طالبان امریکہ مذاکرات:طالبان کی جیت؟ ?By default or by Design

تفصیل ویڈیو رپورٹ میں

طالبان امریکہ مذاکرات میں فائدہ صرف اور صرف طالبان کو ہوا۔ کیا یہ منصوبے کا حصہ تھا۔ یا یہ سب کچھ بائی دیفالٹ ہوا ھے۔

مذاکرات شروع کرنے سے پہلے افغانستان اور پوری دنیا میں طالبان ایک دہشت گرد، جنگجو اور دیہاتی گروپ کے طور جانے جاتے تھے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کی کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ انکے روابط نہیں تھے۔

لیکن اج امریکہ کے ساتھ ایک سال مسلسل بات چیت کے بعد انکا امیج مکمل طور تبدیل ہو چکا ھے۔ کامیاب مذاکرات کے بعد طالبان نے دنیا پر ایک ایسا تاثر چھوڑا ھے۔ کہ وہ نہ صرف جنگی میدان میں لڑنے کی صلاحیت رکتھے ہیں بلکہ وہ بہترین سفارت کار اور بہترین ساست کار بھی ہیں۔ کیونکہ پورے مذاکراتی دور عمل انھوں نے دنیا کے سپر پاور کے سفارت کاروں کو بڑی مات دی ۔ اور انھیں مسلسل دباو میں رکھا۔ ان پر اپنی ساری مطالبات منوائے دیے۔ جبکہ انکا ابھی تک ایک مطالبہ بھی نہیں مانا ھے۔

مذاکرات شروع کرنے سے پہلے طالبان کا بیرونی دنیا کے ساتھ کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک انکے رابطے تھے۔ لیکن اج انکا پوری دنیا اور خصوصا بڑی طاقتوں جیسی چین، روس، جرمنی، برظانیہ اور امریکہ کے ساتھ خصوصی رابطے ہیں۔ انھوں نے دنیا کے تقریبا ہر اہم ملک کے دورے کئے۔ طالبان راہنماوں نے بلاشبہ افغان صدر اشرف غنی سےزیادہ ملکوں کے راہنماوں سے ملاقاتیں کیں۔

افغانستان میں انھیں ایک جنگجو دیہاتی ٹولے کے طور جانا جاتا تھا۔ عمومی تاثر یہ تھا۔ کہ وہ پاکستان کے کنٹرول میں ھے اور وہیں سے افغانستان اکر حملے کرتے ہیں۔ لیکن اس پورے ایک سال میں انھوں نے پوری دنیا سمیت افغانستان میں اپنی مسلمہ حثیت منوائی ھے۔ اب وہ ایک مضبوط افغان ٹولے کے طور پہچانے جاتے ہیں۔

ان پر جتنی سفری پابندیاں تھیں وہ ہٹائی گئی ھے۔ دہشت گرد لسٹ سے انکے نام نکالے جا چکے ہیں۔ انھوں نے دینا پر یہ بات ثابت کردی ھے۔ کہ وہ جنگی میدان سمیت اچھی سیاست بھی کرسکتے ہیں اور وہ اچھے اور بہترین سفارت کار بھی ھے ۔ افغانستان میں وہ تاثر بھی زائل کردی گئی کہ طالبان عورتوں، تعلیم اور ترقی کے مخالف ہیں۔ دنیا پر یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ طالبان افغانستان کے علاوہ کہیں بھی اپنا نظریہ زبردستی منوانے کی کوئی منصوبہ نہیں رکھتے ۔

اب سوال یہ ھے ۔ کہ امریکہ نے پورا سال لگا کر طالبان کی بہترین امیج سازی کی اور اخر میں جب معاھدہ تیار ھوا تو پیچھے ہٹ گئے۔ کیا اسکا مطلب تو یہ نہیں لیا جاسکتا ھے۔ امریکہ نے جانے انجانے میں بڑی غلطی کی۔ اور وہ ٹولہ جنھیں وہ دیہاتی جنگجو سمجھتے تھے۔ انھوں نے دنیا کی سپر پاور کو سفارت کاری، سیاست کی میدان میں بڑی مار دی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.