افغان صدارتی انتخابات۔دوبارہ متنازعہ ہونے جارھے ہیں؟

بائیومیٹرک کے بغیر زیادہ ڈالے گئے ووٹ شمار ھوگے یا نھی۔ غیر پشتون ملک کا سربراہ؛ نیا تنازعہ. تفصیل ویڈیو رپورٹ

تفصیل ویڈیو رپورٹ

افغانستان میں گزشتہ روز ھونے والے صدارتی انتخابات کی پرامن انتخابات کے بعد ملک کے اندر ایک بار پھر کچھ قوتیں انھیں متنازعہ بنانے کی کوشش کرھے ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ صاحب نے پہلے سے اپنی جیت کا اعلان کیا ھے۔ اور کہا ھے کہ انھوں نے اتنے ووٹ حاصل کئے ہیں جس سے دوسرے راونڈ میں جانے کی کوئی ضرورت پیش نہیں ائے گی۔ اور الزام لگا رھے ہیں کہ حکومت نتائج کو تبدیل کرنے کہ کوشش کر رھی ھے۔ جس کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔

سب سے متنازعہ ایشو اس وقت ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے ہیں۔ کن ووٹوں کی گنتی ھوگی اور کن کی نہیں ھوگی۔ اس سوال پر انتخابات کے دو لیڈنگ امیدوار اور انکے سپورٹرز تقسیم ھیں۔ اگرچہ اس حوالے سے ازاد الیکشن کمیشن نے انتخابات سے پہلے واضح بیان دیا تھا۔ کہ صرف ان ووٹوں کو شمار کیا جائے گا۔ جو بائیومیٹرک مشین سے پول ھوگئے ہیں۔ اور نان بائیومیٹرک ووٹوں کو ہرگز شمار نہیں کیا جائےگا۔

ڈاکٹر عبداللہ بھی یہی کہتے ہیں کہ بائیومیٹرک کے بغیر پول کئے گئے ووٹوں کی گنتی انھیں منظور نہیں ھوگی۔

جبکہ ڈاکٹر اشرف غنی کے حامی سمجھتے ہیں۔ کہ بائیومیٹرک کے بغیر زیادہ ووٹ ان علاقوں میں پول ھوئے ہیں جہاں اشرف غنی کو زیادہ ووٹ ملنے کے چانسز ھے۔ اور یہ حقیقت ھے۔ کہ زیادہ تر پشتون علاقوں میں بغیر بائیومیٹرک کے ووٹ کاسٹ ھوئے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں دیگر مسائل کے ساتھ بائیومیٹرک سسٹم بھی صحیح کام نہیں کر رھا تھا۔ اور لوگوں کو بتایا گیا تھا۔ کہ جہاں بائیومیٹرک کا نہیں کررھا ھے وہاں بغیر بائیومیٹرک کے ووٹ ڈالے جائے۔

افغانستان میں ھونے والے صدارتی انتخابات کئی حوالوں سے قابل ستائش ھیں ۔ افغانستان کے اندر اور باھر ہر کوئی افغانستان کے موجودہ اندرونی حالات کے پیش نظر ان انتخابات کی پرامن انعقاد کو افغان حکومت، ازاد الیکشن کمیشن اور سکورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کردار کی عکاس سمجھتے ہیں۔

پورے ملک میں انتخابات کی  پر امن انعقاد نے ان تمام تجزیوں اور تبصروں کو غلط ثابت کیا جو انتخابات سے پہلے کئے جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک ڈر کا ماحول بنا ہوا تھا۔ طالبان دھمکیوں کی وجہ سے ڈر تھا کہ لو ووٹ ڈالنے کیلئے گھروں سے نہیں نکلیں گے۔ اور الیکشن عملہ پولنگ سنٹرز پر نہیں جائے گا۔ اور ہر کوئی کہہ رھا تھا. کہ افغان سکورٹی فورسز اس قابل نہیں کہ پورے ملک میں ۵۳۰۰ پولنگ سنٹرز پر لوگوں اور الیکسن عملے کو سکورٹی فراھم کرے۔ کیونکہ عام تاثر یہ پیدا کیا گیا تھا۔ کہ طالبان کا ملک کے ۶۰ فیصد علاقے پر اثر ھے۔ اور ان علاقوں میں جہاں طالبان کا اثر زیادہ ھے وہیں پہ لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے گھروں سے نہیں نکلیں گے۔

لیکن انتخابات کے پر امن انعقاد نے یہ سب دعوے غلط ثابت کئے۔ چند چھوٹے چھوٹے واقعات کے علاوہ انتخابات انتہائی پر امن ماحول میں ھوئے۔

افغانستان میں افغان پشتونو کا ایک مسئلہ اور بھی ھے۔افغانستان میں پشتون ابادی یہ سمجھتی ھے کہ افغانستان میں صرف پشتون ہی ملک کا سربراہ ھوگا۔ میں سمجھتا ھوں کہ ملک کی وسیع تر مفاد یہ حق ہر افغان کو ھونا چاہیے، کہ وہ ملک کا کوئی بھی عہدہ حاصل کرسکتا ھے۔ جس طرح افغان ائین میں درج ھے۔

۲۰۱۴ انتخابات میں پہلے راونڈ میں ڈاکٹر عبداللہ نے ۴۵ فیصد ووٹ لئے تھے۔ جبکہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ۳۵ فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ لیکن دوسرے راونڈ میں جب دونوں کے درمیان مقابلہ ھوا تو ڈاکٹر اشرف غنی نے ۵۵ فیصد ووٹ لئے جبکہ ڈاکٹر عبداللہ نے ۴۷ فیصد ووٹ حاصل کئے اور اس طرح انتخابات انتہائی متنازعہ ھوئے۔ اور ڈاکٹر عبداللہ نے نتائج ماننے سے انکار کردیا۔

پھر امریکہ کی مداخلت سے یونٹی گورنمنٹ تشکیل دی گئی۔ جو نہایت ناکام ثابت ھوئی۔ یہ اب افغان قیادت  کا امتحان ھے کہ وہ ملک کے مفاد کس طرح ایک دوسرے کو ایڈجست کرتے ہیں۔ تاکہ جو بھی حکومت میں وہ پوری توجہ کے ساتھ امن اور استحکام کیلئے کام کرے۔

 

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.