طالبان، امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر راضی ہیں: عباس ستانکزئی

افغان طالبان نے امریکا کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر امریکی صدر ٹرمپ مستقبل میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہیں تو ان کے دروازے کھلے ہیں۔

بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ،طالبان کے امن مذاکرات کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے اصرار کیا کہ مذاکرات ہی افغانستان میں امن کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے آگے آکر بات چیت کا آغاز کریں۔

شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے ہزاروں طالبان کو قتل کیا لیکن اسی دوران اگر ایک بھی امریکی فوجی کو قتل کردیا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں اس طرح کا رد عمل دینا چاہیے کیونکہ دونوں طرف سے سیز فائر نہیں ہے۔

تاہم ، جب شہریوں کی اعلی ہلاکتوں پر دباؤ ڈالا گیا تو ، اس نے غیر ملکی افواج کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ 2019 کے پہلے نصف میں باغیوں کے مقابلے میں افغان اور امریکی افواج کے ذریعہ زیادہ عام شہری مارے گئے۔

شیر محمد عباس نے تصدیق کی کہ طالبان نے امن مذاکرات میں مدد کے لیے روس اور چین تک رسائی حاصل کرلی تھی۔

یاد رہے کہ افغان کےطالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدے بعد تقریباً معاملات طے پاچکے تھے جس کی تصدیق زلمے خلیل زاد کی جانب سے بھی کی گئی تھی تاہم کابل دھماکوں کے بعد امریکی صدر نے طالبان سے مذاکرات کا عمل منسوخ کردیا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.