کیا طالبان۔امریکہ معاہدہ افغانستان میں امن لائے گا؟

پشتون گزٹ رپورٹ

امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ فائنل ہوگیا ۔ اور تمام شعبوں پر اتفاق ہوگیاہے ۔ دستخطوں کے لئے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا جارہاہے ۔ اور دوحہ میں اسکی تیاری بڑی زوروشور سے جاری ہے ۔
معاہدے کو ختمی شکل دینے کے بعد قطر کے وزیر خارجہ نے تمام حالات کا جائزہ لیا ۔ انھوں نے افغان طالبان اور امریکی نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہے ۔ اور دستخطی تقریب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔ طالبان اور امریکہ دونوں کی طرف سے خوش آئندبیانات آرہے ہیں ۔ دونوں فریقین افغان عوام کو خوش خبریاں سنا رہے ہیں ۔ دستخطی تقریب میں پاکستان ،چین اور روس خصوصی طور پر شرکت کرینگے ۔ کیونکہ تینوں ممالک افغان طالبان کی طرف سے ضامن ہونگے ۔ کہ طالبان امن معاہد ے پر مکمل عمل کرینگے ۔ اور امریکی افواج کی انخلا کی صورت میں کسی قسم کی زور زبردستی کا استعمال نہیں کرینگے ۔ دوسری طرف ذراءع کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اور قطر امریکہ کی طرف سے ضمانت دینگے ۔ کہ وہ معاہدے پر عمل کرینگے ۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد طالبان افغان قیادت سے بات چیت کا آغاز کرینگے ۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس میں افغان حکومت کے نمائندے باقاعدہ شرکت کریں گے ۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ افغان امن کے حوالے اصل مشکلات سامنے آئیں گے ۔ جب طالبان اور افغان قیادت کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا ۔
کیونکہ ملک میں نظام حکومت کیا ہوگا؟ آئین میں کیا اور کونسی تبدیلیاں لانی ہوگی؟ ور سب سے بڑھ کر عبوری حکومت کی حیثیت کیا ہوگی ۔ اور طالبان خصوصا ان کے جنگجوءوں کو کس طر ح کہاں ایڈجسٹ کیا جائے گا؟
جس طر ح امریکہ طالبان مذاکرات تقریبا ایک سال پر محیط رہے ۔ تو تجزیہ نگاروں کی نظر میں افغان ،افغان مذاکرات ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ طو ل پکڑے کیونکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان صرف دو تقا ضوں پر بات چیت ہورہی تھی ۔ یعنی امریکی افواج کا انخلا اور طالبان کی طرف سے یقین دہانی کہ افغان سرز مین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی ۔
لیکن طالبان اور افغان سیاسی قیادت کے درمیان تو اصل ایشوز پر بات ہوگی ۔ جسکا تعلق افغانستا ن کی مستقبل حکومت اور نظام سے ہے ۔ جوکہ یقینی طور پر صبر ازما اور طویل ہوسکتی ہے ۔
اصل مسئلہ افغان عبوری حکومت کا قیام ہوگا ۔ کیونکہ طالبان کسی بھی صورت ڈاکٹر اشرف غنی کو افغان صدر نہیں مانتے ہے ۔ اور اعلان بھی کیاہے ۔ کہ ڈاکٹر صاحب اگرووٹوں سے منتخب ہوئے یا دیگر طریقوں سے تو طالبان انہیں بالکل نہیں مانتے ۔
اور دوسری طرف گزشتہ کئی مہینوں میں ڈاکٹر اشرف غنی کی پوزیشن افغان عوام میں کافی مقبول ہوئی ہے ۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے خوب میڈیا کا استعمال کرتے ہے ۔ افغان عوام خصوصا خواتین اور طالبان مخالف دھڑوں کو ڈرایا ہے ۔ کہ جس طرح سویت یونین کی افواج کے انخلا کے بعد جو خانہ جنگی ہوئی تھی ۔ اسی طرح امریکی افواج کی انخلا کے بعد قوی امکان ہے ۔ کہ ملک دوبارہ خانہ جنگی میں دھکیلا جائے ۔ اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہو ۔ اور ان کی یہ بات لوگوں کو اپیل کرتی ہے جس سے ان کو سپورٹ بڑھی ہے ۔
اس طرح افغان طالبان کے اندر بھی اختلافات کی خبر یں آرہی ہے ۔ کچھ فیلڈکمانڈر ز اپنی قیادت سے ناراض ہے ۔ اور چاہتے ہے کہ جہاد جاری ہو اور امریکہ کو میدان جنگ میں ہی شکست دیں ۔ قوی امکان ہے کہ طالبان کی مزید دھڑے پیدا ہوجائینگے ۔ یا زیادہ تر جنگجوءوں کی وفاداریاں داعش کی طرف چلی جائےگی ۔
افغان امن کو اور بھی کئی خطرات ہے ۔ وہ ممالک جن کا افغانستان میں پراکسیاں ہے کیا وہ مکمل طور امن معاہدے کو سپورٹ کریں گے ۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے ۔ کیونکہ افغانستان میں ایران پاکستان اور بھارت کے متحرک پراکسی ہیں اور خطے کی صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے ۔ تو انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہو ں ۔ عین ممکن ہے کہ وہ انٹی پاکستان پراکسی کی کسی نہ کسی حدتک سپو رٹ جاری رکھیں ۔ تاکہ پاکستان کے لئے سابقہ قبائلی علاقوں اور بلو چستان میں ایک واضح خانہ جنگی کی صورتحال جاری رہے ۔ اور ان کی زیادہ تر فوجیں وہاں مصروف عمل رہے ۔
اسی طرح اس وقت ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف نبرد ازما ہیں ۔ امریکہ نے ایران کو کافی تنگ کیا ھے ۔ امریکہ اس خطے میں بری طرح پھنسا ہوا ھے ۔ اورجب تک امریکہ اس خطے میں رھے گا انھیں کسی نہ کسی حد تک خصوصا افغانستان میں ایران کی مدد کی ضرورت رھے گی ۔ ایران نہیں چاہے گا کہ امریکہ اتنی اسانی سے فتح کی شادیانے بجا کے نکل جائے ۔ اور ان کی کوشش ہوگی کہ افغانستان میں امریکہ مخالف قوتوں کی مدد جاری رکھیں ۔
اب ایسی صورتحال میں ظاہر ھے پاکستان بھی لا تعلق نہیں رہ سکتا ھے ۔ پاکستان کی نہ صرف انڈیا پر نظر ہوگی بلکہ وہ ایران پر بھی نظر رکھیں گا ۔ اگر انڈیا نے افغانستان میں کسی بھی طرح پاکستان مخالف قوتوں کی سپورٹ جاری رکھی تو پاکستان دوبارہ اپنے پراکسی کو زندہ کر سکتا ھے ۔
اسی لیئے اگر امریکہ اور دنیا کی دیگر طاقتیں چاہتی ھے کہ افغانستان میں دیرپا امن قائم ہوں تو سب سے پہلے افغانستان میں جس بھی ملک کی پراکسیاں ہیں سب سے پہلے ان سے ایک انڈرٹیکنگ لیں کہ وہ دوبارہ کسی بھی وجہ سے کسی بھی پراکسی کو سپورٹ نہیں کریں گے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
1 تبصرہ
  1. Kristina کہتے ہیں

    Fine way of telling, and nice piece of writing to get
    data regarding my presentation subject, which i am going to convey in academy.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.