افراسیاب خٹک، بشریٰ گوہر کے بعد لطیف افریدی اے این پی سے اوٹ

پارٹی ڈسپلن خلاف ورزی پر پارٹی کی سننٔر کیڈر فارغ۔ - الزام ھے تینوں نئی قوم پرست جماعت تشکیل دینے کی کوشش کر رھے تھے

تحریر: لحاظ علی

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی قیادت کی جانب سے لطیف آفریدی سمیت مرکزی رہنماﺅں کی رکنیت کے خاتمے کے باعث کارکن شدید تذبذب کاشکار ہیں اورپارٹی کے مختلف حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ نوارد صوبائی صدر ایمل ولی خان کس طرح پارٹی کے بانی رہنماﺅں کی رکنیت ختم کررہاہے

تاہم پارٹی کے بعض اہم رہنماﺅ ں کاخیال ہے کہ اے این پی میں ڈسپلن برقراررکھنے کےلئے اس طرح کے سخت اقدامات ضروری تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر پیر کے روز پارٹی کے اہم مرکزی رہنما عبدالطیف آفریدی کی رکنیت معطل کرنے کی بجائے ختم کردی اسی طرح پارٹی سے تعلق رکھنے والے واحد خاتون سینیٹر ستارہ ایاز کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل اے این پی نے پارٹی کے اہم مرکزی رہنماﺅں افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کی بنیادی رکنیت ختم کردی تھی ۔

اے این پی کے ایک اہم صوبائی رہنما نے رابطہ کرنے پربتایاکہ پارٹی کے اندر ڈسپلن برقراررکھنے کےلئے سخت فیصلوں کی ضرورت تھی عبدالطیف آفریدی قانونی امور کے ماہرہونے کے علاوہ پارٹی آئین کے بھی خالق ہیں انہوں نے خود 20جولائی کے انتخابات میں ضلع خیبر کے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوارکے مقابلے میں اپنے بیٹے دانش آفریدی کو میدان میں اتاراتھا ۔

لطیف آفریدی نے اپنے بیٹے کی ٹکٹ کے لئے درخواست بھی نہیں دی تھی جسکے بعد پارٹی کے کئی اہم رہنماﺅں نے صوبائی کابینہ میں اس امرکی شکایت کی تاہم ماضی میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے رہنما محمدتقی جواس وقت امریکہ میں مقیم ہے  نے ٹوئٹ کی کہ پارٹی کے بانی رہنماﺅں کی حیثیت سے اے این پی کو لطیف آفریدی کی ضرور ت تھی لطیف آفریدی کواے این پی کی ضرورت نہیں تھی پارٹی ہمیشہ اہم رہنماﺅں کا خیال رکھتی ہے ۔

1986ءمیں اے این پی کے قیام کے وقت لطیف آفریدی باچاخان اور ولی خان کے ساتھ بانی رہنماﺅں میں شمار کئے جاتے ہیں تاہم بعدازاں ان کے پارٹی سے اختلافات پیداہوئے اورانہوں نے افضل خان لالا کے ساتھ مل کر پختونخوا قومی پارٹی تشکیل دی بعدازاں اسی سیاسی جماعت کو اے این پی میں ضم کیاگیا۔

پارٹی کے ایک اہم سینئررہنما نے لطیف آفریدی کے متعلق بتایاکہ پی ٹی ایم کےساتھ قریبی روابط کے باعث لطیف آفریدی ہمیشہ اجلاسوں میں زیربحث لائے جاتے تھے لیکن مرکزی رہنماﺅں کاخیال تھاکہ ایک وکیل کی حیثیت سے لطیف آفریدی کسی بھی شخصیت کاکیس لڑسکتے ہیں تاہم پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال تھاکہ وہ افراسیاب خٹک اوربشریٰ گوہرکےساتھ مل کر ایک نئی قوم پرست جماعت کوتشکیل دینے کی بھی کوشش کررہے ہیں لیکن اس متعلق کوئی بھی رہنماثبوت پیش نہیں کرسکا۔

کچھ عرصہ قبل پارٹی کے مرکزی انتخابی عمل کے دوران جب افراسیاب خٹک سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوارتھے توان کے مقابلے میں لطیف آفریدی نے کاغذات نامزدگی جمع کئے تھے جسکے بعد اسفندیارولی خان کی جانب سے مفاہمت کی کوششوں کے بعد دونوں نے کاغذات واپس لے لئے اورمیاں افتخارحسین کو سیکرٹری جنرل منتخب کیاگیا پارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق لطیف آفریدی کے ساتھ عمران آفریدی اور ایاز وزیر کو بھی شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے تھے لیکن لطیف آفریدی کے علاوہ ان دونوں نے اپنے جوابات جمع کردیئے۔

لطیف آفریدی سے قبل بشریٰ گوہر،افراسیاب خٹک،ہاشم بابراورفریدطوفان جیسے اہم رہنماﺅں کی بھی بنیادی رکنیت ختم کی گئی تھی پرویزمشرف کے دور میں قریبی تعلق رکھنے پر اسوقت کے مرکزی صدر اجمل خٹک نے بھی اے این پی سے اپنی راہیں جداکی تھیں پارٹی کے صوبائی رہنما مرحوم ارباب ایوب جان بھی اجمل خٹک کی کشتی میں سوارہونے کے باعث اپنی رکنیت کھوچکے تھے۔ بلورخاندان اور ولی خاندان کے مابین بھی اس وقت سردجنگ جاری ہے جس کے باعث بلورخاندان نے باچاخان مرکز کے ساتھ رابطے کم کئے ہیں ۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر کرکٹ میچ میں سینیٹرستارہ ایاز نے ایم کیوایم کے بیرسٹرسیف کو صوابی آنے کی دعوت دی لیکن اپنے ہی پارٹی کے ضلعی تنظیم کومکمل نظرانداز کیا جس کے بعد ان کے خلاف مسلسل شکایات آنے شروع ہوگئے پارٹی کے ایک رہنماکے مطابق ستارہ ایازکی پشت پر ہمیشہ اعظم ہوتی کھڑے ہوتے تھے اب اعظم ہوتی منوں مٹی تلے دفن ہوچکے ہیں توستارہ ایازبھی اکیلی ہیں جسکے باعث انہیں شوکاز کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹی کے صوبائی صدرمنتخب ہونے کے بعد ایک صحافی نے جب ایمل ولی خان سے سوال کیاکہ ماضی میں کئی اہم رہنماپارٹی کا اثاثہ ہواکرتے تھے اب وہ رہنمامنظر نامے سے غائب ہےں تو ایمل ولی نے کہا کہ پارٹی سے کوئی بھی بالاترنہیں ہرشخصیت کو پارٹی کا تابع رہناہوگا ڈسپلن پارٹی کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔جب ان سے یہ پوچھاگیاکہ یہ کس طرح کا ڈسپلن ہے کہ ایک شخص پارٹی کا مرکزی صدر اسکا بیٹا صوبائی صدر اوربیٹے کا سسر دوسرے صوبے کاصدر ہے توایمل ولی خان نے کہاکہ میں نے کسی کوکاغذات جمع کرنے سے منع نہیں کیا کوئی بھی میرے خلاف کاغذات جمع کرسکتاتھا ۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے لطیف آفریدی نے کہاکہ پارٹی رکنیت خاتمے کے بعد اب وہ آزاد ہو چکے ہیں اب پارٹی کی بجائے صرف لطیف آفریدی زندہ باد۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مستقبل کالائحہ عمل کیاہوگا توانہوں نے کہاکہ ساتھیوں سے مشاورت کے بعد مستقبل کا فیصلہ کیاجائیگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.