ریکو ڈک ہے کیا؟ پاکستانی کی جگ ھنسائی کے پیھچے اصل کہانی کیاھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ریکو ڈک میں ایک سے تین ٹریلین ڈالرز کی معدنیات موجود ہیں۔ عالمی عدالت سے چھ ارب ڈالرز کا فیصلہ ملنے کے باوجود بیرک گولڈ پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں اور اگر انہیں لائسنس دے دیا جائے تو وہ ہرجانہ معاف کردیں گے۔

ریکوڈک بلوچستان کے ضلع دالبندین ایٹمی دھماکے کے لیے مشہور ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا بے آباد اور صحرائی  قصبے کا نام ہے۔ بلوچی زبان میں ریکوڈک کا مطلب ریت کی پہاڑی ہے۔

یہ علاقہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے، جو ماہرینِ ارضیات کے مطابق ضلع چاغی ٹیتھیان میگمیٹک آرک نامی ایک ایسی پٹی کا حصہ ہے، جو یورپ سے منگولیا تک ہزاروں کلومیٹرز پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ پٹی نایاب معدنیات کے لیے مشہور ہے، جن میں پاکستان کا حصہ چاغی سے شمالی وزیرِستان تک کے نیچے ہے۔

مختلف جیولاجیکل اداروں، بشمول امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق اس پورے بلاک کی قدر و قیمت 1 سے 3 کھرب ڈالر کے درمیان ہے۔ کچھ ماہرینِ ارضیات کے مطابق یہ اندازہ بہت ہی کم ہے، کیونکہ اس اندازے میں وہ معدنیات شامل نہیں جو نئے شعبوں جیسے کہ نینو ٹیکنولاجی اور سیمی کنڈکٹر فزکس میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

یہاں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں اور گرمی انتہا کی ہوتی ہے۔ یہاں دُور دُور تک آبادی ہے اور نہ پینے کا پانی۔ میگمیٹک آرک کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں معدنیات کی موجودگی کا یقین تھا۔

معین قریشی کی وزارت عظمی اور نصیر مینگل بلوچستان کے نگراں وزرات اعلیٰ کو دورمیں نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ ایک آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کو دے دیا۔

ریکوڈک پر اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں اور گرمی انتہا کی ہوتی ہے

بلوچستان حکومت نے بی ایچ پی کے ساتھ اشتراک کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ریکوڈک سے ملنے والی معدنیات میں 75 فیصد بی ایچ پی کا حصہ طے پایا، جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان حکومت کو ملنا تھا اور اسے اس منصوبے میں کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کرنا تھی۔

اس منصوبے کو اس وقت کے نگرانوں نے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کا شاہکار قرار دیا اور ان نگرانوں کو مسلط کرنے والے بھی اس منصوبے پر معترض نہ ہوئے۔

اگلے 10 برسوں میں اس منصوبے کی ملکیت بدلتی چلی گئی۔ 2000ء میں بی ایچ پی نے ایک اور فرم مائن کور کو اس منصوبے میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد اس منصوبے کو آسٹریلیا میں ہی بنائی گئی ایک اور کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی ٹی سی) کو منتقل کردیا گیا۔ بعد میں ٹی ٹی سی پاکستان میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔ 2006ء میں کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگستا نے ٹیتھیان خرید لی۔ ریکوڈک میں ایک سائٹ ای ایل فائیو میں تلاش کا لائسنس 2002ء میں 3 سال کے لیے دیا گیا اور 2011ء تک 2 بار اس میں توسیع کروائی گئی۔

2006ء میں بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگسٹا نے چارج لیا تو تلاش کے کچھ ہی عرصے بعد زیرِ زمین اربوں روپے کے ذخائر کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ 2009ء میں بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت بنی۔ اگست 2010ء میں ٹی ٹی سی پاکستان نے فزیبیلٹی اسٹڈی جمع کروائی اور فروری 2011ء میں کان کنی کی درخواست دی گئی۔ بس اس کے ساتھ ہی اس منصوبے میں کرپشن کی کہانیوں اور معدنی ذخائر کی لوٹ مار کے اسکینڈلز نے سر اٹھانا شروع کردیے۔ پہلے سے دائر درخواستوں کے علاوہ بلوچستان کے معدنی ذخائر کی حفاظت کے نئے دعویدار بھی عدالتوں میں پہنچے ۔

مئی 2011ء میں سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ ٹی ٹی سی پاکستان کی جانب سے دی گئی کان کنی کی درخواست پر ‘منصفانہ اور شفاف’ کارروائی جلد از جلد کی جائے۔ عدالتی مداخلت کے بعد ڈری ہوئی صوبائی حکومت نے جہاں ٹی ٹی سی کا لائسنس منسوخ کردیا وہیں ٹی ٹی سی کو دی گئی سائٹس کے گرد و نواح میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے 11 نئے لائسنس جاری کردیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 11 لائسنس میں سے 5 لائسنس پاکستان اور چین میں بننے والی نئی نئی کمپنیوں کو دے دیے گئے جن کا اس سے پہلے سونے اور تانبے کی تلاش کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ یہ کمپنیاں سپریم کورٹ کے مئی میں دیے گے فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر قائم ہوئیں اور لائسنس لینے میں کامیاب رہیں۔

سپریم کورٹ میں درخواستیں دینے والے اور ان کے وکیل بڑے فخر کے ساتھ کہتے رہے کہ ہم معدنیات کا 75 فیصد ان غیر ملکیوں کو کیسے لے جانے دیں۔ اربوں ڈالر کے ذخائر میں کم از کم 50 فیصد تو ملک کو ملنا چاہئے۔

ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پُراسرار طریقے سے انجام پایا اور چین کی ناتجربہ کار کمپنیوں کو میدان میں اتار دیا گیا۔ ان درخواستوں میں ایک درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا دعویٰ ہے کہ 1993ء میں ہونے والا معاہدہ کرپشن سے لتھڑا ہوا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے افسر کا نام لیتے ہوئے وکیل موصوف نے دعویٰ کیا کہ اس افسر کو آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر 7 سال سزا بھی ہوئی۔

وکیل موصوف کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن اس افسر کو ریکوڈک کیس سے جڑے کسی الزام میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ اگر وکیل موصوف کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس کرپشن کی بنیاد معین قریشی اینڈ کمپنی نے رکھی اور انہیں مسلط کرنے والے بھی برابر کے شریک تسلیم کیے جانے چاہئیں۔

ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پُراسرار طریقے سے انجام پایا

ریکوڈک منصوبے کو متنازع بنانے میں قوم پرست بھی برابر کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے وسائل لٹنے کا شور مچایا اور کچھ قوتوں کو اس شور شرابے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ ریکوڈک کو ایک اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دیا جانے لگا اور منتخب حکومتوں کو اس منصوبے میں صرف انگوٹھا لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسٹریٹیجک اثاثہ قرار پانے کے بعد ریکوڈک کو اسٹرٹیجک اتحادی چین کے حوالے کیے جانے کی تیاری ہوئی اور 5 کمپنیاں آگے بڑھائی گئیں۔ چین تانبے کا سب سے بڑا صارف ہے اور وہ ترقی پذیر ملکوں میں کان کنی کے بدلے انہیں انفرااسٹرکچر منصوبے دیتا ہے۔ چینی حکومت کی ملکیتی کمپنی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کور (ایم سی سی) پہلے ہی سینڈک منصوبے پر کام کر رہی تھی اور دسمبر 2010ء میں اس وقت کے چین کے وزیرِاعظم وین جیا باؤ کے دورہ اسلام آباد کے دوران ریکوڈک منصوبے پر کام کی پیشکش بھی ہوئی۔

ایم سی سی کی پیشکش ٹی سی سی سے ملتی جلتی تھی لیکن اس میں صرف میٹھی گولی یہ تھی کہ رائلٹی 2 فیصد سے زیادہ دی جائے گی۔ایم سی سی اس وقت سامنے آئی جب ٹی سی سی ابتدائی کام مکمل کرکے فزیبلٹی رپورٹ جمع کرا چکی تھی اور تلاش کے کام پر ٹی سی سی 220 ملین ڈالر خرچ کرچکی تھی۔

ٹی سی سی ریکوڈک منصوبے پر 3.3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے والی تھی جو پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کا ایک ریکارڈ بن سکتا تھا۔ ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس نہ دیے جانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ انہیں بالکل سمجھ نہیں آئی کہ درخواست مسترد کرنے کی وجہ آخر کیا بنی۔ بلوچستان مائننگ ریگولیشن میں کئی ایشوز کا احاطہ ہی نہیں کیا گیا۔

بلوچستان کی معدنیات پر ڈاکہ ڈالنے کا شور مچانے والے کہتے ہیں کہ صرف 25 فیصد حکومت کو ملنا تھا، لیکن یہ مکمل درست نہیں، کیونکہ بلوچستان اور مرکزی حکومت نے اس منصوبے پر ٹیکسز کی کوئی چھوٹ نہیں دی تھی اور اس کے علاوہ 2 فیصد رائلٹی بھی دی جانی تھی۔ اس اعتبار سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو تقریباً نصف حصہ ملنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹی سی سی نے ذخائر کی مالیت کم بتائی۔ اس حوالے سے ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ ذخائر کی مالیت اس وقت سونے کی قیمت کے اعتبار سے بتائی گئی جو 60 ارب ڈالر تھی۔ ذخائر کی مالیت کا اندزاہ اس طرح ہی لگایا جاتا ہے۔

ریکوڈک منصوبے پر آئی سی ایس آئی ڈی کے فیصلے سے پہلے ہی پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مثالی نہیں رہا۔ سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے

وزیرِاعظم عمران خان کا قائم کردہ کمیشن ہماری ملکی تاریخ میں بنائے گئے دیگر کمیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کو روک کر فائدہ اٹھانے والے کاریگر کبھی سامنے نہیں آسکیں گے کیونکہ اس قسم کے منصوبوں پر اثر انداز ہونے والے طاقتور ہاتھوں کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔ اگر معین قریشی اور نصیر مینگل کی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو ان کے سرپرستوں پر بھی انگلی اٹھے گی۔

سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں بدامنی، پاکستان کے قوانین میں ابہام اور عدالتی تنازعات کا ڈر ہمیشہ ہی رہتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرمایہ کار کمپنیوں کے تحفظات مزید بڑھیں گے۔

معین قریشی اور نصیر مینگل کو ذمہ دار ٹھہرانے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے کردار بھی کسی نہ کسی کے کارندے تھے۔ عدالتی فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر کمپنیاں بنا کر لائسنس لینے اور دینے والے بھی اس جگ ہنسائی کے ذمہ دار ہیں۔ جگ ہنسائی سے بھی بڑھ کر ملک کا اعتماد ختم اور ساکھ مجروح ہوئی ہے، جسے بحال کرنے میں برسوں لگیں گے۔ پہلے سے زخم کھائی معیشت اس نقصان کی متحمل نہیں۔

1993میں بلوچستان کے وزیراعلی نصیر مینگل نے آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی کے ساتھ چاغی کے مقام پر 56 سالہ مائننگ کا ایک معاہدہ سائن کیا جس کے تحت جو بھی جوائنٹ انویسٹمنٹ ہوئی تو اس میں بی ایچ پی کا شئیر 75 فیصد اور بلوچستان حکومت کا شئیر 25 فیصد ہوگا اور اسی حساب سے ریونیو بھی تقسیم ہوگا۔ اگر بلوچستان حکومت انویسٹ نہیں کرتی تو اسے مائننگ سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے صرف 2 فیصد رائلٹی ملنا تھی۔

اس وقت تک کسی کو اندازہ نہ تھا کہ چاغی کے علاقے ریکوڈک میں کیا چھپا ہوا ہے۔

بی ایچ پی نے مائننگ کا لائسنس لے کر جب کان کنی شروع کی تو کہتے ہیں کہ معمولی کھدائی کے بعد اسے خالص کاپر اور گولڈ کے جو ابتدائی آثار ملے، اسے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔

بین الاقوامی مائننگ مارکیٹ میں یہ خبر ریلیز ہوئی تو بہت سی کمپنیاں پیچھے لگ گئیں۔ پھر ایک اسرائیلی نژاد کینیڈین کی کمپنی بیرک گولڈ نے چلی کی ایک کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر بنا کر بی ایچ پی سے ریکوڈک کا معاہدہ خرید لیا۔

2008 میں ریکوڈک میں ایکسلوریشن مکمل کرکے بیرک گولڈ نے پروپوزل جمع کروایا جس کے تحت انہیں باقاعدہ لائسنس دے کر وہاں سے تانبے اور سونے سمیت تمام دھاتوں کو نکالنے کا اختیار مل جانا تھا۔

بی ایچ پی کے ساتھ 1993 کو ہوئے معاہدے اور بعد میں جو مزید شرائط شامل ہوئیں، ان کے تحت بیرک گولڈ کی اس پروپوزل کا جواب بلوچستان حکومت نے ایک مہینے کے اندر اندر دینا تھا۔

پھر انہی دنوں ثمر مبارک مند اور کچھ دوسرے لوگ سپریم کورٹ میں چلے گئے اور یوں یہ معاملہ عدالت میں آگیا۔

افتخار چوہدری نے اس معاہدے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے بلوچستان حکومت سے کہا کہ وہ اس پر جلد فیصلہ دے۔ بلوچستان کی مائننگ کمیٹی نے تقریباً چھ سے بارہ ماہ میں فیصلہ لیا اور بیرک گولڈ کی پروپوزل ریجیکٹ کردی۔ بیرک گولڈ نے اپیل دائر کی اور سپریم کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کردیا۔

بیرک گولڈ نے یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اٹھانا تھا، سو اس نے 2012 میں عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دسمبر 2012 میں عالمی عدالت نے ریکوڈک کا چودہ میں سے صرف انہیں دو پاکٹس پر حق تسلیم کیا جن کی ایکسپلوریشن کی تھی، باقی پر پاکستان کا حق قرار دیا، تاہم بیرک گولڈ کی اپیل منظور کرلی کیونکہ انہوں نے ڈھائی سو ملین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کرکے ایکسپلوریشن مکمل کی تھی اور معاہدے کے تحت انہیں لائسنس جاری ہونا تھا۔

یوں ہم عالمی عدالت میں یہ مقدمہ دسمبر 2012 میں ہار چکے تھے۔ تاہم جرمانے کا تعین کرنے کیلئے عالمی عدالت نے ابھی مزید وقت لینے کا فیصلہ کیا۔

پھر مزید کارروائی ہوتی گئی۔ بیرک گولڈ نے پاکستان پر 11 بلین ڈالرز کا ہرجانہ کیا تھا جو کہ پچھلے سال اکتوبر میں منظور ہوجاتا لیکن پاکستان کے وزیرقانون فروغ نسیم نے لندن میں اپنی ٹیم کے ذریعے جواب داخل کیا جس پر مزید تین مہینے کی مہلت مل گئی۔

بالآخر 12 جولائی 2019 کو عالمی عدالت انصاف نے 11 بلین ڈالرز کی بجائے تقریباً چھ بلین ڈالرز کی اپیل منظور کرتے ہوئے پاکستان کو ہدایت کی کہ یہ رقم بیرک گولڈ کو مہیا کرے۔

اس سارے معاملے کو افتخار چوہدری کے فیصلے سے منسلک کرکے لوگ اس پر تنقید کررہے ہیں جبکہ میرے خیال میں افتخار چوہدری نے جو بھی فیصلہ کیا، وہ ملک کیلئے بہتر تھا، کیسے، اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

بیرک گولڈ کے اپنے تخمینے کے مطابق اگلے 30 برس میں اسے ریکوڈک سے 240 سے 260 ارب ڈالرز کی آمدن متوقع تھی جبکہ پاکستان کے حصے سوائے دو فیصد رائلٹی کے، اور کچھ بھی نہیں آنا تھا۔ یہ دو فیصد رائلٹی بھی خام مال پر تھی، جبکہ بیرک گولڈ کا منافع ریفائنڈ پراڈکٹ پر تھا۔ چنانچہ پاکستان کے حصے سالانہ دس سے بیس ملین ڈالر ہی آنا تھا اور بیرک گولڈ کے ہاتھ آٹھ سے دس ارب ڈالرز۔

وال سٹریٹ جرنل کی چند سال قبل شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ریکوڈک سے حاصل ہونے والی معدنیات کا تخمینہ بیرک گولڈ نے کم بتایا تھا، اصل میں یہ تخمینہ 400 سے 600 بلین ڈالرز ہے۔

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق یہاں ایک سے تین ٹریلین ڈالرز کی معدنیات موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی عدالت سے چھ ارب ڈالرز کا فیصلہ ملنے کے باوجود بیرک گولڈ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں اور اگر انہیں لائسنس دے دیا جائے تو وہ ہرجانہ معاف کردیں گے۔

آج کے دور میں چھ ارب ڈالرز کی رقم اگر کوئی چھوڑتا ہے تو سمجھ جائیں کہ اس کی نظر اس سے کہیں بڑی رقم پر ہے۔

ابھی فوری طور پر ہمیں یہ رقم ادا نہیں کرنی۔ ابھی ہم اپیل میں جائیں گے، جس میں مزید دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران ہم اللہ کی مہربانی سے چین یا سعودی عرب میں سے کسی انویسٹر کو ڈھونڈ لیں گے جو بیرک گولڈ سے بہتر شرائط یعنی پچاس فیصد پارٹنرشپ پر ہمارے ساتھ کام کرنے کو تیار ہو اور بیرک گولڈ کا ہرجانہ بھی بھر دے۔

میرا دل کہتا ہے کہ اس معاہدے کی منسوخی اللہ تعالی کا خاص کرم تھا، اس لئے میں تمام تر اختلافات کے باوجود افتخار چوہدری کو اس کا کریڈٹ دوں گا کہ اس نے یہ یکطرفہ معاہدہ ختم کرکے پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع پیدا کیا۔ آپ سب بے فکر ہو کر اللہ تعالی سے اس کے فضل کی دعا کرتے رہیں، آنے والے دن انشا اللہ بہت اچھے ہوں گے

(سوشل میڈیا رپورٹ)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.