کرتار پور سے ڈیورنڈ لائن کا موازنہ: بدنیتی پر مبنی ھے؟

ڈیورنڈ لائن کو اج بھی ہزاروں افغان بغیر ویزے کے پار کرتےہیں۔

لحاظ علی

پشاور:  پاکستان کے مشرقی سرحد پر سکھوں کے لئے کرتارپور راہداری کو کھول کر مغربی سرحد سے تعلق رکھنے والے قوم پرستوں نے ڈیورنڈ لائن اور مشرقی سرحدات کا موازنہ شرو ع کر دیا ہے کہ حکومت مغربی سرحد پر باڑ لگارہی ہے جب کہ مشرقی سرحد کو شدید دشمنی کے باوجود کھول رہی ہے

تاہم کئی اہم تجزیہ کار اور رہنماﺅں نے قوم پرستوں کے اس موقف کی شدید الفاظ میں مخالفت کی کہ کرتارپور کا ڈیورنڈ لائن سے موازنہ بالکل غلط ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریباً دوماہ قبل کرتارپور رہداری کے افتتاح سے قبل طورخم کے مقام پر افغانستان کےساتھ 24 گھنٹے تجارت کے لئے سرحد کھولنے کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا تاہم افغان حکام نے پاکستانی حکام پر واضح کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹے تجارتی تعلقات قائم نہیں رکھ سکتے اس لئے طورخم بارڈر پر اسوقت صبح 8 سے لیکر شام 7 بجے تک تجارت ہوتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدرایمل ولی خان سمیت کئی دیگر قوم پرست رہنماﺅں نے وزیراعظم عمران خان کی کرتارپور راہداری کے افتتاح کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور افغانستان کے مابین تفاوت پیدا کر رہی ہے لیکن مشرقی سرحد کو جذبہ خیر سگالی کے تحت نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کے باوجوود کھولا جا رہا ہے

پاکستان اور بھارت کے مابین بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ساتھ چند سو کلومیٹرز (حل طلب) سرحد کو ورکنگ باﺅنڈری، جبکہ کشمیر کو تقسیم کرنے والے لکیر کو لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان کی مغربی حدود کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتاہے ۔

پاکستان کے مغرب میں ڈیورنڈ لائن، مشرقی کی لائن آف کنٹرول اورورکنگ باﺅنڈری سے کیوں مختلف ہے؟؟

تجزیہ کار ضیغم خان کہتے ہیں کرتارپور کو ڈیورنڈ لائن سے ملانا ایک مکمل طور پر غلطی ہے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان اور افغانستان کی حدود کا موازنہ سر جڑے بھائیوں سے کیا تھا جس کو بعد ازاں جدا کیا گیا اس لئے پاکستان کی بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد کو دنیا کی بدترین سرحد کہا جاتا ہے اکثر و بیشتر اس کا موازنہ شمالی و جنوبی کوریا کی سرحدسے کیا جاتا ہے جہاں ہمیشہ فورسز کے مابین چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں

لیکن مغربی سرحد پر معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ بارڈرمینجمنٹ سے قبل روزانہ افغانستان سے 40 سے 50 ہزار افراد بغیر ویزے کے پاکستانی حدود میں داخل ہوتے تھے تاہم بعد میں افغانستان کے مسلسل الزامات کے بعد پاکستان نے افغانیوں کےلئے ویزے کی شرط رکھ دی لیکن آج بھی پاکستان میں مقیم پچیس لاکھ سے زائد افغانیوں میں صرف بارہ لاکھ کے قریب ویزہ رکھے ہوئے ہیں اسکا مطلب ہے لاکھوں افغانی اب بھی پاکستان میں ویزے کے بغیر قیام پزیر ہیں۔

کرتارپور راہداری کو کھولنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کے اقدام کو صرف قوم پرست رہنماﺅں نے نہیں بلکہ پی ٹی ایم کے علی وزیر اور دیگر رہنماﺅں نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے،

اسفندیارولی خان کیا کہتے ہیں؟؟

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان کہتے ہیں کرتارپور کا کھلنا خوش آئند ہے، ملکوں کی پالیسیاں عوام کے میل میلاپ سے ہی بنتی ہیں لیکن ایک بات پر ہمیں افسوس ہے کہ ایک طرف راہداریاں کھل رہی ہے جبکہ دوسری طرف باڑ لگائے جارہے ہیں۔

مغربی سرحد کی تاریخ کیاہے؟؟

1893ءمیں افغان امیر عبدالرحمن اور برطانوی راج کے نمائندے سر مورٹیمر ڈیورنڈ کے مابین جب ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا تو برطانوی راج اور افغانستان کے مابین ایک سرحد کا تعین ہوا  1895ء میں اورکزئی کے قبائل کا ایک وفد دیگر قبائلی رہنماﺅں کے ساتھ مل کر امیرعبدالرحمن سے ملنے کےلئے افغانستان جارہاتھا تاکہ اسے بتا سکے کہ ڈیورنڈلائن معاہدہ مقامی قبائل کو قبول نہیں اوراب بھی پختون افغانستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں لیکن امیرعبدالرحمن نے اس وفد سے ملنے سے انکار کر دیا اور انہیں جلال آبادمیں روک دیا بعد ازاں جب1897ءاور 1898ءمیں انگریزوں کے خلاف قبائلی علاقوں کے ساتھ سوات ،باجوڑ اورپختونوں کے دیگر علاقوں میں بغاوت ک اعلم بلند ہوا تو اس دوران بھی افغان حکومت نے پختونوں کی کسی قسم کی مدد نہیں کی حتیٰ کہ ڈیورنڈ لائن کے معاہدے سے قبل گندمک معاہدے کے تحت افغان حکومت برطانوی راج سے 30 لاکھ سالانہ وصول کرتے تھے ۔

بہت سے رہنماﺅں کا خیال ہے کہ 1919ء میں معاہدہ پنڈی کے تحت جب افغانستان کو آزادی ملی تو اس وقت بھی غازی امان اللہ نے پختون کے علاقے کیلئے آواز بلند نہیں کی پختونخوا کے باشندوں نے افغانستان کو نہیں بلکہ افغان حکمرانوں نے پختونوں کو اکیلا چھوڑا تھا۔

سوشل میڈیا پر کرتارپور راہداری کے کھولنے کو رنجیت سنگھ کے قبیلے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے اورکہا جا رہا ہے کہ رنجیت سنگھ نے ایک طرف پختونوں کو قتل کیا تودوسری طرف پاکستانی حکمران ان کے لئے سرحد کھول رہے ہیں تاہم تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو رنجیت سنگھ جب پشاور میں پختونوں کا خون بہا رہا تھا تو اس وقت پختونخوا کے حکمران انگریز نہیں بلکہ افغانستان کے امیر دوست محمدخان تھے جنکے بھائیوں نے خود سکھوں کے ساتھ معاہدے کئے تھے۔

کرتارپور میں نیا کیا ہے؟؟ 

افغانستان سے داخل ہونے والے افغانی پاکستان کے کسی بھی شہر میں قیام کر سکتے ہیں لیکن کرتارپور میں جو بھارتی سکھ داخل ہونگے وہ صرف کرتارپور کی حدود تک پاکستان میں ایک مقررہ وقت تک قیام کرسکیں گے اور کرتارپور گوردوارے میں عبادت کے بعد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی بجائے واپس ہندوستان جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.