افغان امن عمل کو پیش مشکلات۔ کوئی ٹھوس امن معاھدہ ہوتے نظر نہی ارہا

تفصیلی ویڈیو رپورٹ

خیال تھا کی اگست کے وسط میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاھدہ ہو پائے گا۔ لیکن افغان امن کا پروسیس شروع میں جتنا اسان لگ رہا تھا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ھے۔اہستہ اہستہ ہر سطح پر اختلافات سامنے انا شروع ہوئے ہیں جس نے کسی بھی ممکنہ معاھدے کو  مشکل بنایا ھے۔

ایک طرف اگر امریکہ اور طالبان میں فوج کی انخلا کے حوالے اختلافات سامنے اگئے ہیں تو دوسری طرف خبریں ارہی ھے کہ طالبا قیادت کے درمیان بھی فوج کے انخلا کے ٹائم فریم کے حوالے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ساتھ ساتھ یہ خبریں بھی آرہی ھے۔ کہ طالبان کے جنگجووں کمانڈروں اور سیاسی قیادت میں بھی اختلافات سامنے اگئے ھیں اور فیلڈکمانڈرز سمجھتے ہیں کہ مشاورت کی عمل میں انھیں نظر انداز کیا گیا ھے۔ اور وہ لوگ جنکا اٹھارہ سالہ لڑائی اور جدوجہد میں کوئی کردار نہیں اب پورے تحریک کے مستقبل کے حوالے فیصلہ کرنے بیھٹے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال کہ طالبان کے اندرونی ممکنہ اختلافات کی وجہ سے مزاکرات تاخیر کا شکار ھوئے ہیں۔

کوئٹہ میں بم دھماکے نے۔ جس میں طالبان کے امیر ملا ھیبت اللہ کے بھائی مارے گئے ہیں۔ نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ھے۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ حملہ مخالف طالبان گروپ نے کیا ھے جو اپنے اپ کو میدان میں لانے کا سوچ رھے ہیں اور اس حملہ سے طالبان اور دنیا کو اپنی موجودگی کا پیغام دینا چاھ رھے تھے۔ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ کچلاک والی کاروائی طالبان کا اندرونی معاملہ لگ رھا ھے۔ واللہ عالم۔

ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات میں کافی تناؤ اگیا ھے۔ کیونکہ طالبان پاکستان کی بات ماننے کیلئے تیارنہیں ۔ طالبان نے پاکستان کے طرف سے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت اور ممکنہ جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کیا ھے۔طالبان سمجھتے ہیں کہ ان دو مطالبات کو مان کر وہ کمزور ہوجائیں گے اور اندرونی اختلافات بھی بڑھ کھل کر سامنے اجائیں گے۔

مطلب یہ ھے کہ افغاب امن عمل شروع ہی سے مشکلات کا شکار لگ رھا ھے۔ دوسری طرف افغان صدر داکٹر اشرف غنی بھی کافی بولڈ نظر ارھے ہیں اب وہ کھل کر کہ رھے ہیں کی صدارتی انتخابات ہر صورت ہونگے۔ اور حکومت سے بات چیت کیئے بغیر کوئی امن معاھدہ کامیاب نہیں ھوگا اور نہ ھو سکتا ھے۔پہلے صرف طالبان کی طرف سے حکومت کو نظر انداز کیا جا رھا تھا۔ اب ڈاکٹر غنی بھی طالبان کو نظر انادز کررھا ھے۔ امن معاھدہ ہو یا نہ ہو الیکشن ضرور ہونگے۔

اس کے ساتھ اب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مزاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں ارہا ھے۔ اور نہ عبوری حکومت کا اب تک کوئی حدوخال واضح ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ دونوں انے والے صدارتی انتخابات میں مصروف ھے۔ اور طالبان کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کیلئے انیھیں کوئی جلدی نہیں ڈاکٹر اشرف غانی نے تو علان کیا ھے کہ افغانستان میں اور جنگ کا خاتمہ امریکہ ۔طالبان مذاکرات سے نہیں بلکہ افغان حکومت اور طالبان کی مذاکرات سے ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.