سیکٹری بلدیات و ایڈمنسٹیٹر میٹروپولیٹن کوئٹہ کی توجہ چاہیئے

ذرا جرآت کے ساتھ

میر اسلم رند

جناب سیکٹری بلدیات و ایڈمنسٹیٹر میٹروپولیٹن کوئٹہ متوجہ ہوں میٹروپولیٹن کوئٹہ میں ذرائع آمدن کے سب سے بڑے ذرائع مختلف ٹیکسس ہیں ان میں نمایا میٹروپولیٹن کی جائیدادیں ۔ ٹریڈ لائنسنس فیس ۔بزنس فیس ۔ برتھ سرٹیفکیٹ فیس ۔ مختلف پارکس ۔ بلدیہ پلازہ موٹر اینڈ سائیکل اسٹینڈ ۔فائر برگیڈ سائیکل اسٹینڈ اور مختلف روڈز پے سائیکل اسٹینڈز ۔بکرا پڑی ۔سلاٹر ھاوس ۔آجکل مٹن مارکیٹ پارکنگ ۔بلڈنگ کوڈ سے سے لی گئی فیس اور مختلف قسم کے جرمانے جو تجاوذات و صفائی کے مد میں حاصل ہوتے ہیں اسکے علاوہ گورنمنٹ کی طرف سے جی ایس ٹی جو ہر تین ماہ بعد میٹروپولیٹن کو ملتا ہے ۔۔۔

گزشتہ پانج سال سے کوئٹہ شہر میں اے ڈی پی یعنی اینیول ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک روپے کا کام نہیں ہوا کیونکہ ھم میٹروپولیٹن والے سہی ٹیکس جمح نہیں کر سکیں اس کی وجہ یہ ہیں کے آمدن کے پیسے 30% سرکار کو ملے اور 70% خرکار کو ملے بکرا پڑی کو کئی بار نیلام کیا گیا لیکن ٹیکیدار کو ورک آڈر نہیں دیا گیا اسکے بعد بکرا پڑی کو ڈیلی ویجز پے چلایا گیا جس سے آمدن کا 30% فیصد بھی حاصل نہیں ہو سکا اس طرح لیاقت پارک اور نیو کوئٹہ پارکس کو کوڑیوں کے دام ڈیلی ویجز پے دیا گیا سائیکل اسٹینڈز پے بھی بندر بانٹ ہوتا رھا جس کی وجہ سے میں اور میرے ساتھیوں نے کولیشن پارٹنر ہونے کے باوجود اپوزیشن کا راستہ اختیار کر لیا تھا

وہ سلسلہ وہی نہیں رکا آج تک وہی سلسلے جاری ہیں اگر ریکارڈ چیک کیا جائے تو جن جن ٹھیکیداروں نے بکرا پڑی ۔موٹر سائیکل اسٹیڈ ٹھیکہ یا ڈیلی ویجز پے لئے ان کی طرف کروڑوں روپے بقایا جات موجود ہیں اور ویی لوگ اگلی بار پھر مختلف ناموں سے نیکامی میں حصہ لیتے ہیں اور بندر بانٹ سے واپس ٹھیکہ یا ڈیلی ویجز پے انہی ڈفالٹرز کو مل جاتا ھے اس وجہ سے میٹروپولیٹن کو اس مد میں سالانہ کروڑوں روہے کا نقصان ہو رھا ہیں سننے میں آیا ھے

موجود ٹیکس سپریڈنٹ نے کچھ ڈفالٹرز کے خلاف نوٹسسز جاری کئے ہیں لیکن وہ گروپس جو گزشتہ کئی سالوں سے ڈفالٹر ڈفالٹر کھیل رہے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا بہت زورآور لوگ ہیں (پنجابی کا ایک محاورہ ھے کتی چورھا نال ملی اے ) میری ایک شہری کے ناطے آپ دونوں اشخاص سے گزارش ھے اس بارے میں سنجیدگی سے غور فرمائیں کیونکہ یہ بہت بڑا نقصان ہو رھا ہیں یہ صرف دفتر کا نہیں بلکہ کوئٹہ شہر کے 35 لاکھ لوگوں کا نقصان ھے اگر ذرائع آمدن بڑھیں گے تو ترقیاتی کام بھی زیادہ ہو گا میٹروپولیٹن کے ملازمین کے بچوں کا بھلا ہو گا ؟ ورنہ صرف صوبائی حکومت کی طرف سے گرانٹ ان ایڈ کے 10 کروڑ پے گزارہ کرنا ہو گا ۔

ان 10 کروڑ سے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی نکالیں تو کوئٹہ شہر کی 10 نالیاں بھی نہیں بن سکتی؟ ۔یہ بھی سننے میں آیا ھے گزشتہ کئی ماہ سے جی ایس ٹی کے پیسے بھی صوبائی حکومت کی طرف سے ریلیز نہیں ہو رہے ہیں میٹروپولیٹن کو تقریبا 50 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنہ ھے ۔۔۔مجھے یہ بھی اندازہ ھے ہو سکتا ھے ی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.