ہائی کورٹ کا ایف آئی اے میں غیر قانونی ضم اہلکاروں کا واپس محکموں میں بھجوانے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں غیر قانونی ضم ہونے والے پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا واپس اپنے محکموں میں بھجوانے کا حکم صادر کر دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے آج ایک تاریخی فیصلہ کیا جس کے تحت ایف آئی اے میں غیر قانون طورپر ضم ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے سب انسپکٹر سید نصیر احمد شاہ اور اے ایس آئی فیاض حسین کو واپس خیبرپختونخواہ پولیس میں بھجوانے کا حکم دے دیا.

ہائی کورٹ نے یہ احکامات سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کی روشنی میں دیے جس کے تحت سندھ پولیس اور باقی تمام سرکاری محکموں میں غیر قانونی طور پر ضم ہونے والوں کو واپس اپنے محکموں میں بھجوانے کا حکم ہوا تھا مگر ایف آئی اے کی لیگل برانچ کی ملی بھگت سے پولیس کو واپس کیا جانے والی سید نصیر شاہ نے پشاور ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل کرلیا تھا اور پچھلے دو سالوں سے اسٹے آرڈر کی بنیاد پر اپنی نوکری FIA میں جاری رکھے ہوئے تھا.

مگر اتحاد گنڈاپور کی تعیناتی کے بعد ایف آئی اے کی لیگل برانچ نے ہائی کورٹ میں واضح موقف اختیار کرلیا جس کی بنیاد پر عدالت نے سب انسپکٹر سید نصیر احمد شاہ اور اے ایس آئی فیاض حسین اور دیگر کو واپس اپنے محکموں میں بھجوانے کے فیصلے کی توثیق کردی.

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ابھی تک مذکورہ اہلکاروں نے کے پی کے پولیس میں اپنی ڈیوٹیاں سنبھالنے کے لئے رپورٹ کیوں نہیں کی اور محکمہ پولیس نے ابھی تک ان کے خلاف عدم حاضری پر تادیبی کاروائی کیوں نہیں شروع کی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.