نمرتا کماری کی پراسرار موت، خودکشی یا قتل

تحسین اللہ تاسیر

نمرتا کماری کون تھی؟ کیا نمرتا نے خود کشی کی تھی یا اسے قتل کیا گیا تھا؟کیا واقعی نمرتا کیساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی؟ نمرتا کس سے محبت کرتی تھی؟پوسٹ مارتم رپورٹ میں کیا حقائق سامنے اگئے ہیں؟
نمرتا کماری کی پر اسرار موت کی کہانی شروع ہوتی ہے 16 ستمبر سے۔
لیکن اس سے پہلے اپ کو یہ بتاو کہ نمرتا کماری کون تھی؟

نمرتا کماری سندھ کے علاقہ گوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو میں سال 1997 کو ایک ہندو برادری کے گھر میں پیدا ہوئی، نمرتا کے والدین کراچی میں رہتے ہیں ۔تاہم نمرتا بی ڈی ایس فائنل آئیرکی طالبہ تھی اور آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ میں پڑھ رہی تھی۔ نمرتا کالج کے ہاسٹل میں رہتی تھی اور تعلیم کے علاوہ سماجی سرگرمیوں میں بھی انتہائی فعال تھی۔
16 ستمبر کو دن کے 2 بجے تھے کہ ان کی رومیٹ گیتا کمرے میں گئی، بار بار دستک کے باوجود جب کمرے کا دروازہ نہیں کھولا گیا ، تو گیتا نے دروازہ توڑ دیا۔ گیتا کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے نمرتا کی دوپٹے سے پھندا لگی لاش دیکھی۔
کیا نمرتا نے خودکشی کی تھی؟ اس سلسلے میں پولیس نے نمرتا کی بعض ساتھی طالبات کے بیانات بھی قلمبند کر لئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران نمرتا کی موت کے واقعہ میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آگیا جب ان کے ایک دوست مہران ابڑو نے نمرتا کیساتھ محبت کرنے کا انکشاف کیا۔
مہران ابڑو کا کہناتھا کہ میں اور نمرتا ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے،لیکن ہماری شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ میری والدہ تھی اور اس نے ایک ماہ قبل نمرتا کماری کی رشتے سے انکار کیا تھا۔

رشتے سے انکار کے بعد نمرتا کماری ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور علاج کرانے لگی، مہران کے مطابق نمرتا کماری اسے چار سال سے خرچہ دیتی تھی،اور اے ٹی ایم کارڈ کے اختیارات بھی ان کے ہاتھ میں تھے۔
تحقیقات کے دوران کالج کے سنیئر پروفیسر امرلعل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نمرتا کئی دنوں سے کافی پریشان تھی، ایک دن وہ روئی اور ساری صورت حال سے مجھے آگاہ کیا ، میں نےدکھ کی اس گھڑی سے نجات کے لئے نمرتا کو یوگا اور ورزش کرنے کا مشورہ دیا۔

نمرتا کماری کے دوست علی شان میمن نے اپنے بیان ریکارڈ کراتے وقت کہا تھا کہ واقعہ کے دن میں نے نمرتا کو ہیلو کا میسج کیا جس کا جواب نہیں آیا۔ علی شان میمن نے کہا کہ میں نے دوبارہ میسج کیا کہ آجائیں لائبریری میں بات کرنی ہے جس پر انہوں نے انکار کیا اور بائے لکھا۔ جس کے بعد نمرتا کو میسجز اور کالز کیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
اب آتے ہیں نمرتا کماری کی موت کے پوسٹ مارتم رپورٹ کی طرف۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نمرتا کو قتل کرنے سے پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ میں مرد کے ڈی این اے پروفائل موجود ہے جو لاش کے کپڑوں سے بھی ظاہر ہے، مرد کے ڈی این اے کی باقیات سے ظاہر ہے کہ نمرتا سے جنسی زیادتی کی گئی۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نمرتا کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ نمرتا کی گردن پر پھندے کے نشانات تھے۔ میڈیکو لیگل آفیسر کے مطابق اس طرح کی علامتیں یا تو گلا گھونٹنے پر یا پھانسی پر ظاہر ہوتی ہیں۔

نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے شک ظاہر کیا ہے کہ ان کی بہن کی موت خود کشی نہیں تھی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر وشال نے کہا کہ نمرتا کو کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی وہ کیوں یہ قدم اٹھاتیں۔ڈاکٹر وشال کے مطابق نمرتا کے امتحان ہو رہے تھے اور وہ ٹاپ ٹین پوزیشن کے لیے پُرعزم تھیں۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کی وائس چانسلر ا

 

نیلا عطا الرحمان نے بتایا کہ جب انہوں نے نمرتا کی لاش دیکھ

ی تو گلے پر ’بڑا نشان تھا، جسے رسی باندھی گئی ہو۔
دوسری جانب پولیس نے نمرتا کے بینک اکائونٹ کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں۔ نمرتا کے بینک اکائونٹ سے لاکھوں روپے کی ٹرانزکشنز کی گئیں ہیں۔
تمام تر صورتحال کو سامنے رکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نمرتا کماری نے خودکشی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.