صحت انصاف کارڈ، اور غریب قبائل کی عمران خان کو دعائیں

کارڈ میں ایمرجنسی کے ساتھ دل، گردے، کینسر، ہیپا ٹائیٹس اور شوگر سمیت تمام بڑے امراض کا مفت علاج شامل ہے

شمس مومند
پاکستان کے سیاسی کلچر میں ایک دوسرے کے ترقیاتی کاموں پر اپنی تختیاں لگانا اور شیخیاں بگارنا معمول کی بات ہے، مگر کہا جا تا ہے کہ حقیقی نیکی ایک ایسی چیز ہے جسے پانی بھی بہا کر نہیں لے جاسکتی،پیپلز پارٹی حکومت کے شروع کردہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اسکی زندہ مثال ہے ۔

اگرچہ اپنے ابتدائی دور میں یہ پروگرام نیکی کم اور سیاسی رشوت کے طور پر زیادہ استعمال کیا گیا ۔ مگر اس کے باوجود چونکہ اس کا فائدہ کروڑوں غریب لوگوں کو مل رہا تھا ، تو نواز اور عمران حکومت کو مخالفت کے باوجود نہ صرف یہ کہ اس پروگرام کو بند کرنے کی ہمت نہ ہوئی بلکہ اس کی کامیابی کے اعتراف میں اس کا نام تک تبدیل نہیں کیا ۔ اور وہ پروگرام آج تقریبا دس سال بعد بھی جاری و ساری ہے اور غریب خواتین نواز اور عمران حکومت میں بھی بنک سے پیسے نکال کر بے نظیر بھٹوکی روح کو دعائیں دے رہی ہے ۔

تقریبا اسی طرح صحت انصاف کارڈ سابقہ پختونخوا حکومت کا وہ بے مثال کارنامہ ہے ۔ جس سے ہزاروں غریب اور بے بس مریض روزانہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اور عوام میں اس کی پزیرائی اور اہمیت کا یہ حال ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح اب کوئی ما ئی کا لال بھی اسے ختم کرنے یا اس کا نام تبدیل کرنے کی جرات نہیں کرے گا ۔

تحریک انصاف حکومت کی مثبت سوچ اور کچھ کرنے کی خواہش اپنی جگہ، مگر اس حکومت کے بی آر ٹی اور بیلین ٹری سونامی جیسے زیادہ تربڑے منصوبے تنازعات اور بد انتظامی کا شکار رہے ۔ صحت انصاف کارڈ عوامی فلاح و بہبود کا وہ واحد منصوبہ ہے جو چھوٹی موٹی خامیوں کے باوجود کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نہ صرف اس کی قدر وقیمت آشکارہ ہو رہی ہے بلکہ اسکو وسعت اور پزیرائی بھی مل رہی ہے ۔

صحت انصاف کا رڈ کی سہولت سے پختونخوا کی پچاس فیصد آبادی (یعنی اٹھارہ لاکھ خاندان جنکے افراد کی تعداد ایک کروڑ چوالیس لاکھ بنتی ہے )گزشتہ چار سال سے مستفید ہورہی ہے ۔ ۔ اب وفاقی حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا دائرہ قبائلی اضلاع تک بڑھا دیا ہے اور اس میں مزید بہتری یہ لائی ہے کہ قبائلی اضلاع کے تمام گیارہ لاکھ خاندانوں کو یہ کارڈ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ یعنی خیبر پختونخوا کے برعکس قبائلی اضلاع میں یہ کارڈ صرف غریب خاندانوں کو نہیں بلکہ تمام قبائل کو ملے گا اور خاندان کے سربارہ کی کارڈ پر تمام قبائلی عوام یکساں طور پر اس کے ثمرات سے مستفید ہونگے ۔ اس کارڈ کے چیدہ چیدہ ثمرات درجہ ذیل ہیں ۔

اس کارڈ کے حامل افراد کو منتخب سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ پرائیوٹ ہسپتالوں سے بھی مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی ۔ اس میں ایمرجنسی کے علاوہ دل گردے کینسر ہیپا ٹائیٹس شوگر سمیت تمام بڑے امراض کا علاج شامل ہے ۔ حکومت اس سکیم کے لئے سٹیٹ لاءف انشورنس کارپوریشن کو سالانہ فی خاندان صرف دو ہزارروپے ادا کرے گا ۔ جس کے بدلے میں سٹیٹ لاءف انشورنس بوقت ضرورت اس کارڈ کے حامل افراد کے علاج پر فی خاندان سالانہ سات لاکھ بیس ہزار روپے تک خرچ کرنے کا پابند ہوگا ۔ مفت علاج کی یہ سہولت صرف ہسپتال میں داخل مریضوں کے لئے ہوگی ۔ کارڈ کے حامل غریب خواتین کو ہسپتال میں داخل ہوکر زچگی کے بعد ایک ہزار روپے ٹرانسپورٹ الاونس بھی دیا جائے گا ۔ جبکہ داخل غریب مریض کی وفات کی صورت میں اسے فوری طور پر دس ہزار روپے جنازہ یا تدفین الاونس بھی دیا جائے گا ۔ اس سکیم کی سب سے بڑی اور قابل تعریف بات یہ ہے کہ سٹیٹ لاءف انشورنس کارپوریشن اس سکیم سے ہونے والی سالانہ آمدن کا اسی فیصد اس سکیم کو واپس کر نے کا پابند ہوگا ۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ یہ سکیم غریب قبائلی عوام کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ کسی غریب مریض کو جب سرکاری ہسپتال سے اس وجہ سے واپس کیا جاتا ہے کہ یہاں مزید لوگوں کے داخلے کی گنجائش نہیں اور جب اسی مریض سے پرائیوٹ ہسپتال میں داخلے سے پہلے ہزاروں روپے جمع کرنے کا مطالبہ کیا جاتاہے ۔ تو اس وقت اس کی بے چارگی ، بے بسی بلکہ مایوسی قابل رحم ہوتی ہے ۔ اس لئے ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس سکیم کے گیارہ لاکھ خاندانوں اور پچاس لاکھ افراد میں سے اگر دس لاکھ افراد کا علاج بھی اسکی عزت نفس ،سہولیات اور معیار کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا گیاتو ان کی دعائیں عمران خان کی مستقبل میں کامیابیوں کے لئے کافی ہوگی ۔ اور ملک میں اور کوئی تبدیلی آئے یا نہ آئے یہی تبدیلی ضرور نظر آئے گی ۔

صحت سہولت پروگرام خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض تنولی نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں صوبائی انتخابات کیوجہ سے الیکشن کمیشن نے ان کارڈز کی تقسیم پر پابندی لگائی تھی ۔ انتخابات کے فورا بعد اس کی تقسیم دوبارہ شروع ہوچکی ہے اور اب تک تقریبا ساڑھے چار لاکھ کارڈز تقسیم ہو چکے ہیں ۔ تاہم اگر قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے خاندان کے سربراہ کو کارڈ نہ بھی ملا ہو تو وہ اپنا شناختی کارڈ دکھاکر تمام بڑے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ لسٹ میں شامل کسی بھی ہسپتال کا عملہ یا سٹیٹ لاءف انشورنس کمپنی کے اہلکار اگر مریض کے داخلے کے بعد بھی پیسے مانگے یا مریض کو داخل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے ۔ تو کارڈ پر موجود ٹول فری نمبر پر مفت کال کرے ۔ اور اپنی شکایت کے ازالے اور دوسروں کو تکلیف سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

اس کارڈ سے صحیح طور پر اور کسی تکلیف کے بغیر فائدہ اٹھانے کے لئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایک کارڈ ایک پورے خاندان کی علاج کے لئے کافی ہے یعنی ماں باپ اور ان کے تمام بچے اس کارڈ کے ذریعے مفت علاج کر سکتے ہیں ، بشرطیکہ جس کا علاج درکار ہو، ان کے ساتھ صحت کارڈ ، خاندان کے سربراہ کا شناختی کارڈ اور اپنا شناختی کارڈ( یا اٹھارہ سال سے کم عمر ہونے کی صورت میں فارم ب) موجود ہو ۔ اس لئے تمام قبائلی عوام سے گزارش ہے کہ اٹھارہ سال سے زائد عمر کے تمام افراد فوری طور پر اپنا شناختی کارڈ بنوائے اور خاندان کے سربراہ نادرہ جاکر فوری طور پر فارم ب بنواکر اس میں اپنے تمام بچوں کا اندراج یقینی بنائے، تاکہ کسی بھی فرد کی بیماری کی صورت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اور آخر میں تمام قبائلی عوام کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ، جس نے قبائل کی قربانیوں اور مشکلات کا ادراک کیا اور ان کو بلا تفریق یہ سہولت فراہم کی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.