اسفندیار ولی خان کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات

پاک افغان مذاکرات میں امریکہ،چین اور روس ثالث کا کردار ادا کریں،اسفندیار ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے عالمی امن کانفرنس کے بعدکابل میں افغان صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات کی ہے، دلگشا محل میں ہونے والی ملاقات میں اسفندیار ولی خان اور اشرف غنی نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نقصان دونوں اطراف بسنے والے پختونوں کا ہو رہا ہے، اس موقع پر اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مذاکراتی دور پھر سے شروع ہونا چاہئے لیکن مذاکرات صرف اسی صورت میں تمام افغانوں کیلئے قابل قبول ہونگے، جب یہ مذاکرات افغان حکومت کی سربراہی میں ہوں، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ امن اور صلح کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے، افغان مسئلے کے حل کیلئے تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ،چین اور روس ثالث کا کردار ادا کریں اور اس دوران پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے، اسی طرح حکومت ہاکستان بھی بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے پہلی فرصت میں افغانستان کے ساتھ ٹرین سروس کے ذریعے تجارت کا آغاز کرے اور دونوں ملکوں کے عوام کو آزادانہ سفر کی اجازت دی جائے تاکہ آپس میں دوستانہ تعلقات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ بحال کیا جا سکے،انہوں نے افغان صدر کے سامنے مذاکراتی عمل کے حوالے سے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت افغانستان کی سربراہی اور ملکیت کے بغیر مذاکرات بے معنی اور بے نتیجہ ہونگے، امن مذاکرات کے حوالے سے افغان صدر اشرف غنی کی کوششیں قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں افغان سرزمین پر امن کانفرنس کا انعقاد کیا جس کی ضرورت تھی۔
اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب پشتون ہی نقصان اٹھارہے ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی اور حکومتی سطح پر جنگ کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں،افغان صدر کا کہنا تھا کہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے پاکستانی قیادت پر واضح کیا تھا کہ اگر غربت، توانائی بحران اور دیگر مسائل پر قابو پانا ہے تو افغانستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ صدق دل سے بڑھانا ہوگااور اس سلسلے میں اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈلائن کے پار ادیب،دانشوروں اور محققین کی تحاریر افغانستان میں شائع کی جائیں گی تاکہ افغان عوام بھی اس سے مستفید ہوسکیں اور موجودہ مشکلات کے حل کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ امن ہمارا بڑا مطالبہ اور ترجیح ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.