افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور نماز جنازہ پر حملے، 37 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے زچہ و بچہ اسپتال اور ننگرہار میں پولیس کمانڈر کے جنازے پر خود کش حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق دارالحکومت کابل کے ایک زچہ و بچہ اسپتال پر مسلح افراد نے حملہ کردیا، حملہ آور اسپتال کے عقب میں واقع گیسٹ ہاؤس میں داخل ہونا چاہتے تھے تاہم ناکامی کی صورت میں بارودی مواد کو دھماکے سے اُڑا کر اندھا دھند فائرنگ کردی، حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار، 4 خواتین اور ایک بچہ ہلاک ہوگیا جب کہ 4 افراد زخمی ہیں۔

افغام سیکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور اسپتال کے ذریعے اس کے پیچھے موجود گیسٹ ہاؤس میں داخل ہونا چاہتے تھے جہاں کئی غیر ملکی بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ اسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کا انتظام ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ چلارہی ہے جس کے باعث کئی غیرملکی بھی وہاں کام کرتے ہیں۔

غیر ملکیوں نے اسپتال کے پیچھے بنی عمارت میں رہائش اختیار کررکھی تھی۔

کابل حملے کے بعد ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک سپاہی نوزائیدہ بچے کو اٹھاکر لا رہا ہے جس کے تولیے پر خون کے نشانات بھی ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ واقعے میں بچہ زخمی ہوا ہے یا نہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسپتال پر حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے،  اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ طالبان کا کابل اسپتال پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس سے قبل گزشتہ شب بھی کابل میں تین دھماکے سنے گئے تھے تاہم ان دھماکوں میں بھی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پیر کو دھماکوں کے بعد 12 گھنٹے کے دوران ہونے والے دھماکوں کی تعداد 7 ہو گئی تھی۔

قبل ازیں صوبے لغمان میں طالبان نے افغان فوج پر حملہ کر دیا تھا، جس میں 6 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے تھے۔  طالبان حملے کے بعد افغان فوج کا اسلحہ اور گاڑی بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.