عمران کا دورہ امریکہ

US-Trump awaits Pakistani-Trump

پشتون گزٹ

جب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے امریکہ دورے کا سنا ہے، تب سے یہاں مقیم تحریک انصاف کے کارکن اور سپورٹرز ایک جشن کی حالت میں ہیں، خیر یہ کیفیت کوئی نئی نہیں ہے یہ تو تب سے دیکھنے میں آرہی ہے جب سے تحریک انصاف اقتدار میں آچکی ہے.

تحریک انصاف کے ذکر کے ساتھ جو پہلا خیال ذہن میں آتا ہے وہ جزباتیت کا ہوتا ہے، کارکنوں کو تو چھوڑ دیجئے وہ تو اکثر سیاسی جماعتوں میں جزباتی ہوتے ہیں یہاں پر تو سب کے سب جزباتی ہے.

عمران خان کے امریکہ دورے کے حوالے سے پہلا باضابطہ بیان دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کی طرف سے چار جولائی کو ھفتہ وار بریفنگ کے دوران آیا. انہوں نے کہا کہ عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوت پر امریکہ کا دورہ کرینگے اور ۲۲ جولائی کو امریکی صدر سے ملاقات کرینگے.

نو جولائی کو امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں اس دورے کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی بلکہ کہا کہ وہ وائیٹ ہاوس سے تصدیق کرنے کے بعد کچھ کہے گی. انہوں نے کہا کہ وہ سٹیٹ دیپارٹمنٹ کی طرف سے اس دورے کے بارے میں کوئی اعلان نہی کر سکتی لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس کو بھی اسی طرح میڈیا سے اس دورے کا پتہ چلا ہے.

اس کےبعد محمد فیصل نے ٹویٹر پہ کہا کہ اس طرح کے دورں کے بارے میں اعلانات میں احتیاط سے کام لینا چاھئے اور وقت آنے پر باظابطہ اعلان کیا جائیگا. اب کوئی محمد فیصل کو بتائے کہ چار جولائی کو آپ نے جو اعلان کیا تھا وہ مزاق تھا یا اب امریکی بیان کے بعد آپ مزاق کر رہے ہیں؟
امریکہ کا یہ بیان روس کے اس بیان کے چند روز بعد آیا ہے جس میں روس نے وزیر اعظم عمران خان کو روس آنے کے دعوت سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا.
خیر امریکہ میں تو تحریک پاکستان کے کارکنوں کا جشن دیکھنے کے قابل ہے، خان صاحب آئے یا نہ آئے بس یہی اعلان ان کے لئے کافی تھا، فیس بک پر مختلف قسم کے پیجیز بنائے جا رہے ہیں، وٹس ایپ پر مختلف پروگرام بنائے جار ہے اور ایسا ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی جیسے کہ یہ دنیا کا ایک انھوکہ دورہ ہونے کو ہے، اس سے امریکہ کو ایک بہت بڑا فائدہ ہوگا اور دنیا کا نقشہ ایک دم سے بدل جائگا. ساری دنیا سے لیڈرز واشنگٹن آتے ہیں ملاقاتیں کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ عمران خان کا دورہ اس سے زیادہ کوئی اہمیت کا حامل ہوگا.
آج کے اس جزباتیت کو دیکھ کر شکاگوں کے اس پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر ملک عمران کا وہ ویڈیو بار بار آنکھوں کے سامنے آرہا ہے جس میں انہوں نے تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اور ان کی اھلیہ جو دونوں امریکہ میں ڈاکٹر ہے اور ایک جھیل پر انکا گھر ہے وہ یہ سب کچھ بیج کر پاکستان جارہے ہیں، جس کی وجہ سے شاید میری طرح بہت سے سادہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر پاکستان گئے بھی ہونگیں لیکن ڈاکٹر صاب ابھی تک پاکستان نہیں گئے شاید مصروفیت کی وجہ سے بھول گئے ہونگے.
جزبات میں آکر فیصلے اور اعلانات کرنا ھمیشہ شرم کے باعث بنتے ہیں، کسی بھی فیصلہ یا اعلان کرنےسے پہلے سوچ و بچار کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے اور تمام تر زمینی حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد فیصلے کرنے چاہئے چاہے وہ ذاتی فیصلے ہو یا حکومتی سطح پر ہو.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.