طورخم بارڈر پر کئی ریاستی ادارے تاجروں کو تنگ کرکے تجارت کی حوصلہ شکنی کرتے ھیں؟

تجارتی ٹرکوں اور کنٹینرز کی غیر قانونی چیکنگ،ڈرائیوروں کو تنگ کرنا روز کا معمول

(تفصیلی رپورٹ کیلئے ویڈیو دیکھیں)

میرے لئے یہ بات بلکل نہ ماننے والی تھی۔ کہ ریاست پاکستان کے مختلف ادارے وزیراعظم عمران خان کے کھلے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ھوئے کس طرح طورخم بارڈر پر تجارتی کرنے والوں (ایکسپورٹرز اور ایمپورٹرز ) کو تنگ کرتے ہیں۔

خیبر ٹی وی کیلئے طورخم بارڈر پر تجارت کے حوالے سے پروگرام کے دوران یہ چشم کشاہ انکشافات ھوئے۔

پروگرام میں پاکستان کسٹم کلیرنگ ایجنٹس ایسوسیشن کے نائب صدر ضیاء الحق سرحدی اور پاکستان کے لیڈنگ ٹرانسپورٹر شاجی گل افریدی صاحب کے مطابق پاکستان کے سکورٹی اداروں سمیت کئی ادارے غیر قانونی طور افغانستان جانے والے ٹرکوں اور کنٹینروں کی مختلف بہانوں چیکنگ کرتے ہیں۔ اور یہ کام بھتہ وصولی کیلئے کرتے ہیں۔ ڈرائیوروں کو تنگ کرتے ہیں۔ٹرکوں اور کنٹینرز کو ھفتوں ھفتوں راستوں میں کھڑے کرتے ہیں۔ جس سے تاجروں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ھے۔

یہ چیکنگ کبھی سمگلنگ روکنے کے نام پر ھوتا ھے اور کبھی ان اشیاء کے نام جسکی درامد اور برامد منع ہے۔

پاکستان کی تجارتی پالیسی کے تخت اور قانون کے مطابق۔ کسی بھی بارڈر پر ایکسپورٹ اور ایمپورٹس کی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کی زمہ داری پاکستان کسٹمز اور کسٹمز انٹلجنس کی ھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ھے کہ طورخم بارڈر پر ایکسپورٹ اور ایمپورٹس اور افغان ٹرانزٹ کے تخت جانے والے ٹرک اور کنٹینرز کو نہ صرف کسٹمز والے (جو قانونی ھے) بلکہ سکورٹی اداروں کے لوگ، انٹلجنس ادارے، ایف آئی اے، پولیس، خاصہ دار یہاں تک کہ این ایل سی والے بھی چیک کرتے ہیں۔ اور جگہ جگہ ایکسپورٹروں اور ایمپورٹروں کو چیکنگ کے نام پر تنگ کرتے ہیں۔ اس طرح کہ چیکنگ واگہ بارڈر پر بھی نہیں ھوتی جہاں سے دشمن ملک انڈیا کے ساتھ ٹریڈ ھوتی ھے۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.