مارگلہ کے دامن ميں پشتو کتاب ”د مارگله نه تر کابله“ کی پزيراٸ

تحریر : م ر شفق

مارگله کے دامن میں پشتو ادبی سوساٸٹی اسلام آباد واحد پشتو ادبی تنظیم هے جس نے اپنے قیام میی 1986 سے لیکر اب تک ادبی سرگرمیاں جاری رکهی هیں۔پشتو زبان و ادب کی ترقی و اشاعت کے لیٸے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے ادبی مذاکروں سیمیناروں اور مشاعروں کا اهتمام کرتی آیی ہے اور اس تسلسل کو ٹوٹنے نهیں دیا ۔

اس کۓ لیے ادبی سوسایٹی کی مجلس عمل کے تمام اراکین تعریف کے مستحق هیں لیکن زیاده کریڈیٹ سوسایٹی کے سيکرٹری جنرل اقبال حسین افکار کو جانا چاہٸے جو روح رواں هیں اور هر قسم کے حالات میں اپنی سرکاری ذمه داریوں اور گهریلو مجبوریوں مشکلات کے باوجود ادبی سوسایٹی کو زنده اور فعال رکها ہوا ہے ۔ ادبی سوسایٹی هر ماه کے پہلے پير کو شام پانچ بجے ادبی نشست کا اهتمام کرتی هے جو اکادمی ادبیات پاکستان کے رایټرز هاؤس میں ہوا کرتی هے۔

بروز پیر 5 اګست 2019 ماہانه اجلاس منعقد ہوا اس میں اقبال حسین افکار کی نیی کتاب ” د مارگله
نه تر کابله “ <مارگله سۓ کابل تک کی رونمایی ہویی کتاب 15ادبی رپورتاژوں پر مشتمل ہے گویا افکار صاحب نے کسی حد تک عصر رواں میں پشتو ادبی سرگرمیوں کی تاریخ محفوظ کر دی @ معروف خاکه نگار جناب ګل محمد بیتاب نۓ کتاب کا دیباچه لکها ہے اور یه کتاب افغان سفارت اسلام آباد کے کلچر آتاشی حضرت علی هوتک کے شخصی مالی تعاؤن سے منظر عام پر آیی ہے ۔

تقریب کی صدارت چیرمین سوسایټی محمود نۓ کی جبکه نظامت کے فرایض سردار یوسفزٸ نے ادا کرديے مهمان خصوصی افغان سفارت کا کلچر آتاشی حضرت ولی ھوتک تهے جن کی مالی تعاون سۓ افکار صاحب کی کتاب منظر عام پر آٸ خورشید ابن لبید نۓ نھایت خوش آوازی سے نظم پیش کی سردار یوسفزٸ، رحم زمان خټک ،اکبر سیال ، حساس خټک ، نادم خټک، اور م ر شفق نے اظهار خیال کیا انهوں نے افکار صاحب کو مبارکباد دی اور ادبی کاوشوں کو سراہا مقررین نے حضرت علی هوتک کی معاونت کا از حد شکریه ادا کیا ۔

چیرمین ادبی سوسایٹی اور صدر مجلس محمود احمد نے فرمایا اگر یه کتاب افغانستان کی حکومت چهاپتی تو مجهے شکریه ادا کرنیکی ضرورت نه ہوتی کیونکه یه اس کا فرض بنتا ہے هوتک صاحب نے اپنی تنخواه سے رقم کاٹ کر کتاب کی اشاعت میں ہاتھ بٹهایا ہے انکی جتنی بهی تعریف کی جاۓ کم ہے محمود احمد نۓ زبان پشتو ادب کی اہمیت اور پشتو ادبی سوسایٹی کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

آخر میں غیر طرحی مشاعره ہوا سردار یوسفزٸ خان کریم افریدی وقار علی شاہ درياب، اکبر سیال، رحم زمان خٹک، محمد سعید نادم خٹک، حساس خټک، اقبال حسین افکار حسینں آفکار ، افتخار مومند اور م ر شفق نے کلام سنایا ۔

تقریب میں دوسروں کے علاوه نامور مصور مناف ، رفعت خټک اور ډاکټر ناصر مومند بهی شریک هو ۓ ۔ خاص بات یه بهی قابل ذکر هۓ که اراکین سوسایٹی نے حسب روایت ایک ایک کتاب قیمت ادا کرکے وصول کی مهمانوں نۓ بهی کتابیں خرید لیں۔ تعزیتی قراردوں میں غزل گو شاعر بشیر زار حیران خټک صاحب کے بہنوٸ اور رحیم خان مجروح کی بهنوٸ کی وفات پر اجتماعی دعا ے مغفرت کی گٸ ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.