سپریم کورٹ نے جج ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے جج ویڈیواسکینڈل کیس کا فیصلہ جاری کردیا ، جس میں کہا گیا معاملہ پہلےہی اسلام آبادہائی کورٹ میں ہےابھی فیصلہ نہیں دےسکتے، کیس سے متعلق تمام پٹیشنزکوخارج کیاجاتاہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ آج صبح 9 بج کر30 منٹ پرسنایا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید نے کہا کہ  کیس کا فیصلہ لکھ دیا جو 5 نکات پر مشتمل ہے، ہمارے سامنے 5 نکات لائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ  وہ کون سا فورم ہے جس پر اس ویڈیو کا فرانزک کیا جائے،اگر ویڈیو اصل ثابت ہوجائے تو اسے کیسے عدالت میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا ایشوتھاکہ نوازشریف سےمتعلق ویڈیو ہے کہ نہیں اور ویڈیومستند ہونے کے نواز شریف کیس پر کیا اثرات ہوں گے جبکہ سابق جج ارشد ملک کے کنڈکٹ کو بھی فیصلےمیں بیان کیاگیا، عدالت کے سامنے یہ سارے ایشوز ثابت کرنا ہوتے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ویڈیومستنداورمضمرات سے متعلق ابھی فیصلہ جاری کرنا بہتر نہیں، معاملہ پہلے ہی اسلام آبادہائی کورٹ میں ہے ابھی فیصلہ نہیں دے سکتے، ایف آئی اے کی جانب سے معاملے کی تحقیقات پہلے ہی جاری ہیں۔

عدالتی فیصلہ میں کہا گیا کیس سےمتعلق تمام پٹیشنز کو خارج کیا جاتا ہے ، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

فیصلے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھناہوگا ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ چاہےتوفیصلےکودوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج سکتی ہے، ٹرائل کورٹ فریقین کوسن کرکیس سے متعلق فیصلہ کرسکتی ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ واپس بھیجنے کا حکم جاری کر دیا، نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا ارشد ملک کے خلاف تادیبی کارروائی لاہور ہائی کورٹ کرے گی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ہدایت پر قائم مقام رجسٹرار کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی اورپریس ریلیزمیں اعتراف جرم کرلیا، ارشد ملک بادی النظر میں مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم نواز نے ایک  پریس کانفرنس کے دوران احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ انہیں بلیک میل کرکے اور دباؤ ڈال کر نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے پر مجبور کیا گیا تھا، وگرنہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔ تاہم ارشد ملک نے ایک روز بعد پریس ریلیز جاری کرکے مریم نواز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.