طالبان کی حد سے زیادہ خود اعتمادی افغان امن مذاکرات کو ناکام بنا سکتی ھے

قطر میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹویٹر پر کہا کہ امریکہ افغانستان سے مکمل انخلا پر رضا مند ہوگیا ہے۔اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کہ وہ مستقبل میں بھی افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔قطر میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے لکھا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کیا جانے والا وعدہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔

 

لیکن دوسری جانب امریکی سفیر زالمے خلیلزاد نے اس بیان کی تردید کی ہے۔ اور کہا ھے کہ جب تک تمام مسائل پر ختمی معاہدہ نہیں ہوجاتا کوئی بھی بات حتمی نہیں ہے۔خیال رہے کہ اب تک طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے چھ دور ہو چکے ہیں جن میں قابض فوج کا مکمل انخلا سب سے اہم نکتہ رہا ہے۔دونوں فریقین میں ہونے والے مذاکرات کے چھ ادوار میں انسداد دہشت گردی، سیز فائر اور حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کا معاملہ بھی زیر بحث رہا ہے۔

اب تک ہونے والے مزاکرات میں طالبان کا پلڑہ بھاری نظر آرہاھے۔ طالبان نے امریکہ سے اب تک اپنے سارے مطالبات منوا چکے ہیں۔ حالیہ ماسکو کانفرنس میں بھی طالبان نے ایک مضبوط جماعت کی حثیت سے شرکت کی۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ باقی سب افغان سیاسی اور مذہبی لیڈران جو اس کانفرنس میں شریک تھے کی نظریں طالبان پر لگی

بايد تاسي دا هم خوښ کړيي

ځواب ورکئي

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.