پاکستان نے دورے کی دعوت دی تو قبول کریں گے، افغان طالبان

ہم تو خطے اور پڑوسی ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں، پاکستان بھی جائیں گے جو ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے۔

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دورے کی دعوت دی تو اسے ضرور قبول کریں گے اور وزیراعظم عمران خان سے بھی ملیں گے، وزیراعظم نے امریکی دورے میں کہا تھا طالبان سے ملیں گے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھیں پاکستان نے دورے کی باضابطہ دعوت دی تو قبول کریں گے، ہم تو خطے اور پڑوسی ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں، پاکستان بھی جائیں گے جو ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے۔

افغان طالبان پر ماضی میں متعدد بار یہ الزام لگ چکا ہے کہ پاکستان اُن کو سپورٹ کررہا ہے ۔ تاہم حال ہی میں پاکستان بار بار یہ کہہ چکا ہے کہ اُن کا طالبان پر ماضی کی طرح اثرورسوخ نہیں رہا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ طالبان پر تو پہلے سے ہی یہ الزامات ہیں کہ وہ پاکستان کی پراکسی ہیں، تو کیا اس دورے سے افغانستان کے اندر اور باہر ان پر مزید الزامات نہیں لگیں گے؟ جس پر سہیل شاہین کا کہنا تھا وہ لوگ جن کے پاس طالبان کے خلاف جھگڑے کے لیے کوئی اور دلیل نہیں وہی ان پر اس قسم کے الزامات لگائیں گے، ماضی میں بھی لگا چکے ہیں اور مستقبل میں بھی لگاتے رہیں گے۔

ترجمان نے کہاکہ ایک تو ہمارے اسلامی اور قومی مفاد ہیں، جس میں ہم کسی کو بھی مداخلت نہیں کرنے دیتے ہیں، البتہ جہاں تک دوسرے ممالک یا پھر ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے قائم کرنے کا سلسلہ ہے، ان کے ساتھ تو ہمارے رابطے ہیں بھی اور ہم چاہتے بھی ہیں۔

افغان حکومت سے مذاکرات کے بارے میں سہیل شاہین نے کہا کہ بیرونی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے بعد طالبان تمام افغان فریقین کے ساتھ ساتھ افغان حکومت سے بھی ملیں گے، ہم نے افغانستان کے مسئلے کو بیرونی اور اندرونی دو مرحلوں میں تقسیم کیا ہے، بیرونی مرحلے کے مذاکرات اب مکمل ہونے والے ہیں جن کی کامیابی کی صورت میں پھر دوسرے مرحلے میں تمام افغان فریقین سے بات چیت کی جائے گی، جس میں افغان حکومت بھی ایک فریق کی حیثیت سے شامل ہوسکتی ہے۔

کابل سے اغوا کئے گئے امریکی اور آسٹریلوی شہریوں کی رہائی کے بارے میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہماری ہروقت یہ کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے ہوں اور گرفتار ساتھی رہا ہو جائیں، ہم نے پہلےبھی گرفتار ساتھیوں کی رہائی کے لیے قیدیوں کے تبادلے کئے ہیں اور اب بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُس میں اگر کوئی کچھ کردار کرنا چاہتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.