عوام کو ہی قربانی کا بکرا کیوں ؟

تحریر: رضوانہ محسود

جو شخص جس عہدے پر فائز ھوتا ھے وہ پابند ھوتا اپنے ادارے کے قول و ضوابط کے، اسی اصولوں میں رہ کر کام کیے جاتے ھیں۔
مزے کی بات یہ ھے ھم جیسے نکمے ان کے اعلیٰ عہدے کی وجہ سے فخر بھی محسوس کرتے ھیں، تعلقات بھی استوار رکھتے ھیں اور ان کے کاموں میں مداخلت بھی کرتے ھیں.
بات کو واپس اپنے موضوع کی جانب لاتے ھیں حلال جانور اور پاکستانی عوام پر قربانی کی چھری ان کے سروں پر ھمہ وقت منڈلاتی رہتی ھے۔
موجودہ گورنمنٹ تبدلی کا نعرہ لے کے اقتدار کے میدان میں اتری اور جو وعدے کنٹینرز پر کھڑے ھو کر عوام سے کیے وہ اللہ کے فضل سے پورے کر رہی ھےاور سوئی ھوئی عوام کے جاگتے ھی چیخیں نکل گئی ۔

مہنگائی کو رو رھے ، ٹیکس پر ٹیکس لاگو ھونے پہ رو رہے ۔ گورنمنٹ جو بھی ھو وہ یہ جانتی ھے کہ ھماری عوام میں بہت برداشت ھے ھر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی ھمت رکھتے ھیں اور اتنی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ھے کہ لوٹا ھوا قومی خزانہ عوام کی ھی جیبوں سے
بھرا جا ئے۔
یہ وہی بد قسمت عوام ھے جو تہتر (73) سالوں سے کسی ایسے لیڈر کی تلاش میں ھیں جو ارضِ پاکستان کو امن گہوارہ بنائے ، غربت کا خاتمہ کرے ، یکساں تعلیمِ نظام ھو ، صحت اور روزگار کے مواقعے ھوں، امیر غریب کے لیے یکساں قانون ھو ،انصاف کا حصول فوری ھو ، اسلامی نظام کا بول بالا ھو.

یہ کڑوا سچ ھے حکومت وقت نے ہر بار اپنے عوام کو قربانی کا بکرا بنائے رکھا ، ضرورت پڑی تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے کو کہا ، لاشیں گرائی گئیں ، گرفتاریاں ہوئیں ، عوام کے زور پر حکومتیں گرائی گئیں ،اپنے مفادات حاصل ہو جانے کے بعد عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے الٹا عوام سے گلے شکوے کیے گئے بلکہ یہ حق تو عوام کو حاصل ھے کہ حکومت وقت جنھوں نے ووٹوں کی خاطر الیکشن مہم کے دوران عوام کو جھوٹے خواب دیکھا کر اقتدار کی کرسی تو حاصل کر لیتے ھیں مگر عوام کو بھول جاتے ھیں۔
غلطیاں جہاں حکومت وقت کی رہی ھیں وہاں ھم عوام کی بھی ھیں ۔ جہاں اتنے سالوں سے کبھی جمہوری و عبوری حکومتوں کو برداشت کیا ، کچھ کو تو کئی کئی بار اقتدار سنبھالنے کا موقع دیا بدلے میں ملک وقوم کا شیرازہ بکھیر دیا۔

اب ذرا عمران خان کو بھی برداشت کر لیں ۔ پی۔ٹی۔آئی کی جماعت کو اپنی مدت پوری کر لینے دیں۔اب آسمان سے کوئی فرشتہ انے سے تو رہا ۔ ھم عوام کو چائیے اپنے پسندیدہ لیڈرز یا سیاسی جماعتوں کے اچھے اقدامات کی بھرپور حمایت کریں اور ان کے برے اقدامات پر خاموش رہنے کی بجائے کھل کر مخالفت کریں۔ملک و قوم کی بقاء کے لیے سیاسی جماعت کے جیالے بننے سے گریز کریں کیونکہ دونوں جانب سے نقصان ھم عوام کا ھے۔
دماغی کیفیت میں جب حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث اضطرابی صورتحال پیدا ہو جائے تو بے شمار سوالات جنم لیتے ہیں۔

آخر عوام کو ہی قربانی کا بکرا کیوں بنایا جاتا ھےاس لیے کہ عوام غریب ہے ، مجبور ہے ، بے بس ہے ، عوام کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ذیادتیوں کا ازالہ کرنے والا کوئی نہیں ۔
کیا عوام کو آسائشوں کی اور پر سکون ذندگی گزرانے کا کوئی حق نہیں؟
حکمرانوں کی آپس کی لوٹ مار ،کرپشن کا نزلہ غریب عوام پر کیوں گرایا جاتا ہے؟
عوام کے صبر کا پیمانہ اگر  ایک بار اپنے لیول سے گر جائے تو ایک سیلابی ریلے کی مانند امڈ آتا ہے ۔

ایک وقت تھا جب پاکستان میں عوام حکومت وقت کے خلاف سڑکوں پے نکلتے تھے اب سیاسی جماعتیں اپنے ناکردہ گناہوں پر پردہ پوشی ڈالنے کے لیے زبرستی عوام کو سڑکوں پر گھسیٹتی ہے حالانکہ دیکھا جائے اقتدار کی کرسی پہ بیٹھنے والا ایلکٹڈ ہو یا سیلکٹڈ دونوں صورتوں میں عوام کے محتاج ہوتے ہیں ، ایک ووٹ ہی ایسا کمزور پوائنٹ ہے جو حکمران کو عوام کے دروازے تک لے آتا ھے ۔
ہسپتال ،سکول ،تفریحی مقامات بنانے سے ملک ترقی نہیں کرتا جب تک عوام خوشحال نہیں ہو گی ملک کا پیہ ڈگمگاتا رہے گا۔زبان اور لباس بدلنے سے نہیں بلکہ ملکی اداروں کو صحیح معنوں میں ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کو کم کیا جائے۔اب تو عوام قربانی کے زمرے سے بھی باہر ہے قربانی کے شرائط پر پورا نہیں اترتے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.