کچھ خاص خاندانوں کو نوازنا شروع کیا۔ جس کی وجہ سے سیاست میں کاروباری لوگ جیسا کہ (شریف خاندان) آگئے اس طرح نوازشریف نے بھی ایک احتساب بیورو بنا یا تھا۔لیکن اس کا صرف بھٹو خاندان نشانہ بنا اور بے نظیر بھٹو آصف علی زرداری کے خلاف بہت ہے۔ غلط مقد مات بنائے۔ احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان نے عدالت میں آصف علی زرداری سے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے پھر معافی بھی مانگی تھی۔
جنرل پرویز مشرف نے بھی نوازشریف کی حکومت ختم کرنااور قومی احتساب بیورو کے نام ایک نیا ادارہ قائم کیا۔مشرف نے بھی احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔لیکن اس کا احتساب صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔ اور ان دونوں پارٹیوں کے لوگوں کو پریشر میں ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اور نئی پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم اور پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنائیں۔ اور احتساب بھول گیا۔ یعنی مشرفف کا احتساب صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے لئے تھا۔ جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی۔تو نیب نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے میثاق جمہوریت میں ایک آزاد اور خود مختیار احتساب کمیشن پر اتفاق کیا تھا۔ تاکہ آئندہ احتساب کو کو ئی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ لیکن جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو کئی مہنیوں تک مذاکرات پر متفق نہ ہوسکیں اور مشرف کا نیب کا قانون جاری رہا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو نیب اور دوسرے تحقیقاتی اداروں نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے خلاف جیسا کہ شرجیل میمن،ڈاکڑ عاصم کے خلاف کاروائیا ں شروع کیں۔ جس کی وجہ سے آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیا ن تعلقات خراب ہوگئے۔اور ایک دفعہ پھر ایک آزاداحتساب کمیشن کا خواب پورا نہ ہوسکا۔اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن چاہتے توا یک آزادانہ خود مختیار احتساب کمیشن کے قانون کو پاس کرسکتے تھے۔ لیکن وہ ناکام ہوئے حالانکہ نوازشریف کی حکومت میں تمام سیاسی پارٹیوں کے درمیان احتساب کمیشن پر قریب ہوگئے تھے۔ لیکن آکر میں ججوں اور جرنلیوں کے احتساب پر اختلافات کی وجہ سے وہ مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔ کیونکہ پی ٹی آئی نے آخر ی وقت پر اجلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔

عمران خان جب اپوزیشن میں تھے۔وہ بھی احتسا ب کا نعرہ لگاتے تھے، اور کہتے تھے کہ جب بھی پی ٹی آئی کی حکومت آئی گی، تو تمام بڑے بڑے چوروں کا احتساب کریں گے۔ جن میں نوازشریف،آصف علی زرداری،چوہدری برداران سر فہرست تھے۔ جب 2013میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو عمران خان نے جنر ل خاور کی سربراہی میں ایک احتساب کمیشن قائم کیا۔لیکن جب اس نے صوبائی حکومت کے اہلکاروں اور وزراء کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔ تو اس کو یعنی جنرل حامد کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ جس میں احتساب کمیشن پر عمران خان کو نازتھا۔ اسی احتساب کمیشن کے قانون پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبائی اسمبلی سے دوبارہ ختم کیا اور صوبائی احتساب کمیشن کو تالا لگایا۔

جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو اس نے 150آدمیوں کو جیل میں ڈالنے کا کہا جب کہ اس کے وزیر فیصل واوڈا نے پانچ ہزار بندوں کو لٹکانے پر زور دیا۔ اور چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال سے ملاقات کی اس ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔ اس ملاقات پر اپوزیشن نے بہت تنقید کی کہ نیب کا چیئر مین نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات تونہیں کی۔ جس سے ثابت ہوا کہ وزیر اعظم نے نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف نیب کاروائیاں تیز ہوگئی۔ بہت سے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیسسز پر کاروائی تیز ہوگئی۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف،سعد رفیق اور اسکا بھائی سلمان رفیق کو بھی گرفتار کیا۔ سعد رفیق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کو بیلنس کرنے کے لئے کچھ حکومت وزراء کو بھی گرفتار ہونگے۔ جس کے بعد صوبائی وزیر علیم خان کو گرفتار کیا۔ جس کوبعد میں ضمانت مل گئی۔ لیکن عدالت نے اس کو بھی بری کردیا۔اس کے علاوہ پنجاب کے وزیر سیبطین خان صرف واحد پی ٹی آئی کے رہنماہیں۔ جواس وقت جیل میں ہے۔

آج بہت سے اپوزیشن کے رہنما جیل میں ہے یا ضمانت پرہیں۔ جن میں نوازشریف،شہبازشریف،حمزہ شہبازشریف،آصف علی زرداری،آغاسراج دارانی،خواجہ سعد رفیق،سلمان رفیق، کامران مائیکل، شاہد خاقان عباسی،شرجیل میمن،راجہ پرویز اشرف،یوسف رضاگیلانی جس سے یا تاثر دیا جارہا ہے۔کہ نیب صرف اپوزیشن کے خلاف کاروائیاں کررہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور حکومتی وزراء کے بیانات نے احتساب کا عمل کو مشکو ک اور جانبدارنہ بنادیا ہے۔لیکن نیب کے چیئرمین کے کردار نے بھی احتساب کے عمل کو بھی مشکوک بنادیا گیاہے، ایک انٹرویو میں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہ اس پر حکومت کی طرف سے بہت دباؤ ہے۔ اس نے بھی یہ دعوی کیاتھا۔ کہ اگر حکومتی وزراء اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کاروائی شروع کی تو حکومت ختم ہوجائے گی۔ اسی انٹرویو میں نے کہا تھا کہ بہت جلد اپوزیشن رہنما بشمول حمزہ شہبازشریف جلد گرفتار ہونگے۔لیکن جب اس انٹرویو کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کاروائیاں تیزنہیں ہوئی تو چیئر مین نیب کا ایک ویڈیو سیکنڈل سامنے آگیا۔ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کے ایک چینل پر چیئرمین نیب کی ایک عورت کے ساتھ غیر اخلاقی باتوں اور حرکات پر ویڈیو چلا گیا۔ وزیراعظم نے تو اپنے خصوصی کو عہدے سے فارغ کردیا۔ لیکن اسکے بعد اپوزیشن کے خلاف کاروائی تیز ہوگئیں۔ او ر سا بقہ صدر آصف علی زرداری،شاہد خاقان عباسی،حمزہ شہبازشریف اور فریال تالپور گرفتار ہوگئے۔ اور دوسروں کے خلاف تحقیقات تیز کردی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ کسی کو NRO نہیں دونگا اور سیاسی قیدوں کے ساتھ عام سلوک کیا جائے گا۔ اور انکے کمروں میں AC اور ٹی وی ہٹا دی جائے گے۔وزیراعظم عمران خان کاکام احتساب نہیں ہے۔ احتساب کے لئے نیب اور عدلیہ موجود ہیں وزیراعظم کے ان بیانات سے سیاسی نفرت کی بوآتی ہے۔ اگر وزیراعظم واقعی غیر جانبدار احتساب میں سنجیدہ ہیں۔ توایک نئے اور غیرجانبدار احتساب کمیشن کے لئے قانون سازی کرنی چاہیے۔جس کے لئے اس کو اپوزیشن کا تعاون درکار ہوگا۔

وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیکر ایک ایسا احتساب کمیشن ادارے کا قیا م عمل میں لائیں جو ہر اس شخص اورادارے کا احتساب کرسکے۔ جس کو حکومتی خزانے سے فنڈز ملتے ہیں۔ ملک کو ایک ایسے آزاد اور غیر جانبدار احتساب ادارے کی اشد ضرورت ہیں۔ جس پر کسی سیاسی حکومت یا کسی ادارے کا کوئی اثرورسوخ نہ ہو کیونکہ ماضی میں نیب نے ہمیشہ انتقام اور سیاسی کے لئے استعما کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.