وادئ تیراہ کی سیر

دلفریب قدرتی مناظر، معتدل موسم، سرسبز پھاڑ اور پشاور کے قریب ھونے کی وجہ سے تیراہ میں سیاحت کے وسیع امکانات

محمد اخونزادہ

تیراہ جانے سے پہلے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یہ علاقہ اس قدر خوبصورت ہوگا۔ سرسبز وشاداب پہاڑی سلسلے، ابلتے چشمے، گھنے جنگلات، پھلوں کے باغات، بہترین معتدل موسم، لاتعداد دلفریب مناظرِ فطرت اور ان سب پر مستزاد بے حد مہمان نواز اور خوبصورت لوگ۔ یقیناً وادئ تیراہ کی سیر ایک دلچسپ اور انوکھا تجربہ تھا۔ اس سفر کے محرک ومنتظم عزیز از جان تحمید جان تھے۔ برادرم مفتی شبیر احمد صاحب بھی ہمرکاب تھے۔

وادئ تیراہ سابقہ قبائلی علاقہ جات کے ضلع خیبر، ضلع کرم اور ضلع اورکزئی میں پھیلی ہوئی ہے جبکہ اس کا اک چھوٹا سا حصہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی شمالی سرحد کو بھی چھوتا ہے۔ یہاں پشتونوں کے آفریدی، اورکزئی اور شنواری قبائل آباد ہیں۔ اس وقت وادئ تیراہ کے جس حصے کی بات ہو رہی ہے، اس کا تعلق ضلع اورکزئی سے ہے۔ پشاور شہر سے ذاتی گاڑی میں کوئی سوا تین گھنٹے کی مسافت ہے۔ سڑک ابھی زیرِ تعمیر ہے جس کی تکمیل کے بعد امید ہے یہ وقت گھٹ کر تقریبًا دو گھنٹے ہو جائے گا۔

پشاور سے جی ٹی روڈ کے ذریعے کوہاٹ پہنچے۔ اس کے بعد ہنگو روڈ پر کچہ پخہ کے مقام پر تیراہ جانے کے لیے سڑک الگ ہو جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں دیگر پہاڑی علاقوں کے بنسبت وادئ تیراہ تک جانے والی سڑک میں کوئی غیر معمولی چڑھائی نہیں۔ جبن ٹاپ سب سے اونچا مقام ہے، جہاں سے وادی کے دل فریب مناظر دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔

قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردی کی لہر سے یہ علاقہ سب سے کم متاثر ہوا ہے. یہاں پر براہ راست کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نہیں پیش آیا۔ اس کی وجہ مقامی لوگوں کا شعور ہے کہ انھوں نے قبائلی سطح پر اپنے علاقے کی حفاظت کا مؤثر بندوبست کیا، اور علاقے کے امن وامان کو نقصان پہنچانے والے بیرونی عناصر کا مکمل طور پر ناطقہ بند کیا. تاہم سیکورٹی مقاصد کے پیشِ نظر ابھی تک مختلف مقامات پر لیویز اور ایف سی اہل کاروں کے ناکے موجود ہیں، اور کسی بھی نئے علاقے میں داخل ہونے کے لیے گاڑی سے اتر کر باقاعدہ شناخت کرانے کے ساتھ ساتھ آمد کا مقام اور مقصد بیان کرنا پڑتا ہے۔ ایک مقامی ساتھی کے ہمسفر ہونے کی وجہ سے ہم اس کوفت سے محفوظ رہے۔

یہ جان کر افسوس ہوا کہ ماضی میں یہاں سنیوں اور شیعوں کے درمیان خوشگوار سماجی تعلقات رہے ہیں، لیکن اب دونوں جانب سے تعلقات میں سردمہری ہے۔ اس کی وجہ ضلع کُرَم کے شہروں پاڑہ چنار اور سدہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات ہیں، جس نے یہاں بھی خوف اور بے اعتمادی کی فضا پیدا کی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس علاقے کی حد تک ابھی تک کوئی قابلِ ذکر فساد نہیں ہوا ہے۔

پختونوں کی مہمان نوازی کی قدیم روایت یہاں پورے آب وتاب سے قائم ہے۔ مہمانوں کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک تکلف کیا جاتا ہے۔ مہمان کا یہ اعزاز واکرام بلاتفریقِ مذہب ومسلک یہاں کی بنیادی قدر ہے۔ حجرے مکمل طور پر آباد ہیں، اور ہمہ وقت مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے لیے مہمانوں کی آمد خوشی اور مسرت کا پیغام ہوتا ہے، اور وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہمانوں کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں۔ عصری جامعات میں ماسٹر لیول تک رسمی تعلیم پانے والے ملکان/مشران کےنوجوان صاحبزادے مہمانوں کی جوتیاں تک سیدھا کرنے میں ایک دوسرے سے پہل کرتے ہیں۔ ملکان/مشران – جو وہاں کے بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں – بذاتِ خود مہمانوں کے سامنے بچھے جاتے ہیں، اور کسی قسم کی اجنبیت کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔

ہمارے میزبانوں میں ملکان، مذہبی قائدین اور عامۃ الناس تینوں طبقات شامل تھے۔ ان سے ایف سی آر کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی نئی سیاسی بندوبست کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ علاقے کے ملکان/مشران اسے قبائلی سماج اور روایات کے خلاف ایک سازش قراردے رہے ہیں، جبکہ مؤخر الذکر دونوں طبقات کے نزدیک یہ اقدام ان کو ملکان/مشران کی غلامی سے نجات دلا کر خطے کی تقدیر بدل دے گا۔ اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ پرانے نظام میں ملکان/مشران پولیٹیکل انتظامیہ کی آشیرباد سے علاقے کے بے تاج بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ نئے نظام میں یہ اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس چلا گیا ہے، جس پر ملکان/مشران ناراض ہیں اور عوام خوش۔

دلفریب قدرتی مناظر، معتدل موسم وآب وہوا، سرسبز وشاداب پہاڑی سلسلے اور پشاور شہر سے کم فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں سیر وسیاحت کے بھرپور امکانات ہیں، لیکن حکومتوں کی بے توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے تاحال یہ صرف امکانات ہی ہیں۔ سیاحوں کے آمد ورفت اور قیام کے لیے بنیادی ضرورت ہوٹل کلچر کا ہے، جو فی الحال یہاں بالکل ناپید ہے۔ کافی حد تک کشادہ اور ہموار وادی ہونے کے باعث یہاں پر انفراسٹرکچر کی تعمیر دیگر پہاڑی علاقوں کی بنسبت زیادہ آسان ہے۔ اگر حکومت توجہ دے تو یہ علاقہ سیروسیاحت کا قومی مرکز بن سکتا ہے، جس سے علاقے کے مکینوں کی بالخصوص اور صوبے اور ملک کی معاشی حالت بالعموم بہتر ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.