قبائلی اضلاع: پختونخوا کے گلے میں ہڈی، وفاق نے منہ موڑ لیا

83 ارب سالانہ ترقیاتی پروگرام، دو ماہ میں ایک پائی بھی جاری نہ کیا جا سکا

لحاظ علی

پشاور: قبائلی اضلاع کے لئے 83 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو منظور ہوئے دو ماہ سے زائد گزر گئے لیکن ایک پائی بھی جاری نہ کیا جا سکا۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ کے عدم اجرا ءپر وفاق کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مالی سال 2019-20 میں قبائلی اضلاع کے لئے163 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی جن میں ترقیاتی کاموں کے لئے 83 ارب روپے مختص کئے گئے تھے بجٹ دستاویزات کے مطابق 83 ارب روپوں میں 11 ارب روپے خیبر پختونخوا حکومت جبکہ باقی 72ارب روپے وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔اخراجات جاریہ کے لئے مختص 80ارب روپے بھی وفاقی حکومت ادا کرے گی۔

خیبر پختونخوا حکومت نے رواں سال جون کے آخری ہفتہ میں رواں مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی تھی۔بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھا گیا ہے خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے بندوبستی اور قبائلی اضلاع کے لئے الگ الگ اخراجات جاریہ اور ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کے بندوبستی اضلاع کے لئے 236 اور سات قبائلی اضلاع کےلئے 83ارب روپے کی ترقیاتی فنڈ کی منظوری دی تھی ۔

صوبائی حکومت نے بندوبستی اضلاع کے لئے پہلی قسط کے طور پر 27 ارب روپے جاری کئے ہیں لیکن جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے دو ماہ گزر جانے کے باوجود قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہ کیا جا سکا۔

رابطہ کرنے پر صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ابھی تک قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ کے اجرا ءمیں تاخیر ہو رہی ہے لیکن یہ فنڈ خیبر پختونخوا حکومت نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیا جا ئے گا صوبائی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ کے عدم اجرا ءکا مسئلہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل میں اٹھایا جائے گاکیونکہ ترقیاتی فنڈ نہ ہونے کے باعث قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام بند ہو کر رہ گئے ہیں۔

دو ہفتے قبل صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بتایا تھا کہ ملک اس وقت مالی بحران سے دوچار ہے صوبائی حکومت نے بہت مشکل سے پہلی قسط کی ادائیگی کی ہے بہت جلد قبائلی اضلاع کے لئے بھی ترقیاتی فنڈ جاری کیا جائے گا۔ قبائلی اضلاع کے لئے وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے 11 ارب روپے جاری کئے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ صوبائی حکومت وفاق کی طرح شدید مالی بحران کا شکار ہے محکمہ خزانہ نے متعدد بار وفاقی حکومت کو قبائلی اضلاع کے لئے فنڈزکے اجراءپر امادہ کرنے کی کوشش کی لیکن صوبائی حکومت کو کوئی جواب نہیں دیاگیا قبائلی اضلاع میں ترقیاتی فنڈ کے عد م اجراءکے باعث سرکاری عمارتوں کی تعمیربالخصوص عدالتوں اور صوبائی سرکاری محکموں کے لئے نئی عمارتوں کی تعمیر التواءکاشکار ہوگئی ہے

قبائلی اضلاع میں ڈپٹی اوراسسٹنٹ کمشنرز کے لئے اسوقت دفاترمخصوص ہیں لیکن انضمام کے باوجودعمارتیں نہ ہونے کے باعث عدالتیں کرایے یا غیرمناسب سرکاری عمارتوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔

خیبرپختونخواکابینہ کے ایک اہم وزیرنے بتایاکہ قبائلی اضلاع انضمام کے بعد صوبائی حکومت کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے جسے نہ اگلاجاسکتاہے نہ ہی نگلاجاسکتاہے انہوں نے کہاکہ وفاقی سطح پر ایک اعلیٰ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈ کے اجراءکانکتہ اٹھایا تو وزارت خزانہ کے سیکرٹری نے بتایاکہ کچھ ہوگا تودینگے خزانہ خالی ہے توآپ کو کیادے سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.