پاک-بھارت تجارتی تعلقات معطل!کس کو کیا فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا؟

مجموعی تجارت کا حجم تقریباً 2.4ارب ڈالر۔ بھارت کی برآمدات ایک ارب 80کروڑ ڈالر جب کہ پاکستان صرف34کروڑ ڈالر ہے

پشتون گزیٹ رپورٹ
پاکستان نے بھارت سے تجارتی تعلقات معطل کردئے ہیں۔ اس اقدام سے کس کو کیا فائدہ اور کس کو نقصان ہوگا ؟اس بارے میں معاشی ماہرین اور تاجر برادری کا اتفاق ہے کہ زیادہ نقصان بھارت کو پہنچے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کا توازن بھارت کے حق میں ہے۔

دونوں ممالک کے مابین مجموعی تجارت کا حجم تقریباً 2.4ارب ڈالر ہے جس میں بھارت کی برآمدات تقریباً ایک ارب 80کروڑ ڈالر ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان بھارت کو صرف34کروڑ ڈالر کی اشیاءبرآمد کرتا ہے ۔

دونوں ممالک کے تجارتی مواقع کو گہری نظر سے دیکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک میں 37ارب ڈالر تک تجارت پہنچ سکتی ہے لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان سے تجارت میں ہمیشہ متعصب طرز عمل اختیار کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان سے تجارت میں بھی صرف اپنے مفاد تک محدود رہا ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ باہمی تجارت میں بھارت کے80فیصد برآمدات کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات صرف20فیصد تک محدود رہی ہے

بھارت پاکستان سے برآمد ہونے والی اشیاءروکنے کے لئے حیلے بہانوں سے سہارا لیتا رہا ہے رواں سال فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد بھی بھارت نے پاکستانی برآمدات پر 200فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کردی تھی اور پاکستان کی موسٹ فیورٹ نیشن ( ایم ایف این ) کی حیثیت بھی ختم کردی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان سے بھارت کو جانے والی سینکڑوں سیمنٹ کے ٹرک رک گئے تھے اور کھجور کی تجارت بھی متاثر ہوئی تھی اسی طرح اپریل میں بھی بارڈر سے جانے والی اشیاءکو یہ کہ کر روک دیا گیا کہ ان اشیاءکی آڑ میں اسلحے اور جعلی کرنسی کی اسمگلنگ کا خدشہ ہے ۔

بھارت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باعث دونوں ممالک کی تجارت کو فروغ نہیں مل سکا ہے اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت بھارت کے دنیاسے مجموعی تجارت کا صرف0.31فیصد جب کہ پاکستان کا 3.2فیصد ہے ۔دونوں ممالک کے مابین تجارت کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ پاکستان بھارت یا بھارت پاکستان پر انحصار کرتا ہو چونکہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں اتار چڑھاو آتا رہتا ہے پھر بھارت بھی تجارت بڑھا کر پاکستان کو سہارا دینے کے حق میں نہیں ہے اسلئے زیادہ تر ایسی اشیاءکی تجارت کی جاتی ہے جس کی قلت پیدا ہوجائے یا فوری طور ضرورت کو پورا کرنا ہو لیکن جتنی تجارت ہے اس میں بھی بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتا ہے

برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بھارت کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات کا انحصار روئی ،کاٹن یارن اور ٹیکسٹائیل پر ہے جس کو نقصان پہنچانے کے لئے بھارت کپاس کی فصل تیار ہونے پر پاکستان سے سستی روئی درآمد کرکے بعد میں مہنگا پاکستان کو ہی فروخت کرتا ہے جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمد کو متاثر کرنے کے لئے برآمد کنندگان کو سبسڈی دے کر پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں اپنی مصنوعات پیش کرتے ہیں

اسی طرح پاکستانی چاول دبئی میں اپنے برانڈز سے فروخت کرتے ہیں جب کہ پاکستانی مصنوعات کے نام پر غیر معیاری مصنوعات سپلائی کرکے بھی پاکستانی تجارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کے علاوہ دنیا بھر میں بھارت اپنے کمرشل اتاشیوں کے زریعے اپنی برآمدات کے لئے نئے مواقع ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی جڑیں کاٹنے کی زمہ داری نبھا تے ہیں اس لحاظ سے بھارت کا طرز عمل پاکستان کے معاملے میں انتہائی افسوسناک ہے ۔

اس تناظر میںمودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارت سے تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہونے سے پاکستان کو خاص فرق نہیں پڑے گا ۔البتہ بھارت کو سالانہ ایک ارب 80کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچے گا اس کے علاوہ بھارت کی کوشش تھی کہ بارڈر نہ لگنے کی وجہ سے وہ پاکستان کے زریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرے جس کے لئے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حصہ بننے کے لئے بھارت کوشش کررہا تھا

جو اب ممکن نہیں رہاجب کہ سی پیک منصوبے میں بھی بھارت شامل ہونے کی کوششیں کررہا تھا جس کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں ۔بھارت پاکستان کو کاٹن یارن ،ٹیکسٹائیل ،چینی ،مشینری اور کیمکل،سبزیاں اور پھل برآمد کرتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان کی بھارت کو برآمدات سیمنٹ ، کھجور،ٹیکسٹائیل ،لیدر اور سبزیوں پر مشتمل ہے پلوامہ واقعے کے بعد کھجور برآمد کنندگان نے سری لنکا کی مارکیٹ میں انٹری ڈال دی ہے جبکہ سیمنٹ برآمدات کے لئے بھی متبادل مارکیٹیں تلاش کی جاسکتی ہیں اسی طرح قلت کی صورت میں بھارت سے آلو پیاز درآمد کئے جاتے ہیں پاکستان کو ملکی پیدوار بڑھانے پر توجہ دینی پڑے گی اور صرف باہمی تجارت ختم ہونے تک محدود ہونے کے بجائے عالمی مارکیٹ میں بھارت سے تجارتی جنگ لڑنے کے لئے بھی اقدامات کرنے پڑیں گے۔

حکومتی فیصلے کی ضمن میں خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاجر برادری نے بھی پاک بھارت تجارت معطلی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں حکومت اور پاک فوج کی جانب سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا تاجر برادری مکمل طور پر حمایت کرے گی اور تجارت تو کیا جان دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.