‘میں بھی افغان ہوں’ کا ٹرینڈ اینڈ کرائسس اف آئڈنٹیٹی؟

افغان کبھی بھی کسی نسل کا نام نہیں رھا، شھریت کا ہے۔نسل پختون ھے

قاسم یوسفزے

نادرا کی طرف سے حال ہی میں جمعیت علماءاسلام کے راھنما سینٹر حافظ حمداللہ کی پاکستانی شہریت ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر ‘میں بھی افغان ہوں ‘ کا ٹرینڐ چلا۔

جہاں تک آزادی اظہار اور آزادی صحافت کا تعلق ہے اس حد تک تو یہ بالکل حق بجانب ہے کہ ہر کوئ ایسے اقدامات کی مزمت کرے جو آزادی اظہار کے راستے میں حائل ہو لیکن بد قسمتی سے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اس حکومتی اقدام کو نسلی رنگ دینے کی کوشش کی گئی.
پاکستانی پختون افغان ہے یا نہیں اس کے بارے میں تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن میں اس ادبی اور تاریخی بحثوں میں نہ اپنا وقت ضائع کرنا چاہتا ہوں نہ آپ کا. آج کے دنیا میں افغانستان کے علاوہ پختون جہاں کہیں بھی ہے اس کو افغان نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک بالکل سیدھی سادھی اور آسان بات ہے لیکن اس حقیقت کو کچھ سیاسی اور کچھ ادبی حلقوں نے اپنی پنی ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بہت مشکل بنا دیا ہے.
پاکستانی پختون نوجوان کو دانستہ طور پر اپنے حقیقی پہچان سے دور رکنے کی یہ کوشش یا سازش کوئی نئی بات نہیں، اس آئڈنٹیٹی کرائسس کے بنانے میں عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا کردار نمایا دکھائی دیتا ہے. اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اس نام نہاد قوم پرست سیاسی جماعتوں نے ‘لر اور بر ‘ جسے نعروں سے پختون نوجوان کے ذھنوں کو نہ صرف آلودہ کیا بلکہ ان میں پاکستان کے خلاف زہر بھی گول دیا.
اس قسم کے نعروں اور بیانئے (Narrative) کا فائدہ صرف اور صرف ان سیاسی خاندانوں کو ہوا جنہون نے اسے شروع کیا تھا باقی سارا نقصان پاکستانی پختون نوجوان کو اٹھانا پڑا اور ابھی تک اٹھا رہا ہے جس کے نتیجے میں ‘ میں بھی افغان ہوں ‘ جیسے ٹرینڈ ہر وقت دیکھنے کو ملتے ہیں.
پاکستانی پختون نوجوان پاکستان کا شہری ھے پاکستان اسکا گھر ھے اور ان سے گیت افغانستان کے گائے جاتے ہیں، آزادی اور بہار کے جیسے سارے دن افغانستان کے ساتھ مناتا ہے کیونکہ اسے کہا گیا ہے کہ تم افغان ہو اور تمھارا سب کچھ افغانستان کے ساتھ ہے. کچھ پاکستانی پختون نوجوانوں کو نہ صرف پاکستان سے دور کیا گیا ہے بلکہ اس کو اس مقام تک پہنچایا گیا ہے کہ اس کو پاکستانی کہتے ہوے شرم آنے لگی ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو افغان کہتا ہے. دوسری طرف وہ نام نہاد پختون قوم پرست ایک دن کے لیے بھی پاکستانی سیاست اور اقتدار سے جدا ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے. لر اور بر کے نعرے بلند کرنے والے پاکستانی سیاست کے مزے لوٹنے میں چوتے پشت تک پہنچ چکے ہیں.
جہاں تک پختون قوم کے افغان ہونے کا تعلق ہے تو یہ تو بڑی سیدھی سادھی بات ہے کہ افغان صرف اس بندے کو کہا جائے گا جو افغانستان کا شہری ہو، افغانستان کے آئین کا آرٹیکل چار اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں کہاں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا پختون بھی ‘افغان ‘ ہے؟ اسی آرٹیکل میں صاف لکھا گیا ہے کہ پختون، ہزارہ، تاجک، ازبک وغیرہ سب افغان ہے جو افغانستان کے اندر رہتے ہیں.
ایک زمانے میں افغان لفظ ایرانیوں کی طرف سے پختون قوم کے لئے استعمال کیا گیا تھا جسطرح ہندوستان میں ان کے لئے پٹھان کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا، اس سے زیادہ افغان لفظ کا پختون قوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں.اب میں یہ سمجنے سے بالکل قاصر ہوں کہ کوئی اپنے نام کے اوپر کسی کے دیئے ہوئے نام کو کیوں ترجیح دیگا؟

ہزاروں سال سے اس قوم کا نام پختون ہے، زبان پشتوں اور کلچر پختونولی ہے اس میں افغان نامی لفظ کا کہیں زکر نہیں. پشتوں کے حروف کو اگر دیکھا جائے تو اس میں ‘ ف ‘ کا حرف بہت تاخیر سے آیا ہے، تو جس قوم کے زبان میں ‘ف ‘ کا لفظ ہی نہ ہو اس قوم کا نام کیسے ‘افغان ‘ ہو سکتا ہے؟
افغان کبھی بھی کسی نسل کا نام نہیں رہا، یہ ایک شہریت کا نام ہے جسطرح پاکستانی یا امریکی، ہاں اس نسل کا نام پختون تھا، ہے اور رہے گا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.