امریکہ نے متعدد طالبان رہنماوں کو رہا کردیا

آزاد ہونے والوں میں شیڈو گورنرز ، شیخ عبدالرحیم اور مولوی راشد بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں امریکی حکام نے اتوار کو قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت تین سنئیر افغان طالبان کو رہاکردیا۔طالبان ذرائع نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بگرام جیل سے رہائی پانے والوں میں سے طالبان حکومت کے دوران کنڑ صوبے کے گورنر شیخ عبدالرحیم اور نمروز کے گورنر مولوی عبدالرحیم شامل ہے ۔طالبان کے مطابق یہ تبادلہ تین بھارتی انجینئروں کی رہائی کےبدلے میں ہوا۔

امریکی نمائندہ برائے پاکستان ،افغانستان زلمے خلیل زاد نے پچھلے ہفتے طالبان کے سخت مذاکرات کار ملا عبد الغنی برادر سے ملاقات کی ، جو سخت گیر طالبان تحریک کے شریک بانی اور پاکستانی دارالحکومت میں طالبان وفد کے سربراہ تھے۔

امریکہ نے اصرار کیا کہ خلیل زاد امن مذاکرات کی بحالی کے لئے پاکستان میں نہیں تھا۔ لیکن طالبان اور پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیاں ملاقات کی تصدیق کی۔

یادرہے کہ بگرام کا کچھ حصہ ابھی بھی امریکہ فوجیوں کے کنٹرول میں ہے ۔اسلام آباد میں گزشتہ چندر وز میں طالبان امریکہ اور پاکستانی حکام کے درمیان مذکرات میں افغان طالبان کے قیدیوں اور 2016 میں کابل سے اغواء ہونے والے امریکی اور آسٹریلوی پروفیسروں پر تبادلہ پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی پروفیسر کیون کنگ اور آسٹریلیا کے پروفیسر ٹموتھ ویکس کو 7 اگست ، 2016 کو کابل میں اغوا کیا گیا تھا۔اور امکان ہے کہ پروفیسر کی رہائی بھی جلد متوقع ہے۔

طالبان ذرائع نے بتایاکہ اتوار کو بگرام جیل سے تین طالبان رہنماوں کی رہائی کے بعد انہیں بغلان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں طالبان رہنماوں کے حوالے کیا۔ طالبان رہائی پانے والوں کا گرم جوشی سے استقبال کیا اوران کو پھولوں کی ہارپہنائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.