آزادی مارچ "سادے لوگ سیاست و سیاسیوں کے ہتھے چھڑ گئے” رپورٹر کی ڈائری

قیاس آرائیاں اور حقیقت! مولانا سوچ رہا ھے کہ کیسے نکلوں یہاں سے؟

عثمان کے مشاھدات

مولانا فضل الرحمان کی آواز پر لبیک کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا نو مختلف پارٹیوں نے مارچ میں باقاعدہ طور پر حصہ لیا مگر حقیقت میں خیبر پختونخوا میں موجود تمام جماعتوں کے ورکرز اور رہنماوں نے بھرپور حصہ لیا اور اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارکنان کو اسمیں لانے کی کوشیش کی جس پر پورا اترتے ہوئے اےاین پی نے تمام جماعتوں سے بڑ کر لوگ میدان میں اتراے اسکے بعد محمود خان اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اسمیں پیش پیش رہی،

مگر قربان جاوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر جسنے مولانا کو بند گلی کی جانب دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا اور کامیاب ہوئے ،فائدے بھی لئے سب سے زیادہ ن لیگ نے مولانا کے کراوڈ کو کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے،بات یہ نہیں کون کتنا اور کس نے کیا کیا بات ہے مولانا کتنے لوگ لانے میں کامیاب ہوا گو کہ مدرسوں میں مولانا کا سارا ووٹ بینک موجود ہے اور ساری پاور ہی مدرسے کے طلبہ ہیں جنکو حکومت نے مولانا پر اسی انداز میں پابندی لگائی کہ مولانا مدرسے کے طلبہ کو بٹکا رہا ہے،

اسی دن سے مولانا نے فیصلہ کرلیا نہیں میں لاونگا زیادہ سے زیادہ لوگ لیکن مدرسے کے طلبہ کو نہیں پہلے دن میں نے جو مشاہدہ کیا ساٹھ سے ستر ہزار بندہ پنڈال میں آیا جسنے مولانا کی طاقت کو اور تقویت بخشی اور جنکو وہ دیکھانا چاہتے تھے انکو بھی جان کے لالے پڑ گئے اسی طرح دوسرے دن سے لیکر آج تک ہفتہ ہوگیا لقگوں کی تعداد گٹتی رہی جو اب اندازے کے مطابق بیس سے پچیس ہزار رہ گئی ہے ،اسی پنڈال میں اب اپوزیشن جماعتوں میں سے کوئی بھی دیکھائی نہیں دے رہا صرف انکے جنڈے لگے ہیں

مختلف خیموں پر جو پہلے دن لگائے تھے صرف محمود خان اچکزئی ہی ہیں جسنے مولانا صاحب کے کندھوں کو مضبوطی بخشی ہے اور کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں اُسکے کارکنان کے یہاں ہونے کی بڑی وجہ بلوچستان سے اسلام آباد کی یاترا ہے اب بغیر کسی مقصد کے جانا بھی مشکل ہے ہوا کیا مولانا کی طاقت دن بدن کم ہوتی رہی اور رہی سہی کسر بارش نے پوری کر دی

بارش کے بعد اب حالت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کے پاس نہ کوئی خیمہ ہے نہ کوئی اور بندوبست بے سروسامانی کی حالت میں وہ جائیں تو کہاں جائیں میٹرو سٹیشن اور خالی کنٙٹینر نے انکی محرومی کو تھوڑا کم کیا ہے لیکن اور آخر کب تک،پورے پنڈال میں تقریباً ہر خیمے پرجانےاور لوگوں سے ملنے کے بعد میں اتنا کہ سکتا ہوں کہ مولانا سوچ رہا ہوگا کیسے نکلوں یہاں سے کیا کروں ،حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی اوپر سے بارش نے نیا عذاب لاکے کھڑا کردیا ہے،

دھرنے میں شریک تین بندے ابتک جہاں فانی سے رخصت ہوچکے ہیں،باقی بھی زیادتر سردی اور بارش سے پہلے دھول مٹی کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا پمز کے چکر کاٹ رہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ ہلال حمر کے کیمپ سے ملنے والی ابتدائی طبی امداد پر ہی گزارا کرریے ہیں،

جو پیسے جمع کئے تھے وہ بھی ختم ہونے کو ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں ،سچ کہوں تو” سادے لوگ سیاست اور سیاسیوں کے ہتھے چھڑ گئے” مزے کی بات ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو کہتے ہیں کہ اے این پی سے تعلق ہے ہمیں چھوڑ کر یہاں نہ ابتک اسفندیار کوئی تقریر کرنے آیا ہے نہ اُسکے صاحبزادے نے ملاقات کا شرف بخشا ہے،نتیجہ اسی دھرنے اور عمرانی دھرنے میں فرق صرف امیر اور غریب کا ہے غائیبی قوتوں کی پشت پناہی نہیں اور جو لوگ آئے ہیں نہ سمجھی میں مارے گئے ہیں ،عمرانی دھرنے والے تو سوچ سمجھ کر موج مارنے کے لئے آتے تھے
یہاں تو موج بھی نہیں صرف تکالیف اور مشکلات ہیں اور کچھ نہیں لوگوں کے دلی جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے اور کچھ نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.