"قانون ناموس رسالت اور مذہبِ احناف”

محمد عبداللہ حنفی

جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے ہمنوا آج کل ایک بار پھر بلوں سے باہر نکل چکے ہیں اور بڑی شدومد کے ساتھ قانون ناموس رسالت پر اعتراضات کرکے بہت سے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں…

نہ جانے کیوں جب سے پاکستان میں قانون ناموس رسالت بنا ہے اس وقت سے لیکر آج تک اس کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے… مغرب کو راضی کرنے کے لیے نام نہاد مذہب پرست اس قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ایک پلاننگ کے تحت موقع بہ موقع سازشیں کی جاتی ہیں…کبھی کہا جاتا ہے کہ قانون ناموس رسالت فقہ حنفی کے مطابق نہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ قانون رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ للعالمین کے منافی ہے…
آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی بہت سے لوگ تاویلات کرکے صحیح قرار دے رہے ہیں… افسوس اس پر ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی اس اہم ترین قانون سے مکمل طور پر واقف نہیں بلکہ ہمارے مدارس و کالج کے طلباء تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ فقہ حنفی گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں کیا کہتی ہے.

فقہ حنفی میں گستاخ کی کیا سزا تجویز کی گئی ہے…؟ اور آج کل کس طرح ہُشیاری کے ساتھ اس قانون کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کی کوششیں جاری ہیں…!
اعتراض : پاکستان میں بننے والا قانون ناموس رسالت چونکہ فقہ حنفی کے مطابق نہیں، جبکہ پاکستان میں اکثریت امام ابو حنیفہ کی پیروکار ہے، لہذا اس قانون میں ترمیم کرکے اسے فقہ حنفی کے مطابق بنایا جائے

جواب سمجھنے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ گستاخ رسول کی سزا کے بارے میں احناف کے دو گروہ ہیں
1_متقدمین 2_ متاخرین
متقدمین احناف کے ہاں اگر کوئی مسلمان گستاخی کا مرتکب ٹہرے تو اس کی سزا وہی ہے، جو سزا مرتد کی ہے
اور اگر کوئی ذمی گستاخی کرے تو اس کو حدا قتل نہیں کیا جائیگا بلکہ تعذیر لگائی جائے گی… ہاں مصلحت کے پیش نظر امام اس کے قتل کا حکم صادر کرسکتا ہے…ان حضرات کے نزدیک اگر گستاخ توبہ کرلے تو اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی

متاخرین کی رائے یہ ہےکہ گستاخی چاہے ذمی کرے یا کوئی مسلمان… بہرصورت گستاخ کی سزا صرف اور صرف قتل ہے اور یہ قتل حدا ہے نہ کہ ارتدادا یا تعذیرا…اور حدود میں توبہ قبول نہیں کی جاتی اس لیے گستاخ کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے صرف اور صرف قتل کیا جائے گا

اب آتے ہیں اصل جواب کی طرف :
بات دراصل یہ ہےکہ فقہی قانون کے تحت "حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں”… متقدمین کے زمانے میں گستاخ کی سزا میں تخفیف اس لیے تھی کہ اس وقت اسلام کا عروج تھا، مسلمان سے گستاخی کا تو تصور بھی نہیں تھا اور کافر بھی گستاخی کرتا ہوا سو بار سوچتا تھا، اسلیے اس زمانے میں یہ سزا بھی بہت سخت تھی… لیکن جب متاخرین کے زمانے میں کفار کو عروج ملا اور مسلمانوں کی جمعیت ٹوٹ گئی تو کفار بھی سرکش ہوگئے اور وہ مسلمانوں کے جذبات کو بار بار ٹھیس پہنچانے لگے… تو حالات کے تقاضے کے مطابق متاخرین نے بھی ائمۃ ثلاثہ کے قول کی طرف رجوع کرلیا… اور اب احناف کا بھی وہی مذہب ہے جو دیگر ائمۃ کا ہے، لہذا تصویر کا ایک رخ پیش کرکے اعتراض کرنا بہت بڑی سازش ہے…

باقی رہا یہ مسئلہ کہ احناف نے ان کے قول کی طرف رجوع کیوں کیا…؟ تو اسکا جواب یہ ہےکہ احناف نے صرف اسی مسئلے میں مذہبِ غیر پر فتوی نہیں دیا… بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی مسائل میں احناف مذہب غیر پر فتوی دیتے رہے ہیں… کیا احناف نے زوجِ مفقود کے بارے میں مذہبِ غیر پر فتوی نہیں دیا…؟ کیا بینکنگ کے مسائل میں مذہب غیر پر فتوی نہیں دیا گیا…؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو پھر صرف قانون ناموس رسالت کے بارے میں اس قسم کے اعتراضات چہ معنی دارد…؟

دوسرا جواب: اس اعتراض کا ایک دوسرا جواب بھی دیا جاسکتا ہے کہ احناف کے ہاں ایک مسلمہ اصول ہے کہ "حکمِ حاکم رافع للخلاف” ہوتا ہے تو جب حاکم نے ایک مرتبہ فیصلہ کردیا ، قانون بنادیا اور گستاخ رسول کی سزا مطلقا قتل تجویز کردی تو اب اختلاف رہا ہی نہیں… بلکہ احناف کا مذہب بھی دیگر ائمۃ کرام کے مذہب کے مطابق ہوگیا… بلکہ اب تو پوری امت کا اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف قتل ہے اس لیے متقدمین اور متاخرینِ احناف کے اختلاف کو بنیاد بناکر اعتراض کرنا سراسر بدنیتی ہے اور بدنیتی کا کوئی علاج نہیں..

(ادارہ: اس تحریر سے اختلافی رائے کو شائع کیا جائے گا)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.