11 مرتبہ اپنی تباہی اوربربادی کا تماشا دیکھنے والا پشاور آج بھی "شہرِ ناپرساں ‘‘

4 ہزارسال پرانا مہابھارت میں تحریرکردہ پنج تیرتھ،بدھاکا بڑامندر "شاہ جی ٹیریاں",گورگٹھڑی،فاتحِ میوند ایوب خان, بی بی جان کے قبرستان تباہ

تحریر:شکیل وحیداللہ خان
پشاور برصغیرپاک وہندکا ایساشہر ہے جو 11 مرتبہ اپنی تباہی اوربربادی کا تماشا دیکھنے کے باوجود پورے آب وتاب کے ساتھ آج بھی زندہ ہے ۔ اس شہرکے ہم عمرشہرصرف ایک بارتباہ ہوئے اورتاریخ کے اوراق کا حصہ بن کر کھنڈرات کی صورت اختیارکرکے عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔ ہڑپہ، موہنجوداڑواورٹیکسلا کی مثالیں سب کے سامنے ہے ۔

پشاورکی تاریخ ڈھائی ہزارسال سے بھی پرانی ہے ۔ اس شہرپرکبھی انگریزوں نے توکبھی سکھوں نے حکومت کی ۔ انگریزوں نے اس شہر کو پُل، سڑکیں ، ریلوے ٹریک اور ایریگیشن نظام دیا جوآج بھی تقریباً ویسے کے ویسے ہی ہیں ، جبکہ سکھوں نے حکومت بھی کی اورضرورت پڑنے پر اس شہرکے درودیوارکو تباہ وبربادکرنے میں کوئی کسربھی باقی نہیں رہنے دی تھی ۔

پشاورہندوستان ، افغانستان اوروسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اوردوسرے ممالک کیلئے کاروباری مرکز ہواکرتاتھا ۔ دنیاکے مختلف لوگ کاروبارکے حوالے سے یہاں کا رخ کرنے پر اپنے ساتھ مختلف قسم کے رنگ برنگی پھول یہاں پراُگانے کیلئے لاتے تھے اس طرح سال کے 12 مہینے اس شہر میں ہرطرف پھول ہی پھول ہواکرتے تھے اسی لئے اس شہرکو پھولوں کا شہرکہاجاتارہا ہے ۔ لیکن افسوس کے موجودہ حکومت نے اب اسے پھولوں کےی بجائے پُلوں کا شہربناکر اس کی تاریخی حیثیت مسخ کرکے رکھ دی ہے ۔ 28 تاریخی باغات پر مشتمل ڈھائی ہزارسالہ اس تاریخی شہر نے ہرمشکل وقت میں ہرقبیلے ، ہرقوم اورہرفردکو اپنے سینے سے لگایا ۔ اپنی آغوش میں سب کو پناہ دیکر اس شہرنے لوگوں کو اچھی تعلیم وتربیت ، رہائش،صحت اورروزگاردیا ۔

اس شہر میں ہندکو بولنے والے، یوسف زئی، محمدزئی، آفریدی، شنواری، شیخ محمدی،محسود، افغانی باشندے سینکڑوں سالوں سے آبادہے ۔ یہ شہرسیاسی طورپر صوبے کا دارلخلافہ ہے ۔ ہرسیٍاسی پارٹی نے اسی شہرسے صوبے پرحکومت کی لیکن اس شہرسے سب کچھ چھین کر اسے کچھ نہیں لوٹایاگیا ۔ جووزیراعلیٰ بھی آیا وہ رہتایہاں لیکن کام اپنے اپنے اضلاع میں کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ یہاں کے صنعتکاروں نے بھی اس کی تعمیروترقی میں کوئی کردارادانہیں کیا ۔ جیساکہ سیالکوٹ کے صنعتکاروں نے سیالکوٹ شہرکے درودیوارکو دنیاکے ترقیافتہ ممالک کے برابرلاکھڑاکرکے وفاداری اوراپنے شہرسے محبت کی لازوال ایسی داستان رقم کی جس پر اُس شہرکا بچہ بچہ فخریہ انداز میں اپنے صنعتکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

اس شہر میں رنجیت سنگھ کا تباہ کردہ قلعہ بالاحصارجسے اُس نے بعد میں تعمیربھی کیا وہ قلعہ بالاحصارعوام کی دسترس سے باہرسیکیورٹی فورسزکے قبضے میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرکے ہماری بے بسی اورلاچاری پر سوالیہ نشان بناہواہے ۔ 4 ہزارسال پرانا مہابھارت کے صفحات پرتحریرکردہ پنج تیرتھ اب چاچایونس پارک بن کر تاریخ کے منہ پرزوردارطمانچہ بن چکاہے ۔ یہ تاریخی پنج تیرتھ تباہ ہونے سے پہلے ہم سے اپنی باقیات زندہ رکھنے کی بھیک مانگتے مانگتے تاریخ کے قاتلوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور اب تاریخ کا حصہ بن چکاہے ۔

وزیرعلی خان کا مشہورتاریخی باغ وزیرباغ تباہی اوربربادی کی دہلیزپارکرنے لگاہے ۔ اس کے رقبے پر ناجائزتعمیرات نے اسے سکڑکررکھ دیاہے ۔ بدھاکا سب سے بڑامندرجسے شاہ جی ٹیریاں کہاجاتاتھا وہ بھی اب نہیں رہا ۔ ٹھنڈاکھوئی (کنواں ) اورسخی چشمے کا ٹھنڈاپانی اب صرف سننے کی حدتک یاداشت کا حصہ بن چکاہے ۔ قصہ خوانی بازارکے مشہوراورمسحورکن طلسماتی ماحول ہو یاوہاں پر جنگِ آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے فرنگیوں کے ہاتھوں سینکڑوں کی تعداد میں شہدائے قصہ خوانی کی یادیں ہو، ہندوستان فلم انڈسٹری پرراج کرنے والے راج کپورکی حویلی ہویا دلیپ کمارکے گھرکی یادیں ہو سب تباہی اوربربادی کے منتظرہم سے اپنے بچاءو کی بھیک اب بھی مانگ رہے ہیں ۔

فاتحِ میوندکے ایوب خان کا مقبرہ ہویابی بی جان کی تباہ حال قبرکی تباہ صورتحال ہو، رحمان باباکی یادیں ہویاجنگِ آزادی کے مشہورہیرو صنوبرحسین کاکا جی کے خستہ حال قبر کا نظارہ ہو، فصیلِ شہرکے ٹوٹے پھوٹے باقیات ہوں یا نما تباہ حال عکاسی ہویہ شہر اپنی تباہی اور بربادی پر یہاں کے ہرفرد، ہرقوم، ہرقبیلے، ہروزیر، ہرسیاستدان اورہرادارے سے اپنی تباہی اوربربادی پر ایک ہی سوال کررہاہے کہ آخراس شہرکا قصورکیاہے کہ سب کو ماں جیس محبت اور اپنی آغوش میں پناہ دیکر بھی اس شہرکو ترقی اورخوشحالی سے دوررکھاگیاہے ۔ اس شہرکے لہولہان درودیواراورزخمیوں سے چورچورگلی اوربازاروں کو ترقیاتی پیکج سے کیوں نہیں نوازگیا ۔

اس شہرنے حکمرانوں کی ناکردہ گناہوں اورغلط پالیسیوں کی قیمت بم دھماکوں ، خودکش حملوں کی صورت میں وصول کیالیکن آج تک اس شہرکی قربانیوں کو حکومتی سطح پر کوئی پزیرائی ملی ہے اور نہ ہی مردان اور سوات کی طرح ا سے کوئی تمغہ دیاگیاہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شہر کے تاریخی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے اسکے تاریخی مقامات باغات اور باقیات کا تحفظ کیا جائے اس شہر کے تاریخی مقامات کے مطعلق کتابچے لکھے جائیں ان مقامات پر اس مقام کی تاریخ تحریر کی جائے اس شہر میں آباد افغانستان کے شہریوں کو ایک سال کے کاروباری ویزے دیکر انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جلال آباد کو پشاور کا جڑواں شہر اور اسلام آباد کو کابل کا جڑواں شہر قرار دیکردونوں طرف کے شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیئے جاءئیں تاکہ ترقی اور خوشحالی کا دور دورا ہو اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیئے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے ۔

یہاں کے صنعتکار آگے بڑھ کر اسکی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اس شہر کو دوبارہ پھولوں کا شہر بنانا ہم سب کی زمہ داری ہے حکومت کو چاہیئے کہ تمام تاریخی باغات کو قبضہ مافیا سے وار گزار کرواکر اسے پھر سے اس شہر کا حصہ بنایا جائے ۔ یا د رہے جس نے تاریخ کو مٹایا تاریخ نے اس قوم کو اپنے صفحات سے مٹایا ۔ جس نے تاریخ سے منہ پھیرا تاریخ نے اُسے عبرت کا نشان بنایا ۔

اس شہر نے ہمیں عزت دی دولت دی تعلیم دی تربیت دی صحت دی شناخت دی رہنے کے لیئے جگہ دی اب اسکی حفاظت حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی مشترکہ زمہ داری بنتی ہے ۔ یہ شہر حجرہ نہیں بلکہ ہمارے وجود کہ حصہ ہے آئیے اسے آباد کریں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.