پختونخوا حکومت کا سروس رولز میں ترمیم: نوجوانوں کے ملازمت کےراستے بند

شمس مومند

پاکستان تحریک انصاف بجا طور پر یہ دعوی کر سکتی ہے کہ یہ نوجوانوں کی پارٹی ہے ۔ پارٹی میں شمولیت کے لئے نوجوانوں کے نئے پاکستان اور تبدیلی کے باقی خواب اپنی جگہ، مگر ایک کروڑ نوکریوں کا نعرہ اتنا دلفریب تھا کہ بے روزگار نوجوانوں کی اکثریت نے بلا سوچے سمجھے بلے پر ٹپا لگا دیا ۔ اس امید کیساتھ کہ بہت جلد انہیں ایک کروڑ نوکریوں میں سے میرٹ کے مطابق اپنا حصہ مل جائے گا ۔

چند ماہ قبل وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا یہ دعوی آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ کہ( دو ہفتے میں اتنی نوکریاں آنے والی ہے کہ امیدوار کم پڑجاینگے) بندہ حیران و پریشاں ہوتا ہے کہ وفاقی وزیر جیسے انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان شخص اپنے ووٹروں اور کارکنوں کیساتھ ایسا سنگین مذاق کیسے کر سکتا ہے ۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت کی باقی پالیسیاں اور اقدامات جس کیوجہ سے اب تک مبینہ طور پر اٹھارہ لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں ۔ وہ تو رہنے دیجئے ۔ پختونخوا کی صوبائی حکومت نے سروس رولز میں ترمیم کے نام پر نوجوانوں کیساتھ جو کھیل کھیلا ہے ۔ ایسا کوئی اپنے دشمن کیساتھ بھی نہ کھیلے ۔
ملک میں سول سرونٹ ایکٹ انیس سو تریہترکے مطابق یہ قانون تھا کہ سرکاری نوکری می جب کوئی بندہ پچیس سال ملازمت مکمل کرتا ہے تو وہ پنشن کا حقدار بن جاتاہے چاہے تو پنشن لے لے چاہے تو اپنی عمر ساٹھ سال مکمل ہونے تک اپنی نوکری جاری رکھے ۔ یہ ایک سادہ فارمولا تھا جس کے مطابق تقریبا چالیس سے پچاس فیصد سرکاری ملازمین پچیس سالہ ملازمت کے بعد پنشن لیکر الگ ہوجاتے اوران کے خالی ہونے والی جگہوں پر ہر سال نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہزاروں کی تعداد میں ملازمت کے مواقع مل جاتے ۔ اسی طرح باقی لوگ ساٹھ سال مکمل کرکے گھر بیٹھ جاتے جس کے بدلے ہزاروں ملازمین کو ترقی اورمزید ہزاروں نوجوانوں کو تعیناتی کا چانس مل جاتا ۔

موجودہ صوبائی حکومت نے دو تین مخصوص افراد کو نوازنے اور تین سال تک پنشن کے حقدار افراد کو پنشن کی یکمشت ادائیگی سے جان چھڑانے کے لئے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کے یونینزاور اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر صوبائی اسمبلی سے بل پاس کر کے سروس رولز میں دو ترامیم کئے ۔ جس کے مطابق سرکاری ملازمین اب ساٹھ سال کی بجائے تریسٹھ سال کی عمر تک اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں ۔

حکومت کو عارضی طور پر یہ فائدہ ہوگا کہ ہر سال یکمشت پنشن کی مد میں ادا کی جانے والی چوبیس ارب روپے کی رقم انہیں تین سال تک ادا نہیں کرنی پڑے گی ۔ لیکن یاد رہے کہ یہی چوبیس ارب سالانہ جمع ہونے اور اس میں اضافے کے بعد چوتھے سال انہی ملازمین کو ۲۷ ارب کی بجائے پھر ایک ہی سال میں تقریبا نوے90 ارب روپے ادا کرنے ہونگے ۔

مگر اس کے مزید دو نقصانات یہ ہے کہ ایک تو سالانہ تقریبا پانچ ہزار افراد کی ریٹائرمنٹ روک کر آپ نے تین سال میں پندرہ ہزار نوجوانوں کی ملازمت کا قانونی راستہ بند کردیا ۔ ثانیا یہ کہ ساٹھ سال کی عمر میں سولہ سکیل سے اوپر کاجو سرکاری ملازم اسی ہزار سے لیکر ایک لاکھ تنخواہ وصول کرتا ہے اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیا بندہ اسی سکیل میں تیس پینتیس ہزار میں بھرتی ہوتا ہے ۔ یعنی آدھی تنخواہ میں نوجوان نئی خون اور نئے عزم کے ساتھ میدان میں آتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی چلو مان لیتے ہیں کہ اس سے شاید چند ایک صحت مند ساٹھ سالہ افراد کو ریٹائرمنٹ سے بچاکر کچھ فائدہ بھی ہو ۔
مجھے حیرانگی دوسرے ترمیم پر ہے ۔ یعنی اب تک پنشن کے لئے کوالیفائنگ سروس پچیس سال تھی ۔ اب ترمیم کے ذریعے پچیس سالہ ملازمت کیساتھ عمر کی حد بھی لازمی طور پر پچپن ۵۵ سال مقرر کی گئی ۔ یعنی اب کوالیفائنگ سروس پچیس سالہ ملازمت جمع پچپن سال عمر تصور ہوگی ۔ اگر آپ اٹھارہ سال کی عمر میں بھرتی ہوئے ہیں پچیس سال ملازمت کے بعد آپ کی عمر تریالیس ۳۴ سال ہوگی ۔ مگر جس قانون میں آپ بھرتی ہوئے تھے اسکو بھول جائے اب آپ کو پنشن لینے کے لئے مزید بارہ سال انتظار کرنا ہوگا ۔ یعنی جب تک آپ کی عمر ۵۵ سال نہیں ہوگی آپ کسی بھی صورت پنشن لینے کے حقدار نہیں ہونگے ۔ اس طرح مزید چھ سے سات ہزار افراد سالانہ کی ریٹائرمنٹ اور اتنے ہی نئی بھرتی کا دروازہ بند کردیا گیا ۔
میری ناقص رائے میں یہ دونوں ترامیم مناسب ہوم ورک کے بغیر کی گئی ہیں اور اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا ۔ خاص کر کوالیفائنگ سروس پچیس سال کیساتھ ۵۵ سالہ عمر کی قید لگانا نہ صرف ان لاکھوں ملازمین کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ جو کئی سال سے پنشن کے انتظار میں ایک ایک دن گر رہے تھے ۔ بلکہ یہ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو زبردستی اوور ایج کرنے کی کوشش ہے ۔ جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد سالہا سال سے نوکریوں کے لئے درخواستیں اور امتحانات دیتے دیتے مایوس ہورہے ہیں ۔

تو اے میرے نئے پاکستان کے خواب دیکھنے والے بے روزگار نوجوانوں ہوشیار ہوجاو ۔ چند ایک افراد کو نوازنے یا عارضی طور پر بیلنس آف پیمنٹ کو کنٹرول کرنے کے لئے آپ لوگوں کا مستقبل داو پر لگایا جارہا ہے ۔ پھر نہ کہنا ہ میں خبر نہ ہوئی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.